افغانستان میں دہشتگردوں کے 7 ٹھکانوں پر کارروائی میں 70 دہشتگرد ہلاک ہوئے، طلال چوہدری

اتوار 22 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی حالیہ جوابی کارروائی میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق قریباً 70 دہشتگرد ہلاک ہوئے ہیں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہاکہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے جس نے ہمیشہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ بہتر تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی افغانستان میں دہشتگرد ٹھکانوں کے خلاف کارروائی، شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات مسترد

انہوں نے کہاکہ افغانستان سے طویل عرصے سے دہشتگردی پاکستان کی سرحدوں میں ایکسپورٹ ہو رہی ہے، اور پاکستان اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کارروائی کررہا ہے۔ ملکی سطح پر بھی اب تک قریباً 70 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں متعدد افراد گرفتار اور کئی دہشتگرد ہلاک ہوئے۔

وزیر مملکت نے مزید بتایا کہ افغانستان میں حالیہ کارروائی 7 دہشتگرد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے 3 مختلف علاقوں میں کی گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس کارروائی میں 70 کے قریب دہشتگرد مارے گئے، جن میں زیادہ تر کی شناخت پاکستان نے کی ہے۔

طلال چوہدری نے کہاکہ افغان عبوری حکومت اپنا فرض نبھانے میں ناکام رہی ہے۔

انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ دوحہ معاہدے کے تحت افغانستان نے عالمی برادری کو یقین دلایا تھا کہ اس کی سرزمین کسی بھی دہشتگرد کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہوگی، مگر عملی طور پر یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ افغان طالبان کی جانب سے کی گئی حالیہ دہشت گرد کارروائیوں کے جواب میں پاکستان نے افغانستان میں مختلف مقامات پر کارروائی کر کے دہشتگردوں کے 7 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق حالیہ خودکش حملوں میں ملوث دہشتگرد قیادت اور سہولت کار افغانستان میں موجود تھے۔ اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں ہونے والی ان کارروائیوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان، فتنہ الخوارج اور ان کے اتحادیوں نے قبول کی ہے۔

وزارت کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان کے پاس اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ حملے افغانستان میں موجود قیادت کی ہدایات پر کیے گئے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی افغانستان میں جوابی کارروائی، سرحدی علاقوں میں 7 دہشتگرد کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا

پاکستان نے افغانستان کی سرحدی پٹی میں کالعدم تنظیم فتنہ الخوارج اور داعش خراسان سے منسلک عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کی گئی کارروائی کو دہشتگردی کے خلاف محدود اور متناسب اقدام قرار دیتے ہوئے شہری آبادی، مساجد یا مدارس کو نشانہ بنانے کے دعوؤں کو بے بنیاد اور گمراہ کن پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آن لائن کھیلوں اور سوشل میڈیا پر بچوں کے لیے خطرناک جال، گروہ کیسے کام کرتے ہیں؟

شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر نہ برسائیں، مسلم لیگ (ق) کا مریم نواز کے بیان پر ردعمل

مفتی محمود مرکز کی تعمیر اور زمین سے متعلق دستاویزات سامنے آگئیں، ثمر ہارون بلور

ڈیڑھ صدی پہلے انسانوں کا جسم آج کے مقابلے میں زیادہ گرم تھا، سائنسدانوں نے حیران کن تبدیلی کی وجہ جان لی؟

پشاور میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ڈبل شفٹ میں کرنے کا فیصلہ، رنگ روڈ رواں ہفتے کلیئر کرنے کی ہدایت

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا