پاکستان کی افغانستان میں دہشتگرد ٹھکانوں کے خلاف کارروائی، شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات مسترد

اتوار 22 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے افغانستان کی سرحدی پٹی میں کالعدم تنظیم فتنہ الخوارج اور داعش خراسان سے منسلک عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کی گئی کارروائی کو دہشتگردی کے خلاف محدود اور متناسب اقدام قرار دیتے ہوئے شہری آبادی، مساجد یا مدارس کو نشانہ بنانے کے دعوؤں کو بے بنیاد اور گمراہ کن پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔

سرکاری مؤقف کے مطابق کارروائی مخصوص دہشتگرد کیمپوں اور ٹھکانوں کے خلاف کی گئی جو افغان سرزمین پر قائم مبینہ سرحدی پناہ گاہوں سے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں ملوث تھے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی افغانستان میں جوابی کارروائی، سرحدی علاقوں میں 7 دہشتگرد کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا

بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی قسم کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور شہریوں، خواتین یا بچوں کو ٹارگٹ کرنے کا تاثر جھوٹا اور بدنیتی پر مبنی بیانیہ ہے جس کا مقصد دہشتگرد عناصر کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ تنظیم شہری آبادی میں چھپنے اور غیر جنگجو افراد کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی حکمت عملی اپناتی ہے، تاہم آپریشنل منصوبہ بندی میں ممکنہ جانی نقصان سے بچاؤ کے لیے اقدامات کیے گئے۔

مساجد یا مدارس کو نشانہ بنانے سے متعلق الزامات پر وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان مذہبی مقامات کے احترام کا پابند ہے اور حالیہ پاک بھارت کشیدگی (مئی 2025) کے دوران بھی اس کی مثالیں موجود ہیں۔

حکام کے مطابق بعض مقامات کو مذہبی شناخت دے کر درحقیقت انہیں تربیتی مراکز، پناہ گاہوں اور حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ اسلام کے نام پر کارروائیاں کرنے والے عناصر خود مذہبی تعلیمات کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

خودمختاری کی خلاف ورزی کے الزام پر پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام سرحد پار سے ہونے والی دہشتگردی کے تناظر میں دفاعِ کے تحت کیا گیا اور اس کا ہدف افغان ریاست، عوام یا سیکیورٹی فورسز نہیں تھیں بلکہ وہ عناصر تھے جو پاکستان میں حملوں میں ملوث رہے۔

بیان میں کہا گیا کہ افغان حکام کے ساتھ متعدد بار ان مبینہ پناہ گاہوں کا معاملہ اٹھایا گیا تاہم مؤثر نتائج سامنے نہ آنے پر پاکستان اپنے شہریوں کی حفاظت کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں چھوڑ سکتا۔

حکام کے مطابق قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں دوحہ اور استنبول میں سفارتی سطح پر روابط بھی کیے گئے، تاہم دہشتگرد ڈھانچے کے خاتمے کے حوالے سے پیشرفت نہ ہو سکی۔

مؤقف میں کہا گیا کہ علاقائی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ کسی بھی ملک کی خودمختاری کو سرحد پار دہشتگردی کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال نہ ہونے دیا جائے۔

پاکستان نے اس تاثر کو بھی مسترد کیاکہ وہ داخلی سیکیورٹی ناکامیوں کا بوجھ افغانستان پر ڈال رہا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں ملک بھر میں 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشنز کیے گئے، جن میں 2 ہزار 597 دہشتگرد ہلاک کیے گئے جبکہ سینکڑوں شہریوں اور اہلکاروں نے جانوں کی قربانیاں دیں۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ اعداد و شمار اندرونی سطح پر جاری وسیع کارروائیوں کی عکاسی کرتے ہیں اور سرحد پار عنصر ایک اضافی پہلو ہے، متبادل نہیں۔

افغانستان کی جانب سے ممکنہ ردعمل سے متعلق بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی کارروائی افغان ریاست کے خلاف نہیں تھی بلکہ دہشتگردوں کے خلاف تھی۔

مزید پڑھیں: بنوں: فورسز کے قافلے پر فتنہ الخوارج کا حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور سپاہی شہید

حکام کے مطابق کسی بھی ایسے اقدام کو جو دہشتگرد عناصر کو تحفظ یا سہولت فراہم کرے، دہشتگردی میں معاونت تصور کیا جائے گا اور پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے جامع دفاعی اقدامات کرے گا۔

بیان کے مطابق کشیدگی میں کمی کا راستہ واضح ہے کہ افغان حکام دہشتگرد کیمپوں کو ختم کریں، سہولت کاری کا نیٹ ورک توڑیں اور قابلِ تصدیق تعاون کو یقینی بنائیں تاکہ آئندہ کسی کارروائی کی ضرورت پیش نہ آئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تونسہ میں ایچ آئی وی بحران، غیر تربیت یافتہ افراد سے انجیکشن لگوانے کا انکشاف

بحیرہ انڈمان میں کشتی ڈوبنے کا ہولناک واقعہ، 250 سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ

امریکی سفارتکار زکری ہارکن رائیڈر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی حکومتی اجازت کے بغیر غیرملکیوں سے شادی پر پابندی، نئے رولز جاری

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی ٹیکنالوجی کے چیلنج پر ادارے تیار، ڈیٹا کو لاحق خطرات میں اضافہ

ویڈیو

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

پاکستان میں بھارتی مواد چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، عوام کی رائے

پچھلے 13 سالوں میں پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا، آفتاب شیرپاؤ

کالم / تجزیہ

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا

سمندری ناکہ بندی اور فیصلہ کن گھڑی میں پاکستان کا ثابت قدم کردار