وزارت داخلہ میں اسپینش ریزیڈنٹ کارڈ کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا خصوصی اجلاس ہوا جس کی صدارت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز سالک حسین نے کی۔
اجلاس میں وزارت داخلہ کی جانب سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو قانونی تحفظ اور سہولتیں فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، جبکہ وزارتِ خارجہ نے اسپینش ریزیڈنٹ کارڈ کے عمل کو مکمل سپورٹ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
یہ بھی پڑھیے: بیوروکریٹس کو بھی دوہری شہریت رکھنے سے روکا جائے، نور عالم خان
اسپین میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر ظہور احمد نے ریزیڈنٹ کارڈ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ یہ پالیسی سیاسی پناہ حاصل کرنے والوں پر لاگو نہیں ہوگی۔
اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ کریکٹر سرٹیفکیٹ اور دیگر مطلوبہ دستاویزات کی فراہمی لازمی ہوگی اور اہل افراد کو ابتدائی طور پر ایک سال کے لیے ریزیڈنٹ کارڈ جاری کیا جائے گا۔ 7 سے 8 سال مکمل کرنے پر مستقل رہائش اور شہریت کا راستہ ہموار ہوگا۔
دستاویزات کی تصدیق کے عمل کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ درخواست گزاروں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ نیشنل پولیس بیورو کی جانب سے ایک ہی قومی کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری ہوگا اور الگ الگ کریکٹر سرٹیفکیٹ قبول نہیں کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: روسی شہریت اختیار کرنے پر یوکرینی ڈائیور پر ’اسپورٹس قرنطینہ‘ کی سفارش کیوں؟
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ درخواست گزاروں کے لیے تصدیق کے عمل کو آسان اور برق رفتار بنایا جائے گا اور ہر سطح پر مکمل سہولت فراہم کی جائے گی۔ سالک حسین نے کہا کہ ہزاروں پاکستانیوں کو قانونی حیثیت ملنا خوش آئند ہے۔
اجلاس میں سپین میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر ظہور احمد، قونصل جنرل بارسلونا اور کمیونٹی ویلفیئر اتاشی نے زوم کے ذریعے شرکت کی۔ وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری، سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری اوورسیز پاکستانیز، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ، چیئرمین نادرا، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی پاسپورٹس سمیت اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔














