ایپسٹین اسکینڈل کے بعد برطانوی شاہی خاندان سے وابستہ کئی شخصیات نے خاموشی اختیار کر لی، جبکہ بعض نے خود کو عوامی نظروں سے دور کر لیا ہے۔ انہی حالات میں شہزادہ اینڈریو کی سابق اہلیہ سارہ فرگوسن ایک عرصے تک منظرِ عام سے غائب رہنے کے بعد دوبارہ خبروں میں آگئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی شاہی خاندان کی سابق رکن سارہ فرگوسن آسٹریلیا جانے کی خواہشمند لیکن سانپوں کا خوف آڑے
66 سالہ سارہ فرگوسن کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ حالیہ ہفتوں میں آئرلینڈ کے مغربی ساحلی علاقے ڈونیگال میں ایک فلاحی و صحت افزا مرکز میں قیام پذیر رہیں۔ ایپسٹین سے متعلق فائلوں کے اجرا کے بعد انہوں نے اپنی عوامی سرگرمیاں محدود کر دی تھیں۔ وہ گزشتہ ستمبر کے بعد سے کسی عوامی تقریب میں دکھائی نہیں دی تھیں۔

ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ وہ برطانیہ چھوڑ کر متحدہ عرب امارات چلی گئی ہیں، جبکہ بعض رپورٹس میں سوئٹزرلینڈ کے ایک ویلنیس ریٹریٹ میں قیام کا بھی ذکر سامنے آیا تھا۔ تاہم تازہ رپورٹ کے مطابق وہ ڈونیگال میں واقع بیلی لفن لاج اینڈ اسپا میں مقیم رہیں، جہاں کمروں کا کرایہ 113 پاؤنڈ فی رات سے شروع ہوتا ہے۔ رواں ماہ انہیں ایک مقامی ہوائی اڈے پر بھی دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بکنگھم پیلس کا اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کی رہائی کے بعد پہلا ردعمل سامنے آگیا
سارہ فرگوسن اس سے قبل بھی ڈونیگال جاچکی ہیں اور اسے ایک پُرسکون اور نسبتاً الگ تھلگ مقام قرار دیتی رہی ہیں، جہاں وہ دباؤ کے اوقات میں سکون حاصل کر سکتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں پیش آنے والے حالات کے تناظر میں ان کی جانب سے عوامی نظروں سے گریز کو اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔

مبصرین کے مطابق وہ آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کرتے ہوئے اپنی موجودگی کو محدود رکھنا چاہتی ہیں اور فی الحال کسی قسم کی عوامی توجہ سے بچنے کو ترجیح دے رہی ہیں۔














