پاکستان کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے کہا ہے کہ نمبیا کے خلاف اہم میچ میں بابر اعظم کو بیٹنگ آرڈر میں نیچے بھیجنے کا فیصلہ ان کے کم اسٹرائیک ریٹ کی وجہ سے کیا گیا۔
پاکستان نے گروپ مرحلے کے آخری اور لازمی فتح والے میچ میں نمبیا کے خلاف 3 وکٹوں پر 199 رنز بنائے اور 102 رنز سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے سپر ایٹس مرحلے کے لیے کوالیفائی کیا۔
یہ بھی پڑھیے: پاک بھارت ٹاکرے میں قومی ٹیم کو شکست کیوں ہوئی؟ ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے بتا دیا
بابر اعظم ٹی20 انٹرنیشنل کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں اور اب تک 4,571 رنز اسکور کر چکے ہیں، تاہم ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ پاور پلے میں ان کا اسٹرائیک ریٹ 100 سے کم رہا جو ٹیم کی حکمت عملی کے مطابق نہیں تھا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق مائیک ہیسن نے کہا کہ ‘میرے خیال میں بابر اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ورلڈ کپ میں پاور پلے کے دوران ان کا اسٹرائیک ریٹ 100 سے کم ہے اور یہ وہ کردار نہیں جو ہمیں درکار ہے۔’
ان کا کہنا تھا کہ ایشیا کپ کے بعد بابر کو ایک مخصوص کردار کے لیے ٹیم میں واپس لایا گیا تھا۔ ‘ہمارے پاس دیگر آپشنز موجود ہیں جو اختتامی اوورز میں یہ کردار زیادہ مؤثر انداز میں ادا کر سکتے ہیں۔ بابر خود بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ ٹیم کو ان کی مخصوص مہارتوں کی ضرورت ہے، لیکن کچھ مواقع پر دوسرے کھلاڑی یہ کام زیادہ بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں۔’
یہ بھی پڑھیے: پاکستانی کوچ مائیک ہیسن نیوزی لینڈ روانہ، سوشل میڈیا پر اہم پیغام بھی دے دیا
ہیڈ کوچ نے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کو ڈراپ کرنے کے فیصلے کا بھی دفاع کیا۔ شاہین نے 3 میچوں میں 101 رنز دیے تھے، جن میں بھارت کے خلاف دو اوورز میں 31 رنز بھی شامل تھے۔
ہیسن نے کہا کہ سلمان مرزا کو شاہین کی جگہ کھلانے کا فیصلہ کیا گیا اور انہوں نے شاندار بولنگ کی۔ ‘منصفانہ طور پر دیکھا جائے تو وہ دوسرے اور تیسرے میچ میں بھی کھیلنے کے مستحق تھے۔’
پاکستان سپر ایٹس مرحلے کے اپنے پہلے میچ میں ہفتہ کو کولمبو میں نیوزی لینڈ کا سامنا کرے گا۔ ہیسن نے خبردار کیا کہ نیوزی لینڈ نے حالیہ عرصے میں برصغیر میں کافی کرکٹ کھیلی ہے، اس لیے پاکستان کو اپنی بہترین کارکردگی دکھانا ہوگی۔














