رمضان المبارک میں سستا فروٹ لینے کا صحیح وقت کون سا ہے؟

بدھ 25 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

رمضان المبارک میں کھانا پینا خاص اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ انواع و اقسام کے کھانے دسترخوان کو رونق بخشتے ہیں، جبکہ پھل نہ صرف کثرت سے استعمال ہوتے ہیں بلکہ دسترخوان کو رنگا رنگ بھی بنا دیتے ہیں۔ تاہم رمضان میں پھلوں کی مانگ میں اضافے کے باعث ان کی قیمتوں کو بھی پر لگ جاتے ہیں۔

رمضان المبارک میں ہر شہری کی خواہش ہوتی ہے کہ افطار سے پہلے اپنی حیثیت کے مطابق پھل ضرور لے کر جائے تاکہ گھر والوں کے ساتھ افطار کیا جا سکے۔ یہ خریداری اکثر نمازِ عصر کے بعد کی جاتی ہے، اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب پھلوں کی قیمتیں اپنے عروج پر ہوتی ہیں، کیونکہ پھل فروشوں کو اندازہ ہوتا ہے کہ جو خریدار اس وقت آیا ہے وہ خریداری کیے بغیر نہیں جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے کوئٹہ: رمضان المبارک میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کتنا اضافہ ہوا؟

کراچی میں کئی مقامات پر ایک ساتھ پھلوں کے متعدد ٹھیلے لگے ہوتے ہیں، اور رمضان میں ان کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔

 کراچی کے علاقے صدر میں پھل بیچنے والے محمد آصف نے وی نیوز کو بتایا کہ رمضان میں ان کا کاروبار اچھا ہو جاتا ہے۔ ان کے کام کا طریقہ یہ ہے کہ وہ روزانہ صبح سویرے منڈی سے تازہ پھل خرید کر لاتے ہیں۔

آصف کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ روزانہ خریدا گیا پھل اسی دن فروخت ہو جائے، بصورتِ دیگر خراب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ ایک دن پرانا پھل عموماً فروخت نہیں ہوتا، کیونکہ خریدار تازہ پھل کو ترجیح دیتے ہیں۔

ان کے مطابق زیادہ تر شہری افطار سے پہلے پھل خریدتے ہیں، اور اس وقت زیادہ تر مال فروخت ہو جاتا ہے۔ تاہم جو پھل بچ جاتا ہے، اسے ہر صورت فروخت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے میں افطار کے بعد رات گئے تک وہ اپنا طریقۂ فروخت تبدیل کر دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مثال کے طور پر حیدرآباد کا امرود جس کی قیمت 200 روپے فی کلو ہوتی ہے، وہی امرود افطار کے بعد 120 سے 200 روپے فی کلو تک فروخت کر دیا جاتا ہے، جتنی قیمت پر گاہک راضی ہو جائے۔

یہ بھی پڑھیے پنجاب حکومت کا رمضان المبارک میں عوام کو بڑا ریلیف دینے کا فیصلہ

لائنز ایریا کے پھل فروش مقبول کے مطابق افطار کے بعد رات تک پھلوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ جاتی ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ 50 سے 100 روپے تک فی کلو کمی کر دی جاتی ہے۔ اس کی وجہ خریداروں کی تعداد میں نمایاں کمی ہے، جبکہ دکانداروں کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ پھل فروخت ہو جائیں تاکہ اگلے دن کے لیے کم سے کم پرانا مال باقی بچے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کا عمل تیز، 32 ہزار 588 افغان ڈی پورٹ

2025: 7,667 افراد ہجرت کے خطرناک راستوں پر چلتے ہوئے موت کے گھاٹ اتر گئے، اقوام متحدہ

مسلح افواج ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، فیلڈ مارشل اور سروسز چیفس

طالبان لیڈر کا نیا فرمان: سزائے موت کا دائرہ وسیع، خواتین پر مزید پابندیاں عائد کردی گئیں

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟

روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان