امریکا کی ہاکی ٹیم نے 46 سال کے طویل انتظار کے بعد تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے اولمپکس کے فائنل میں کینیڈا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 1-2 سے شکست دے کر گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا۔
فیصلہ کن میچ میں مقابلہ انتہائی سخت رہا اور نتیجہ اوور ٹائم میں نکلا۔ امریکا کے ہیرو جیک ہیوز بنے، جنہوں نے اوور ٹائم کے دوران 1 منٹ 41 سیکنڈ میں فاتحانہ گول اسکور کر کے اپنی ٹیم کو تاریخی فتح دلائی۔ اس طرح امریکا نے 1980 کے بعد پہلی بار اولمپک آئس ہاکی میں گولڈ میڈل جیتا۔
یہ بھی پڑھیں: ’کینیڈا کو حاصل نہیں کیا جاسکتا‘، آئس ہاکی میں امریکا کو شکست کے بعد جسٹن ٹروڈو کا ٹرمپ کو پیغام
یہ کامیابی اس لحاظ سے بھی منفرد رہی کہ یہ فتح اسی تاریخ کو حاصل ہوئی جس دن 1980 میں امریکا نے مشہور تاریخی کامیابی حاصل کی تھی، جسے کھیلوں کی تاریخ میں ایک یادگار لمحہ سمجھا جاتا ہے۔
TEAM USA 🥇🤩🥳🥳🥳🥳 pic.twitter.com/fxPFy9fsv7
— Mikaela Shiffrin ⛷️ (@MikaelaShiffrin) February 22, 2026
میچ کے دوران جیک ہیوز کو اسٹک لگنے سے چوٹ بھی آئی اور ان کا دانت متاثر ہوا، تاہم اس کے باوجود انہوں نے شاندار کارکردگی دکھائی اور فیصلہ کن گول اسکور کیا۔ گول ہوتے ہی امریکی کھلاڑی خوشی سے میدان میں جمع ہوگئے اور اپنے ہیرو کو گھیر کر جشن منایا۔
فتح کے بعد جیک ہیوز نے کہا کہ اپنے ملک کے لیے کھیلنا اور اس ٹیم کے ساتھ مل کر گولڈ میڈل جیتنا ان کی زندگی کا بہترین تجربہ ہے۔
اس تاریخی کامیابی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی عظیم آئس ہاکی ٹیم نے گولڈ میڈل جیت کر ملک کا نام روشن کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک آرمی کی کوششوں سے ہاکی اسٹیڈیم کراچی کی رونقیں دوبارہ بحال ہوگئیں
سابق امریکی صدر باراک اوباما نے بھی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور قوم کو فخر محسوس کرایا۔
امریکی ٹیم کی یہ فتح سرمائی اولمپکس 2026 کی نمایاں کامیابیوں میں شامل ہوگئی ہے، جسے امریکی آئس ہاکی کی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔














