پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم نے جنوبی افریقہ کی ٹیم کے خلاف دوسرے ون ڈے میچ میں 345 رنز بنا کر اپنی تاریخ کی سب سے بڑی اننگز کھیلنے کا اعزاز حاصل کرلیا، تاہم جنوبی افریقہ نے 362 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 16 رنز کی برتری حاصل کر کے سیریز میں 2-0 کی برتری حاصل کر لی۔
میچ سینچوریئن کے سپر اسپورٹ پارک میں بدھ کی رات کھیلا گیا۔ تیسرا ون ڈے میچ 1 مارچ کو ڈربن کے کنگز میڈ کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔
پاکستان کی ریکارڈ ساز کارکردگی
پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بنانے کی کوشش میں اہم کردار ادا کیا۔ عائشہ ظفر نے 75 رنز کی نصف سنچری بنائی (68 گیندوں پر 8 چوکے)۔ صدف شمس نے 61 رنز کی نصف سنچری بنائی (62 گیندوں پر 9 چوکے)۔ کپتان فاطمہ ثنا نے 52 رنز بنائے، یہ ان کی چوتھی ون ڈے نصف سنچری تھی۔
نیچے کے آرڈر سے سیدہ عروب شاہ اور ڈیانا بیگ نے بھی قیمتی رنز شامل کیے، جس سے پاکستان ریکارڈ توڑنے کے قریب پہنچ گیا۔
میچ کی جھلکیاں
شروعات میں پاکستان نے منیبا علی اور صدرا آمین کے نقصان کے ساتھ صرف 24 رنز بنائے۔
صدف شمس اور عائشہ ظفر نے تیسری وکٹ کے لیے 87 گیندوں پر 97 رنز کی شراکت قائم کی۔
صدف شمس نے اپنی دوسری ون ڈے نصف سنچری مکمل کی اور 20ویں اوور کی آخری گیند پر آؤٹ ہوئیں۔
عائشہ نے بعد میں نتالیا پرویز کے ساتھ چوتھی وکٹ کے لیے 76 رنز کی شراکت قائم کی، جس کے بعد پاکستان کا اسکور 197-3 تھا۔
جنوبی افریقہ کی نونڈومیسو شنگا سے اور اینری ڈریکسن نے اہم وکٹیں حاصل کر کے پاکستان کو 199-6 پر محدود کیا۔
کپتان فاطمہ ثنا نے سیدہ عروب شاہ کے ساتھ ساتویں وکٹ کے لیے 81 رنز کی شراکت قائم کی۔
آخرکار، پاکستان 49.5 اوورز میں 345 رنز بنا کر آؤٹ ہو گیا، جو ان کی ون ڈے تاریخ کی سب سے بڑی اننگز تھی۔
جنوبی افریقہ کی کارکردگی
جنوبی افریقہ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 362 رنز بنائے، جو ان کی ون ڈے تاریخ کا دوسرا سب سے بڑا مجموعہ تھا۔ ڈیرکسن نے 90 رنز بنائے (68 گیندیں، 6 چوکے، 4 چھکے)۔ تازمین برٹس نے 77 رنز بنائے (62 گیندیں، 10 چوکے، 2 چھکے)۔
آخری اوورز میں نادین ڈی کلرک اور کلوئی ٹرائیون نے جارحانہ بیٹنگ کی، جس سے پاکستان کے لیے مقابلہ سخت ہو گیا۔
وکٹیں لینے والی کھلاڑی
پاکستان کی جانب سے سعدیہ، فاطمہ، عروب نے 2، 2 وکٹیں حاصل کیں۔
جنوبی افریقہ کی جانب سے ڈریکسن نے 3 وکٹیں لیں، جبکہ شنگا، ڈی کلرک اور نونکولیکو ملابا نے 2، 2 وکٹیں حاصل کیں۔













