پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے عمران خان کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے آج سپریم کورٹ کے باہر علامتی دھرنا دیا، اور مطالبہ کیاکہ انہیں اسپتال منتقل کیا جائے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی احتجاج: خیبر پختونخوا میں کہاں کہاں مظاہرے ہوں گے، کون سی اہم شاہراہیں متاثر ہوں گی؟
پی ٹی آئی کے مطابق سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا کی قیادت میں ہونے والے دھرنے کا مقصد عمران خان کو آنکھ کے علاج کے لیے شفا اسپتال منتقل کرنا اور عمران خان کے ذاتی معالجین کو ان تک جیل میں رسائی دینا ہے۔
دھرنے میں اراکین قومی اسمبلی، سینیٹرز اور صوبائی اسمبلی کے اراکین نے شرکت کی، جبکہ وکلا بھی شریک ہوئے۔
اس موقع پر سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا نے کہاکہ ایک رپورٹ سلمان صفدر کی ہے، اور ایک سرکاری رپورٹ تیار کی گئی ہے، لیکن ہم کسی سرکاری رپورٹ پر اعتبار نہیں کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج چیف جسٹس سے ملاقات نہیں ہو سکی، تاہم دوبارہ اس کے لیے کوشش کی جائےگی، عمران کا صرف آنکھ نہیں پورے جسم کا چیک اپ ہونا چاہیے۔
سلمان اکرم راجا نے کہاکہ علامتی اور اخلاقی دباؤ ہمارا حق ہے اور ہم اسے جاری رکھیں گے۔ پہلے بھی سپریم کورٹ کی مدد سے ہی کچھ پیشرفت ہوئی۔
انہوں نے کہاکہ یہ کہنا کہ قاسم زمان چلے جاتے تو بہتر ہوتا، ایک بے ہنگم بات ہے۔ ریاست کیسے یہ کہہ سکتی ہے کہ اگر فلاں خاندان کا فرد جائے گا تو ہم علاج کرائیں گے؟ عمران خان کا مکمل طبی معائنہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی احتجاج کے دوران فیک نیوز کی بھرمار، عالمی ادارے کی رپورٹ میں انکشاف
واضح رہے کہ آج کے احتجاج میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود اچکزئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کی دوسری قیادت بھی شریک نہیں تھی، تاہم علامہ ناصر عباس کچھ دیر کے لیے دھرنے میں آئے اور پھر واپس چلے گئے۔













