وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان سے ملاقات کی، جس میں پاکستان کی معاشی ترقی، برآمدات کے فروغ اور آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے وفد نے بھی شرکت کی اور آئندہ بجٹ کے لیے تجاویز اور سفارشات پیش کیں۔
مزید پڑھیں:پاکستان چاہے تو طالبان کو غاروں میں واپس دھکیل دے، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی سخت الفاظ میں تنبیہ
ہارون اختر خان نے کہا کہ آنے والا بجٹ صنعت دوست اور کاروبار دوست ہوگا، جس کا مقصد کاروباری برادری کو ریلیف اور مراعات فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیکس میں نرمی اور مراعات سے متعلق تجاویز زیر غور ہیں اور حکومت عملی اور ترقی پر مبنی اقدامات کو بجٹ کا حصہ بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی معاشی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایات کے مطابق تمام وزارتیں برآمدات میں اضافے اور قومی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں۔
ہارون اختر خان نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کے وژن کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قومی صنعتی پالیسی تیار کی گئی ہے، جو پائیدار صنعتی ترقی کے لیے جامع فریم ورک فراہم کرے گی۔ سرمایہ کاروں کو سہولت دینے اور کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے لیے ریگولیٹری اصلاحات اور نئی پالیسیاں مرتب کی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں:صدر ٹرمپ اور وزیراعظم شہباز کی ملاقات پر وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا اہم بیان
خواجہ محمد آصف نے کہا کہ صنعتی ترقی کے بغیر مضبوط معیشت کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کاروباری برادری کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کیے بغیر ملک پائیدار ترقی اور خوشحالی کی جانب نہیں بڑھ سکتا۔
خصوصی معاون نے یقین دہانی کرائی کہ تاجروں اور صنعتکاروں کی تجاویز اور آراء کو بجٹ سازی کے عمل میں شامل کیا جائے گا تاکہ جامع اور مؤثر معاشی منصوبہ بندی کو یقینی بنایا جا سکے۔














