گزشتہ رات پاکستان کی جانب سے انٹیلیجنس بنیادوں پر کی گئی فضائی کارروائی میں افغانستان کے 3 صوبوں ننگرہار، پکتیکا اور خوست میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے 7 مبینہ مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 80 سے زائد شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے 7 ٹھکانوں پر کارروائی میں 70 دہشتگرد ہلاک ہوئے، طلال چوہدری
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی اور مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع کے مطابق حملوں میں ٹی ٹی پی سے وابستہ اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا جبکہ مزید ہلاکتوں کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق جن مراکز کو نشانہ بنایا گیا ان میں ننگرہار میں قائم نیا مرکز نمبر 1 اور نیا مرکز نمبر 2، خارجی اسلام مرکز اور خارجی ابراہیم مرکز شامل ہیں۔ اسی طرح خوست میں خارجی مولوی عباس مرکز جبکہ پکتیکا میں خارجی ملا رہبر اور خارجی مخلص یار کے مراکز کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد پاکستان کے خلاف دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث عناصر کے نیٹ ورک کو کمزور کرنا تھا۔ تاہم اس حوالے سے افغان حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی افغانستان میں دہشتگرد ٹھکانوں کے خلاف کارروائی، شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات مسترد
سرکاری سطح پر بھی اس کارروائی کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی، جبکہ آزاد ذرائع سے ہلاکتوں اور نقصانات کی تفصیلات کی توثیق نہیں ہوسکی۔ صورتحال پر مزید پیش رفت کا انتظار ہے۔
شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات مسترد
پاکستان نے افغانستان کی سرحدی پٹی میں کالعدم تنظیم فتنہ الخوارج اور داعش خراسان سے منسلک عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کی گئی کارروائی کو دہشتگردی کے خلاف محدود اور متناسب اقدام قرار دیتے ہوئے شہری آبادی، مساجد یا مدارس کو نشانہ بنانے کے دعوؤں کو بے بنیاد اور گمراہ کن پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔
سرکاری مؤقف کے مطابق کارروائی مخصوص دہشتگرد کیمپوں اور ٹھکانوں کے خلاف کی گئی جو افغان سرزمین پر قائم مبینہ سرحدی پناہ گاہوں سے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں ملوث تھے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی افغانستان میں جوابی کارروائی، سرحدی علاقوں میں 7 دہشتگرد کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا
بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی قسم کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور شہریوں، خواتین یا بچوں کو ٹارگٹ کرنے کا تاثر جھوٹا اور بدنیتی پر مبنی بیانیہ ہے جس کا مقصد دہشتگرد عناصر کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ تنظیم شہری آبادی میں چھپنے اور غیر جنگجو افراد کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی حکمت عملی اپناتی ہے، تاہم آپریشنل منصوبہ بندی میں ممکنہ جانی نقصان سے بچاؤ کے لیے اقدامات کیے گئے۔
مساجد یا مدارس کو نشانہ بنانے سے متعلق الزامات پر وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان مذہبی مقامات کے احترام کا پابند ہے اور حالیہ پاک بھارت کشیدگی (مئی 2025) کے دوران بھی اس کی مثالیں موجود ہیں۔
حکام کے مطابق بعض مقامات کو مذہبی شناخت دے کر درحقیقت انہیں تربیتی مراکز، پناہ گاہوں اور حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
🚨 BIG BREAKING: The Pakistan Air Force conducted airstrikes on Taliban camps in Afghanistan’s Ghani Khelo and Garda Samia districts. pic.twitter.com/L9RsA86t9x
— America Army (@AmericaStan_) February 21, 2026
بیان میں کہا گیا کہ اسلام کے نام پر کارروائیاں کرنے والے عناصر خود مذہبی تعلیمات کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
خودمختاری کی خلاف ورزی کے الزام پر پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام سرحد پار سے ہونے والی دہشتگردی کے تناظر میں دفاعِ کے تحت کیا گیا اور اس کا ہدف افغان ریاست، عوام یا سیکیورٹی فورسز نہیں تھیں بلکہ وہ عناصر تھے جو پاکستان میں حملوں میں ملوث رہے۔
بیان میں کہا گیا کہ افغان حکام کے ساتھ متعدد بار ان مبینہ پناہ گاہوں کا معاملہ اٹھایا گیا تاہم مؤثر نتائج سامنے نہ آنے پر پاکستان اپنے شہریوں کی حفاظت کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں چھوڑ سکتا۔
حکام کے مطابق قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں دوحہ اور استنبول میں سفارتی سطح پر روابط بھی کیے گئے، تاہم دہشتگرد ڈھانچے کے خاتمے کے حوالے سے پیشرفت نہ ہو سکی۔
مؤقف میں کہا گیا کہ علاقائی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ کسی بھی ملک کی خودمختاری کو سرحد پار دہشتگردی کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال نہ ہونے دیا جائے۔
پاکستان نے اس تاثر کو بھی مسترد کیاکہ وہ داخلی سیکیورٹی ناکامیوں کا بوجھ افغانستان پر ڈال رہا ہے۔
#AMAY| Pakistan launches airstrikes against Afghan-based ‘militants’ it blames for cross-border attackshttps://t.co/HWOfq4jPQK pic.twitter.com/N60pzJuY7w
— Egypt Independent (@EgyIndependent) February 22, 2026
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں ملک بھر میں 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشنز کیے گئے، جن میں 2 ہزار 597 دہشتگرد ہلاک کیے گئے جبکہ سینکڑوں شہریوں اور اہلکاروں نے جانوں کی قربانیاں دیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ اعداد و شمار اندرونی سطح پر جاری وسیع کارروائیوں کی عکاسی کرتے ہیں اور سرحد پار عنصر ایک اضافی پہلو ہے، متبادل نہیں۔
افغانستان کی جانب سے ممکنہ ردعمل سے متعلق بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی کارروائی افغان ریاست کے خلاف نہیں تھی بلکہ دہشتگردوں کے خلاف تھی۔
مزید پڑھیں: بنوں: فورسز کے قافلے پر فتنہ الخوارج کا حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور سپاہی شہید
حکام کے مطابق کسی بھی ایسے اقدام کو جو دہشتگرد عناصر کو تحفظ یا سہولت فراہم کرے، دہشتگردی میں معاونت تصور کیا جائے گا اور پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے جامع دفاعی اقدامات کرے گا۔
بیان کے مطابق کشیدگی میں کمی کا راستہ واضح ہے کہ افغان حکام دہشتگرد کیمپوں کو ختم کریں، سہولت کاری کا نیٹ ورک توڑیں اور قابلِ تصدیق تعاون کو یقینی بنائیں تاکہ آئندہ کسی کارروائی کی ضرورت پیش نہ آئے۔











