اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے آئندہ سماعت پر فریقین سے حتمی دلائل طلب کر لیے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی، جس میں بانی پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل علی بخاری، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ، اور ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔
مزید پڑھیں: جسٹس طارق جہانگیری کی عہدے سے برطرفی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کردیا
علی بخاری نے عدالت کو بتایا کہ سلمان اکرم راجا کی صحت آج ٹھیک نہیں، اس لیے وہ پیش نہیں ہوئے۔ وکیل نے یہ بھی بتایا کہ عدالت نے بانی سے جیل میں ملاقات کا آرڈر دیا تھا، لیکن ملاقات نہ کرانے کے بارے میں جیل حکام سے عدالت نے استفسار کیا تھا۔
پی ٹی اے کے وکیل نے عدالت کو رپورٹ جمع کرا دی، جس پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کہ وہ دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور جواب کی کاپی دوسرے فریق کو بھی دی جائے۔
عدالت اور وکیل علی بخاری کے درمیان مکالمہ میں یہ بات سامنے آئی کہ پی ٹی آئی بھی اس کیس میں فریق ہے اور جواب دینے کے لیے پہلے جیل میں بانی سے ملاقات کرنا ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے انتخابات کے نتائج کا باضابطہ اعلان، سید واجد علی گیلانی صدر منتخب
جسٹس ارباب محمد طاہر نے وکیل علی بخاری سے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی آئی جواب جمع کرائے گی، جس پر وکیل نے وضاحت دی کہ پہلے ملاقات ہو جائے۔ آخر میں عدالت نے کیس کی مزید سماعت مئی کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔














