بھارتی ریاست چنڈی گڑھ کے آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک کی برانچ میں 590 کروڑ روپے کے فراڈ کا انکشاف ہوا، جس کے ماسٹر مائنڈ سابق برانچ مینیجر رِبھَو رشی بتائے جا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ہریانہ حکومت کے مختلف محکموں کے اکاؤنٹس سے فنڈز رِبھَو کی اہلیہ سواتی سنگلا اور ان کے بھائی ابھیشیک سنگلا کی کمپنی میں منتقل کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی نوسر باز نے دنیا کی معروف کمپنی کو اربوں کا چونا لگا دیا
ہریانہ کے اینٹی کرپشن بیورو نے اس کیس میں 4 افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں رِبھَو رشی، سابق ریلیشن شپ مینیجر ابھیہ، سواتی سنگلا اور ابھیشیک سنگلا شامل ہیں۔
این سی بی کے ڈائریکٹر جنرل اے ایس چاولہ کے مطابق رِبھَو اور ابھیہ مرکزی ملزمان ہیں، اور دونوں نے تقریباً چھ ماہ قبل بینک سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ تقریباً 300 کروڑ روپے کی منتقلی کمپنی سواستک دیش پروجیکٹس میں ہوئی، جس میں سواتی کے شیئر 75 فیصد اور ابھیشیک کے 25 فیصد تھے۔ ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی صنعتکار انیل امبانی کے قرض اکاؤنٹس’فراڈ‘ قرار
فراڈ اس وقت سامنے آیا جب ہریانہ حکومت کے ایک محکمے نے اپنا اکاؤنٹ بند کر کے دوسرے بینک میں منتقل کرنے کی درخواست دی۔ اس دوران بینک اہلکاروں نے ریکارڈ شدہ رقم اور اصل بیلنس میں تضاد محسوس کیا، جو دیگر ہریانہ حکومت سے وابستہ اکاؤنٹس میں بھی پایا گیا۔
چاولہ نے وضاحت کی کہ مرکزی ملزمان نے فنڈز کی منتقلی متعدد مقامات سے کی، آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک کی چنڈی گڑھ برانچ، ہریانہ کے سرکاری محکمے، اور موہالی کی اے یو سمال فنانس بینک برانچ۔ تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 100 سالہ شہری، ڈیجیٹل گرفتاری اور ایک کروڑ سے زائد روپے کا فراڈ
آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک نے واضح کیا کہ اس نے پہلے ہی ہریانہ حکومت کے محکموں کے دعویٰ کردہ رقم، یعنی کل 583 کروڑ روپے کی ادائیگی کر دی ہے۔
بینک نے زور دیا کہ اس نے اعلیٰ اصولوں پر عمل کرتے ہوئے بروقت ادائیگیاں کیں اور تحقیقات کے دوران بھی محکموں کے حقوق کو یقینی بنایا، جس پر حکومتی محکموں نے بینک کی تعریف کی۔














