طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ٹوئٹ میں اعلان کیا ہے کہ پاکستانی فوج کے مخصوص حلقے کی بار بار سرکشی اور تمرد کے جواب میں ڈیورنڈ لائن کے ساتھ واقع فوجی مراکز اور تنصیبات کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ رَمَىٰ ۚ
در واکنش به تمردها و سرکشیهای مکرر حلقه خاص نظامی پاکستان، عملیات گستردهٔ تهاجمی علیه مراکز و تأسیسات نظامی نیروهای پاکستانی در امتداد خط دیورند آغاز گردید.اللهم انصرالمجاهدین في کل مکان!
— Zabihullah (..ذبـــــیح الله م ) (@Zabehulah_M33) February 26, 2026
ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق یہ کارروائی پاکستان کے ان فوجی یونٹس کے خلاف کی گئی ہے جو طالبان کی حدود میں حرکت یا حکومتی مفادات کے خلاف سرگرم ہیں۔
یاد رہے کہ ذبیح اللہ کے اس بیان سے پہلے بھی طالبان نے بارہا پاکستان پر سرحدی مداخلت یا افغان سرزمین پر فوجی سرگرمیوں کی شکایات کی ہیں۔ گزشتہ سال بھی پاکستان کے مخصوص فوجی حلقے کے ساتھ طالبان کے تعلقات میں تناؤ کے واقعات سامنے آئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان رہنما کا دھمکی آمیز بیان، خودکش حملہ آوروں کے گروہ کا دعویٰ
یہ حالیہ اعلان سرحدی کشیدگی میں اضافہ اور خطے میں فوجی تناؤ کے نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس آپریشن کے اثرات نہ صرف سرحدی سیکیورٹی بلکہ پاکستان افغان تعلقات اور افغان سرزمین پر طالبان کے داخلی کنٹرول پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔














