بھارت کی شمالی ریاست اترکھنڈ کے شہر رودراپور میں ایک بزرگ مسلمان پر نماز ادا کرنے کے دوران تشدد کا دلخراش واقعہ سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت: زکوۃ جمع کرنے والے 3 مسلمانوں پر ہندوؤں کا تشدد، ویڈیو وائرل ہونے پر ہنگامہ
بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ شاہد نامی ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے ایک مزدور نے ماہ رمضان کے دوران ایک خالی جگہ پر نماز ادا کی جو اتریہ مندر کے قریب واقع تھی۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ افراد نے اسے گھیر کر لاٹھیوں، مکے اور لاتوں سے تشدد کا نشانہ بنایا اور زبردستی ’جے شری رام‘ جیسے ہندو مذہبی نعروں کا تقاضا کیا گیا۔
شاہد نے بتایا کہ وہ کچھ دنوں سے اسی علاقے میں کام کر رہا تھا اور نماز اسی جگہ ادا کر رہا تھا جس کا مندر سے فاصلہ کافی تھا۔
پولیس کا مؤقف اور مقدمہ
واقعے کے بعد مقامی پولیس نے ایف آئی آر درج کر دی ہے اور تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
مزید پڑھیے: بھارتی فضائیہ کو بڑا دھچکا: تیجس جیٹ کے تیسرے حادثے کے بعد طیارے گراؤنڈ کردیے
پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ شخص کو طبی معائنہ کے لیے بھیجا گیا ہے جبکہ ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
سوشل اور سیاسی ردعمل
یہ واقعہ سوشل میڈیا اور مختلف کمیونٹی لیڈروں کے درمیان شدید رد عمل کا باعث بنا ہوا ہے۔
ویڈیو میں دکھائی جانے والی بدسلوکی نے بھارتی معاشرے میں مذہبی آزادی اور ہم آہنگی کے اہم سوالات اٹھا دیے ہیں اور لوگوں نے ایسے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے منصفانہ تحقیقات اور سخت قانونی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
خبروں کے مطابق ویڈیو میں متعدد افراد بزرگ مسلمان کو تشدد کا نشانہ بناتے دکھائی دیتے ہیں۔
پولیس نے واقعے کے بعد امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل بھی کی ہے۔
کمیونٹی اور سیاسی رہنماؤں نے واقعہ کو نشاندہی کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت میں نچلی ذات کی 2 خواتین کو زندہ دفن کرنے کی کوشش، دیہاتیوں نے بچا لیا
یہ واقعہ بھارت میں مذہبی آزادی، عوامی جگہوں پر عبادت کے حق اور سماجی ہم آہنگی کے حوالے سے تشویش کا سبب اور عوامی حلقوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔













