امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں نافذ کیے گئے ٹیرف اقدامات کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ یہ اقدامات وفاقی قانون اور تجارتی اصولوں کے منافی تھے اور امریکی معیشت اور صارفین پر غیر ضروری بوجھ ڈال رہے تھے۔ اس فیصلے کے بعد ملکی اور بین الاقوامی تجارتی تعلقات میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت پر 50 فیصد ٹرمپ ٹیرف آج سے نافذ، سب سے زیادہ کون سے شعبے متاثر ہوں گے اور فائدہ کس ملک کو ہوگا؟
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ سابقہ انتظامیہ کی جانب سے درآمدات پر عائد کیے گئے ٹیرفز قانونی حدود سے تجاوز کرتے تھے۔ عدالت کے مطابق یہ اقدامات کانگریس کی منظوری کے بغیر نافذ کیے گئے اور امریکی آئین کے تجارتی ضوابط کے خلاف تھے۔
Breaking: President Trump’s global tariffs are illegal, the Supreme Court ruled, in a stinging repudiation of a signature White House initiative https://t.co/7iQtNpSzTD
— The Wall Street Journal (@WSJ) February 20, 2026
اثرات برآمدات اور درآمدات پر
ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے امریکا میں درآمدات پر اضافی مالی بوجھ ختم ہو جائے گا اور بین الاقوامی تجارتی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات بہتر ہوں گے۔ خاص طور پر چین اور یورپی ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں میں نرمی آنے کے امکانات ہیں۔

سیاسی اور اقتصادی ردعمل
ٹرمپ کی پارٹی کے رہنما فیصلے پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور اسے سابق صدر کے اقتصادی منصوبوں پر نقصان قرار دے رہے ہیں، جبکہ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے امریکی صارفین اور کاروباری اداروں کو قیمتوں میں کمی اور مارکیٹ میں استحکام حاصل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ ٹیرف برقرار، امریکی اپیلز کورٹ نے عارضی طور پر معطلی کا فیصلہ مؤخر کردیا
عالمی سطح پر ردعمل
بین الاقوامی تجارتی حلقوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے کیونکہ اس سے تجارتی رکاوٹیں کم ہوں گی اور عالمی مارکیٹ میں امریکی مصنوعات کی مسابقت بہتر ہو گی۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عالمی تجارتی نظام کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔














