پی ٹی اے کیجانب سے 2600 سے 3500 میگا ہرٹز بینڈز کی شرط، کیا 5 جی اسپیکٹرم کی نیلامی بروقت ممکن ہے؟

پیر 23 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ملک میں 5 جی سروس کے مضبوط اور مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے 2600 اور 3500 میگاہرٹز کے بنیادی فریکوئنسی بینڈز کو آئندہ اسپیکٹرم نیلامی میں لازمی قرار دے دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ ملک میں متعارف کرائی جانے والی نئی موبائل سروس اعلیٰ معیار، تیز رفتار ڈیٹا اور وسیع کوریج کی حامل ہو۔

یہ بھی پڑھیں: 5G اسپیکٹرم کی نیلامی کے بعد بِٹ ایڈجسٹمنٹ کی اجازت نہیں ہوگی، پی ٹی اے

اتھارٹی کے مطابق تمام موبائل آپریٹرز کو نیلامی کے عمل میں ان دونوں بنیادی بینڈز میں لازمی طور پر حصہ لینا ہوگا، جبکہ دیگر دستیاب بینڈز میں شرکت اختیاری ہوگی۔ ریگولیٹر کا مؤقف ہے کہ اگر ان مرکزی بینڈز میں سرمایہ کاری یقینی نہ بنائی گئی تو مستقبل میں نیٹ ورک کی رفتار اور کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔

تاخیر کی افواہیں اور وضاحت

پی ٹی اے کی جانب سے 2600 سے 3500 میگاہرٹز بینڈ کی رکھی گئی شرط کے بعد بہت سی ایسی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں، کہ پاکستان میں 5 جی اسپیکٹرم کی نیلامی میں ایک بار پھر تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈی جی لائسنس, پی ٹی اے عامر شہزاد کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے 5 جی کی نیلامی مؤخر ہونے سے متعلق گردش کرنے والی خبریں درست نہیں ہیں۔ ان کے مطابق نیلامی کا عمل اپنے مقررہ طریقۂ کار کے مطابق جاری ہے۔

کمپنیوں کی تیاری اور شرائط

انہوں نے بتایا کہ متعلقہ ٹیلی کام کمپنیاں نیلامی میں شرکت کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور 27 فروری تک لازمی 15 ملین امریکی ڈالر جمع کرانے کی تیاری کر رہی ہیں تاکہ شرکت کے تمام تقاضے بروقت پورے کیے جا سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام کمپنیاں چاہتی ہیں کہ نیلامی وقت پر مکمل ہو تاکہ وہ جلد از جلد 5 جی سروس شروع کر سکیں اور مسابقت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:5 جی انٹرنیٹ سروس کب سے شروع ہوگی؟ حکومت نے خوشخبری سنا دی

انہوں نے مزید واضح کیا کہ کمپنیوں کو 2600 میگاہرٹز اور 3500 میگاہرٹز کے بنیادی فریکوئنسی بینڈز کے تحت ہی کام کرنا ہوگا اور کمپنیوں کی جانب سے اسی فریکوئنسی نظام کے مطابق اپنی تیاری مکمل کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ٹیلی کام کمپنیاں مسلسل بینکوں کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ وہ 27 فروری تک اپنی بڈز جمع کروا دیں۔

بینک ضمانت اور مالی تقاضے

ایک مزید سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ان کا یہ نئے بینڈز متعارف کروانے کا مقصد کنیکٹیویٹی کے مسائل سے بچنا ہے تاکہ صارفین کو بہترین کوالٹی کی سروسز دستیاب ہوں۔ اور جہاں تک کمپنیوں کی بات ہے، کمپنیاں دونوں بینڈز کے 100 میگاہرٹز بینڈ لینے کے لیے تیاری میں ہیں، کیونکہ اسپیکٹرم کیپ بھی مقرر کی گئی ہے تاکہ کوئی ایک آپریٹر کسی ایک بینڈ میں تمام اسپیکٹرم حاصل نہ کر سکے۔

دلچسپی کی صورتحال اور وارننگ

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 10 مارچ کو واضح ہو جائے گا کہ کمپنیاں کس قدر دلچسپی لے رہی ہیں۔ ابھی مارکیٹ میں جو بھی باتیں چل رہی ہیں، اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اور اگر کوئی کمپنی اس شرط کو پورا نہیں کرتی تو وہ خودبخود نہ صرف مقابلے سے باہر بلکہ مارکیٹ سے بھی باہر ہو جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:5 جی اور پے پال کا انتظار ختم: وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے موبائل ٹیکسز میں کمی کی بھی خوشخبری سنادی

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بینڈز کو لازمی قرار دینے کا مقصد یہ ہے کہ مستقبل میں نیٹ ورک کی کمزوری یا رفتار میں کمی جیسے مسائل پیدا نہ ہوں اور صارفین کو عالمی معیار کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ نیلامی کی تکمیل کے بعد ملک میں 5 جی سروس کے باقاعدہ اجرا کی راہ ہموار ہو جائے گی، جو ڈیجیٹل ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

مرحلہ وار پروگرام اور عالمی اہمیت

ڈی جی لائسنس کے مطابق کوالٹی آف سروس اور کوریج بڑھانے کے لیے اسپیکٹرم نیلامی کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ فائیو جی لانچ کے لیے 9 سالہ مرحلہ وار پروگرام تیار کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 3500 میگاہرٹز بینڈ دنیا بھر میں فائیو جی خدمات کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ زیادہ رفتار اور کم تاخیر فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی طرح 2600 میگاہرٹز بینڈ نیٹ ورک کی گنجائش بڑھانے اور شہری علاقوں میں بہتر کارکردگی یقینی بنانے میں مدد دیتا ہے۔ ان دونوں بینڈز کے امتزاج سے صارفین کو مستحکم اور تیز رفتار انٹرنیٹ میسر آ سکے گا۔

آزمائشی نیلامی اور شفافیت

اصل نیلامی سے پہلے ایک آزمائشی نیلامی منعقد کی جائے گی تاکہ سسٹم، سافٹ ویئر اور بولی کے طریقہ کار کو جانچا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا اور کسی بھی تکنیکی خرابی سے بچاؤ ہے۔

دستاویزات اور بڈنگ کا مرحلہ

نیلامی میں حصہ لینے والی کمپنیوں کو مقررہ تاریخ تک تمام ضروری دستاویزات جمع کروانا ہوں گی اور بینک ضمانت بھی فراہم کرنا ہوگی تاکہ عمل میں سنجیدگی اور مالی استحکام برقرار رہے۔ امکان ہے کہ بولی کا مرحلہ ایک سے زائد دنوں تک جاری رہے، جس کا انحصار مقابلے کی شدت پر ہوگا۔

چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بتایا کہ 5 جی سروس کے آغاز کے ساتھ ہی مارکیٹ میں فائیو جی انیبلڈ اسمارٹ فونز 35 ہزار سے 45 ہزار روپے کی قیمت میں دستیاب ہوں گے۔ ان کے مطابق ٹیلی کام کمپنیاں صارفین کی سہولت کے لیے یہ فونز آسان اقساط پر بھی فراہم کریں گی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں۔

ڈیجیٹل معیشت پر اثرات

پاکستان میں 5 جی ٹیکنالوجی کا آغاز ڈیجیٹل معیشت کے فروغ میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس نئی سروس سے آن لائن تعلیم، طبی مشاورت، برقی تجارت، اسمارٹ شہروں اور صنعتی خودکاری کے شعبوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔ تیز رفتار رابطے سے کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف جنگ اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ چکی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

معروف آسٹریلوی آل راؤنڈر ایشٹن ٹرنر ملتان سلطانز کے کپتان مقرر

آذربائیجان کے صدر کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، ایران کا سپریم لیڈر بننے پر مبارکباد

ترکیہ کے لیے خطرہ بننے والے اشتعال انگیز اقدامات نہ کیے جائیں، ترک صدر نے ایران کو خبردار کردیا

ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کی بات ابھی جلد بازی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان