لیبیا اور یونان کے ساحلوں پر پیش آنے والے 2 الگ الگ واقعات میں کم از کم 8 تارکینِ وطن اور پناہ گزین ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ متعدد افراد کو بچا لیا گیا۔
لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے قریب ساحلی قصبے قصرالاخیر میں ہفتے کے روز 5 پناہ گزینوں کی لاشیں ساحل پر بہہ کر آ گئیں، پولیس کے مطابق مقامی شہریوں نے لاشیں دیکھ کر انہیں اطلاع دی۔
یہ بھی پڑھیں: گیمبیا کے ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی کشتی الٹ گئی، درجنوں افراد لاپتا
پولیس کے مطابق تمام لاشیں سیاہ فام افراد کی تھیں جن میں 2 خواتین بھی شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی افراد نے ایک بچے کی لاش بھی ساحل پر دیکھنے کی اطلاع دی تھی، تاہم لہریں شاید اسے دوبارہ سمندر میں لے گئیں، انہوں نے بتایا کہ لاشوں کی بازیابی کے لیے ہلالِ احمر کو مطلع کر دیا گیا ہے اور مزید لاشوں کے ساحل پر آنے کا خدشہ ہے۔
5 bodies of migrants washed ashore in east of Libya's capital Tripoli, police officer says https://t.co/b90T56JFoM https://t.co/b90T56JFoM
— Reuters (@Reuters) February 22, 2026
یہ واقعہ اس سانحے کے چند ہفتوں بعد پیش آیا ہے جس میں مغربی طرابلس کے علاقے زوارہ کے ساحل کے قریب 55 افراد کو لے جانے والی ربڑ کی کشتی الٹنے سے 2 شیر خوار بچوں سمیت کم از کم 53 تارکینِ وطن ہلاک یا لاپتا ہو گئے تھے۔
دوسری جانب مشرقی بحیرۂ روم میں یونان کے جزیرے کریٹ کے قریب ایک اور کشتی حادثے میں 3 افراد ہلاک ہو گئے۔
مزید پڑھیں: کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے غیرقانونی تارکین وطن کی تعداد میں ہوشربا اضافہ
ایتھنز نیوز ایجنسی کے مطابق لکڑی کی کشتی میں سوار کم از کم 20 افراد کو بچا لیا گیا، جن میں زیادہ تر مصری اور سوڈانی شہری شامل ہیں جبکہ 4 کم سن بچے بھی ان میں موجود تھے۔
یونانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق کشتی اس وقت الٹ گئی جب امدادی کارروائی کے دوران مسافر ایک تجارتی جہاز کی سیڑھیوں پر چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے۔

یونانی کوسٹ گارڈ کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے 4 گشتی کشتیاں، ایک طیارہ اور یورپی سرحدی ایجنسی کے 2 جہاز تعینات کیے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کشتی میں تقریباً 50 افراد سوار تھے، اسی علاقے میں تقریباً 40 تارکینِ وطن کو لے جانے والی ایک اور کشتی بھی دیکھی گئی جس کے بعد ایک اور امدادی آپریشن شروع کیا گیا۔
مزید پڑھیں: ترکیہ کے مغربی ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی کشتی ڈوبنے سے 17 افراد ہلاک
ہر سال ہزاروں افراد لیبیا سے بحیرۂ روم کے راستے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، 2011 میں طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد لیبیا تنازعات اور بدامنی کے باعث افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ سے آنے والے افراد کے لیے یورپ جانے کا اہم ٹرانزٹ روٹ بن چکا ہے۔
گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ لیبیا میں موجود تارکینِ وطن، جن میں کم عمر لڑکیاں بھی شامل ہیں، قتل، تشدد، زیادتی اور جبری مشقت کے خطرات سے دوچار ہیں۔

رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا کہ جب تک انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی نہ بنایا جائے، تارکینِ وطن کی کشتیوں کو واپس لیبیا بھیجنے کا سلسلہ روکا جائے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق 2025 کے دوران اب تک 16 ہزار 770 سے زائد پناہ کے متلاشی افراد جزیرہ کریٹ پہنچ چکے ہیں، جبکہ اسی سال یونانی سمندری حدود میں 107 افراد ہلاک یا لاپتا ہوئے۔
مزید پڑھیں: برطانیہ میں اسائلم کے نئے قوانین متعارف، پاکستانی پناہ گزینوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
بڑھتی ہوئی آمد کے پیش نظر یونان کی قدامت پسند حکومت نے گزشتہ موسمِ گرما میں، خصوصاً لیبیا سے آنے والوں کے لیے، 3 ماہ تک پناہ کی درخواستوں کی کارروائی معطل کر دی تھی۔
بحیرۂ روم کا خطرناک سفر ایک بار پھر انسانی المیے کی صورت اختیار کر گیا ہے، اور یورپ پہنچنے کی امید میں جانیں ضائع ہونے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔














