ڈیورنڈ لائن پر پاکستانی فوجی مراکز کے خلاف آپریشن شروع، طالبان ترجمان کا اعلان

جمعرات 26 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ٹوئٹ میں اعلان کیا ہے کہ پاکستانی فوج کے مخصوص حلقے کی بار بار سرکشی اور تمرد کے جواب میں ڈیورنڈ لائن کے ساتھ واقع فوجی مراکز اور تنصیبات کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق یہ کارروائی پاکستان کے ان فوجی یونٹس کے خلاف کی گئی ہے جو طالبان کی حدود میں حرکت یا حکومتی مفادات کے خلاف سرگرم ہیں۔

یاد رہے کہ ذبیح اللہ کے اس بیان سے پہلے بھی طالبان نے بارہا پاکستان پر سرحدی مداخلت یا افغان سرزمین پر فوجی سرگرمیوں کی شکایات کی ہیں۔ گزشتہ سال بھی پاکستان کے مخصوص فوجی حلقے کے ساتھ طالبان کے تعلقات میں تناؤ کے واقعات سامنے آئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان رہنما کا دھمکی آمیز بیان، خودکش حملہ آوروں کے گروہ کا دعویٰ

یہ حالیہ اعلان سرحدی کشیدگی میں اضافہ اور خطے میں فوجی تناؤ کے نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس آپریشن کے اثرات نہ صرف سرحدی سیکیورٹی بلکہ پاکستان افغان تعلقات اور افغان سرزمین پر طالبان کے داخلی کنٹرول پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

افغان طالبان کی جارحیت ناقابل برداشت، مسلح افواج نے منہ توڑ جواب دیا، محسن نقوی

کابل، قندھار اور پکتیا میں پاک فضائیہ کے حملے، افغان ترجمان نے تصدیق کردی

پاک فوج کے بہادر جوانوں کے ساتھ کھڑے ہیں، پی ٹی آئی

پاک افغان سرحدی جھڑپیں: دشمن کی شکست مقدر ہے، افواج فیصلہ کن جواب دے رہی ہیں، خواجہ آصف

افواج پاکستان ہر جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں، صدر مملکت اور وزیر اعظم کے پیغامات

ویڈیو

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

پاکستان کیخلاف مودی، افغان اور نیتن یاہو کی ممکنہ سازش، قصور سانحہ، عمران ریاض بمقابلہ شاہد آفریدی

کالم / تجزیہ

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟

روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان