میں انکشاف ہوا ہے کہ روزمرہ استعمال ہونے والے ہیڈفونز میں زہریلے کیمیکلز کی موجودگی پائی گئی ہے، جس نے خصوصاً نوجوانوں کی صحت کے حوالے سے نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خبردار! ہیڈ فونز کا مسلسل استعمال قوت سماعت متاثر کر رہا ہے
تنظیم ’ٹوکس فری لائف فار آل‘ کی جانب سے کی گئی تحقیق میں معروف برانڈز جیسے بوس، پیناسونک، سامنسنگ اور سین ہائزر کے ہیڈفونز کا تجزیہ کیا گیا۔ محققین نے 81 اِن ایئر اور اوور ایئر ہیڈفونز کا معائنہ کیا اور حیران کن طور پر ہر نمونے میں مضر صحت کیمیکلز کی موجودگی سامنے آئی۔
تحقیق کے مطابق ان خطرناک مادوں کا تعلق کینسر، ہارمونل بگاڑ، بانجھ پن اور اعصابی نشوونما کے مسائل جیسے سنگین امراض سے جوڑا جاتا ہے
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 98 فیصد نمونوں میں بِسفینولز پائے گئے جبکہ دیگر کیمیکلز جیسے فیتھالیٹس، کلورینیٹڈ پیرافنز اور فلیم ریٹارڈنٹس بھی شامل تھے جو جگر، گردوں اور تولیدی صحت کے لیے نقصان دہ سمجھے جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ہیڈفونز کا طویل استعمال خاص طور پر گرمی اور پسینے کے ساتھ ان زہریلے مادوں کو جلد کے ذریعے انسانی جسم میں منتقل ہونے میں مدد دیتا ہے۔
مزید پڑھیے: آتش بازی: بیماروں خصوصاً مائسو فونیا کے شکار افراد کے لیے ایک مشکل لمحہ
پروجیکٹ سے وابستہ کیمیکل ماہر کیرولینا برابسووا کا کہنا ہے کہ یہ کیمیکلز محض اضافی اجزا نہیں بلکہ ممکنہ طور پر ہیڈفونز سے نکل کر انسانی جسم میں منتقل ہو سکتے ہیں۔ محققین کے مطابق چونکہ ہیڈفونز طویل عرصے تک جلد کے ساتھ براہ راست رابطے میں رہتے ہیں اس لیے جلد کے ذریعے ان مادوں کا جسم میں داخل ہونا ایک سنجیدہ خدشہ ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ وہ نوجوان ان خطرات سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں جن کے جسم ابھی نشوونما کے مراحل میں ہوتے ہیں اور جو ہیڈفونز کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایپل کا 2026 کا منصوبہ: نیا بجٹ آئی فون، آئی پیڈز اور میکس متعارف ہوں گے
سماجی کارکنوں نے اسے مارکیٹ کی سطح پر ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہارمونز کی نقل کرنے والے اینڈوکرائن ڈسٹرپٹرز کے لیے کوئی محفوظ حد مقرر نہیں کی جا سکتی، اس لیے فوری ضابطہ سازی اور نگرانی کی ضرورت ہے۔














