بھارت میں کشمیری شال فروشوں پر حملوں میں غیر معمولی اضافہ

پیر 23 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کے مختلف صوبوں میں کشمیری شال فروشوں اور مہاجر مزدوروں کے خلاف نفرت انگیز حملوں، ہراسانی اور دھمکیوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ حملوں کی وجہ سے کئی تاجروں کو اپنا کاروبار محدود کرنا یا گھر واپس جانا پڑ رہا ہے، جس نے انہیں اپنی روزگار اور ذاتی حفاظت کے درمیان مشکل فیصلے پر مجبور کر دیا ہے۔

گھریلو سفر کرنے والے کشمیری تاجر متاثر

معروف ٹی وی چینل ’الجزیرہ‘ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ہزاروں گھریلو تاجر جو مقبوضہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں، سردیوں میں شالیں اور دستکاری کے سامان فروخت کرنے کے لیے بھارت کے مختلف علاقوں کا سفر کرتے ہیں۔ تاہم حالیہ ہفتوں میں نفرت انگیز حملوں کے باعث کئی تاجروں کو اپنی نقل و حرکت محدود کرنے یا گھر واپس جانے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیے بھارت میں کشمیریوں کو مسلسل ہراسانی کا سامنا، کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بھی چیخ اٹھا

حملوں کی خوفناک مثالیں

رپورٹ میں 18 سالہ تابش احمد غنی کی کہانی شامل ہے، جس پر اتر پردیش کے وکاس نگر میں ایک دکاندار نے لوہے کی سلاخ سے حملہ کیا۔ حملہ آور نے جبری طور پر اسلام مخالف  کمنٹس کیے، جس کے نتیجے میں تابش کے سر پر زخم اور ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔  تابش نے بتایا کہ انہیں صرف اپنے کشمیری مسلم ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیے بھارت میں کشمیریوں پر حملہ کرنے والوں کو ریاستی حکومتوں کا تحفظ حاصل، محبوبہ مفتی

اسی طرح ایک اور شال فروش بلال احمد پر کاشی پور میں حملہ کیا گیا کیونکہ وہ ایک قومی نعرہ لگانے سے انکار کر رہا تھا۔ واقعے کے بعد، احمد نے اپنا کاروبار بند کر کے تحفظ کے خدشات کے پیش نظر واپس کشمیر چلے جانے کا فیصلہ کیا۔

 زندگی اور روزگار کے درمیان دشوار انتخاب

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ نفرت انگیز حملے اور ہراسانی کے بڑھتے ہوئے رجحان نے کشمیری تاجروں کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے، اور وہ اب بھارت میں آزادانہ طور پر کاروبار کرنے کے قابل نہیں رہے۔

رپورٹ میں اس صورتحال کو انسانی حقوق کے لیے تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل

میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ

ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟

اسلامی حکومت یا وسائل کی لوٹ مار؟ افغان طالبان کے اندر اقتدار کی خونریز کشمکش سامنے آگئی

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل

تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے

گلگت بلتستان انتخابات: ووٹرز سیاسی جماعتوں سے کیا چاہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے

جب یورپ کو پاکستان کی بات سمجھ آئی

گجرات کی گلیاں انور مسعود کو یاد کرتی ہیں