آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

جمعرات 26 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کی مسلح افواج نے افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں آپریشن غضب للحق کے تحت بھرپور اور مؤثر جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ صبح 3:40 بجے تک کی مصدقہ اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ کابل، پکتیا اور قندھار میں طالبان کے دفاعی اہداف کو فضائی اور زمینی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔

افغان طالبان کی 27 پوسٹیں تباہ اور 9 پوسٹوں پر قبضہ کیا جا چکا ہے۔ علاوہ ازیں دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، دو ایمونیشن ڈپو، ایک لاجسٹک بیس، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز، دو سیکٹر ہیڈکوارٹرز اور 80 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور اے پی سیز بھی تباہ کیے گئے ہیں۔

کابل، قندھار اور پکتیا میں پاک فضائیہ کے حملے، افغان ترجمان نے تصدیق کردی

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی فوج نے کابل، قندھار اور پکتیا کے بعض علاقوں میں فضائی حملے کیے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے پاکستانی فوج کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ان حملوں میں خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ذبیح اللہ مجاہد کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کی مسلح افواج افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں آپریشن غضب للحق کے تحت بھرپور اور مؤثر جوابی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ صبح 3:40 بجے تک کی مصدقہ اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ کابل، پکتیا اور قندھار میں طالبان کے دفاعی اہداف کو فضائی اور زمینی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق افغان طالبان کی 27 پوسٹیں تباہ اور 9 پوسٹوں پر قبضہ کیا جا چکا ہے۔ علاوہ ازیں دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، دو ایمونیشن ڈپو، ایک لاجسٹک بیس، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز، دو سیکٹر ہیڈکوارٹرز اور 80 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور اے پی سیز بھی تباہ کیے گئے ہیں۔

دونوں جانب سے بیانات کے بعد خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کی گفتگو اور ٹوئٹ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے پاکستان ٹی وی سے گفتگو میں کہا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال جارحیت کی گئی، جس کا جواب انتہائی مستعدی اور مضبوط انداز میں دیا گیا۔ پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور مہارت کا بہترین استعمال کرتے ہوئے مادرِ وطن کا دفاع یقینی بنایا۔

انہوں نے بتایا کہ جوابی کارروائی نے افغان طالبان کو پچھاڑ کر رکھ دیا اور وہ بے یقینی کی صورتحال میں مبتلا ہو گئے۔ جواب اتنا مربوط اور مضبوط تھا کہ افغان طالبان سوشل میڈیا پر فیک نیوز پھیلانے پر مجبور ہوئے، اور ایک بین الاقوامی نیوز چینل کو بھی اپنی ٹوئٹ ڈیلیٹ کرنی پڑی۔

وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ ان کارروائیوں میں ایک بڑا اسلحہ ڈپو، بٹالین ہیڈکوارٹر تباہ اور 36 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور آرمڈ پرسنز کیریئرز بھی تباہ ہو چکے ہیں۔ پاکستانی فضائیہ نے قندھار، کابل اور پکتیا میں طالبان کی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس میں قندھار میں دو اور کابل میں ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر تباہ ہوئے۔

عطا تارڑ نے اپنی ٹوئٹ میں 27 فروری 2026 کی صبح 2 بجے تک کے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کے 72 کارندے ہلاک اور 120 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، 16 پوسٹیں تباہ اور 7 پوسٹوں پر قبضہ کیا جا چکا ہے، جبکہ ایک ایمونیشن ڈپو، بٹالین ہیڈکوارٹر، سیکٹر ہیڈکوارٹر اور 36 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور اے پی سیز بھی تباہ کیے گئے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ افغان طالبان اور بعض بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس جھوٹا اور بے بنیاد پراپیگنڈا کر رہے ہیں، تاہم عملی میدان میں شکست کے بعد انہیں جھوٹ کے پیچھے چھپنے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ کارروائیوں میں 36 طالبان ہلاک اور وطن کے دفاع میں پاک فوج کے دو جوان شہید اور تین زخمی ہوئے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھاتا رہے گا اور کسی بھی دشمن کے ناپاک عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔

متعدد ہیڈکوارٹرز اور دفاعی تنصیبات تباہ، مشرف زیدی

وزیرِ اعظم پاکستان کے ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی نے پاک افغان سرحد پر جاری صورتحال سے متعلق تازہ ترین معلومات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں پاکستان کی فوری اور مؤثر جوابی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔

اپنے سوشل میڈیا بیان میں مشرف زیدی نے بتایا کہ جمعہ 27 فروری کو صبح 3 بج کر 45 منٹ تک کی صورتحال کے مطابق افغانستان میں مختلف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تازہ کارروائیوں میں مجموعی طور پر 133 افغان طالبان کے ہلاک اور 200 سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ کابل، پکتیا اور قندھار میں فوجی اہداف پر حملوں کے نتیجے میں مزید جانی نقصان کا تخمینہ بھی لگایا جا رہا ہے۔

ترجمان کے مطابق اب تک 27 افغان طالبان پوسٹس تباہ اور 9 پر قبضہ کیا جا چکا ہے۔ کارروائیوں کے دوران دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، دو ایمونیشن ڈپو، ایک لاجسٹک بیس، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز اور دو سیکٹر ہیڈکوارٹرز کو بھی تباہ کیا گیا ہے، جبکہ 80 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور آرمڈ پرسنل کیریئرز کو نشانہ بنایا گیا۔

مشرف زیدی نے واضح کیا کہ پاکستانی فورسز کی کسی پوسٹ پر قبضہ نہیں ہوا، نہ ہی کسی اہلکار کے قید یا شہادت کی اطلاع ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نقصان یا افغان فضائی حملوں سے متعلق گردش کرنے والے دعوے بے بنیاد ہیں اور بھارت کے ایجنٹس کی جانب سے پھیلایا گیا فیک پروپیگنڈا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج سرحدی سلامتی کے تحفظ اور ملک کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی جارحیت کا فوری اور مؤثر جواب دیا جاتا رہے گا۔

افغان طالبان کی جارحیت ناقابل برداشت، مسلح افواج نے منہ توڑ جواب دیا، محسن نقوی

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے افغان طالبان رجیم کی جانب سے شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے کھلی جارحیت کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا ہے، اور دفاع وطن کے لیے ہمہ وقت الرٹ ہیں۔

 وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے بیان میں کہا کہ افغان طالبان کی جانب سے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بزدل دشمن نے رات کی تاریکی میں وار کیا، تاہم پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کی جارحیت ناقابل برداشت ہے اور حملہ کر کے انہوں نے بھیانک غلطی کی ہے، جس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم اپنی سلامتی پر آنچ نہیں آنے دیں گے اور ہر قیمت پر ملک کا دفاع کریں گے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج دفاع وطن کے لیے مکمل طور پر تیار اور مستعد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور دشمن کی کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

آپریشن غضب للحق کے تحت طالبان کے متعدد ٹھکانے تباہ

قبل ازیں سیکیورٹی ذرائع نے آگاہ کیا تھا کہ پاک فوج کی سیکیورٹی فورسز افغان طالبان کی بلا اشتعال دراندازی کے جواب میں بھرپور کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں، جسے آپریشن غضب للحق کا نام دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کرم سیکٹر کے قریب طالبان کے کئی ٹھکانے تباہ کیے گئے اور 8 مزید افغان طالبان جنگجو جہنم واصل ہوئے۔

اب تک کی مصدقہ اطلاعات کے مطابق تقریباً 44 افغان طالبان ہلاک ہو چکے ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج نے واضح کیا ہے کہ وہ ملکی سلامتی اور سرحدی حدود کے تحفظ کے لیے کسی بھی بلا اشتعال جارحیت کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دینے کے لیے پرعزم ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے پاکستان۔افغانستان سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ اور جارحیت کے بعد پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری، بھرپور اور منہ توڑ جواب دیتے ہوئے متعدد طالبان ٹھکانے اور چیک پوسٹس تباہ کر دیں جب کہ کئی پوسٹوں پر پاکستان نے قبضہ کر لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے مختلف سرحدی سیکٹرز میں افغان فورسز کی فائرنگ کا منہ توڑ جواب دیا جا رہا ہے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق افغان جانب بھاری جانی نقصان ہوا ہے جبکہ کئی پوسٹس اور عسکری سازوسامان تباہ ہو چکا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے پاک افغان سرحد پر مختلف مقامات پر فائرنگ کی جس کے جواب میں پاکستانی فورسز پوری قوت کے ساتھ کارروائی کر رہی ہیں۔ جوابی حملوں میں طالبان کے ٹھکانے تباہ ہوئے اور خوارج پسپا ہو گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے چترال سیکٹر میں افغان طالبان کی ایک چیک پوسٹ کو انتہائی مہارت سے نشانہ بنا کر تباہ کیا۔ اسی طرح باجوڑ کے نواگئی سیکٹر، خیبر کے تیراہ، مہمند ضلع اور چترال کے ارندو سیکٹر میں بھی بھرپور کارروائی کی گئی۔

افغان طالبان پاکستانی جوابی کارروائی کے بعد فرار

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کے جواب میں پاکستانی افواج نے مؤثر اور منہ توڑ کارروائی کی، جس کے بعد افغان طالبان دم دبا کر تورخم بارڈر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق طالبان نے ٹرکوں پر سامان لاد کر افغانستان کی جانب نکلنے کی کوشش کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی افواج مادر وطن کے دفاع کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار ہیں اور کسی بھی سرحدی جارحیت کا فوری اور مؤثر جواب دینے کے لیے ہمہ وقت چوکس ہیں۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے سرحدی حدود میں اپنی مضبوط موجودگی برقرار رکھتے ہوئے دشمن کے عزائم ناکام بنا دیے ہیں۔

طالبان کی شہری آبادی پر فائرنگ

پاک افغان سرحد پر جاری کشیدگی اور فائرنگ کے تناظر میں باجوڑ کے سرحدی علاقوں میں اس وقت صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی جب سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز کے بھرپور جواب کے بعد افغان طالبان کی جانب سے مبینہ طور پر سول آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ سرحد پار سے کی گئی فائرنگ کے نتیجے میں ایک نوجوان اور ایک چھوٹی لڑکی زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر کے طبی امداد فراہم کی گئی۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے جبکہ سیکیورٹی فورسز سرحدی علاقوں میں الرٹ ہیں اور صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان رہنما کا دھمکی آمیز بیان، خودکش حملہ آوروں کے گروہ کا دعویٰ

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق باجوڑ میں افغان طالبان کی دو پوسٹس مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں۔ فورسز ہر قسم کی جارحیت کے خلاف فوری اور سخت ردعمل دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور سرحدی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

افواج پاکستان ہر جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار، وزیر اعظم کا پیغام

وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان کی عوام اور مسلح افواج ملک کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ افواج پاکستان کسی بھی جارحانہ حرکت کو ناکام بنانے اور وطنِ عزیز کے دفاع میں ہر ممکن اقدام کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 72 اہلکار ہلاک، 120 سے زائد زخمی، 16 پوسٹیں تباہ کر دی گئی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ

وزیراعظم کے مطابق افواجِ پاکستان، چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں قومی جذبے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ وہ اعلیٰ تربیت، پیشہ ورانہ مہارت اور مؤثر دفاعی حکمتِ عملی سے لیس ہیں اور کسی بھی اندرونی یا بیرونی خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وطن کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ہر جارحیت کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ امن کو فروغ دیتا رہا ہے، لیکن ملکی سرحدوں اور قومی سلامتی کے حوالے سے کسی بھی خطرے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

دشمن کے عزائم کو ناکام بنائیں گے، صدرِ مملکت کا پیغام

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کی قوم اور مسلح افواج وطن کی سالمیت اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن، استحکام اور علاقائی سالمیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور دباؤ یا دھمکی سے مرعوب نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 72 اہلکار ہلاک، 120 سے زائد زخمی، 16 پوسٹیں تباہ کر دی گئی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ

صدر نے کہا کہ افواج پاکستان کی جوابی صلاحیت ہمہ گیر، بروقت اور فیصلہ کن ہے اور دشمن کے ناپاک عزائم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی بھرپور استعداد رکھتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان تصادم نہیں چاہتا، لیکن اگر کسی نے ملک کے امن کو کمزوری سمجھا تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔

صدر زرداری نے افغان طالبان رجیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ سال سے یہ گروہ ٹی ٹی پی دہشتگردوں کے ذریعے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ پاکستان نے برادر ممالک کی معاونت سے اسے راہِ اعتدال پر لانے کی کوشش کی، مگر کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر خونریزی کا سلسلہ جاری رہا تو ذمہ دار عناصر کو رسائی سے باہر کوئی نہیں ہوگا۔

پاک افغان سرحدی جھڑپیں: دشمن کی شکست مقدر ہے، افواج فیصلہ کن جواب دے رہی ہیں، خواجہ آصف

پاک افغان سرحدی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے دو ٹوئٹس میں کہا ہے کہ پاکستان کی بہادر افواج ہندوستان کی پراکسی طالبان اور افغان جارحیت کا منہ توڑ جواب دے رہی ہیں اور دشمن کی شکست مقدر ہے، ان شاء اللہ۔

انہوں نے واضح کیا کہ افواج پاکستان ہر حال میں وطن کی حفاظت اور سرحدی سلامتی کے لیے سرگرم ہیں اور ہر جارحیت کا فوری اور مؤثر جواب دیا جا رہا ہے۔

وزیر دفاع نے اپنے پیغام میں کہا کہ نیٹو افواج کے انخلا کے بعد توقع تھی کہ افغانستان میں امن قائم ہوگا اور طالبان افغان عوام کے مفادات اور خطے میں استحکام پر توجہ دیں گے، تاہم ان کے بقول طالبان نے افغانستان کو بھارت کی کالونی بنا دیا اور دنیا بھر کے دہشتگرد عناصر کو وہاں جمع کر کے دہشتگردی برآمد کرنا شروع کر دی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا گیا اور خواتین کو وہ حقوق بھی نہیں دیے جا رہے جو اسلام عطا کرتا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے براہ راست اور دوست ممالک کے ذریعے حالات معمول پر رکھنے کی کوششیں کیں اور بھرپور سفارت کاری کی، مگر طالبان بھارت کی پراکسی بن گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پاکستان کو جارحیت کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو افواج پاکستان فیصلہ کن جواب دے رہی ہیں۔

وزیر دفاع نے یاد دلایا کہ پاکستان نے گزشتہ 50 برسوں سے تقریباً 50 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی اور آج بھی لاکھوں افغان شہری پاکستان میں روزگار کما رہے ہیں، تاہم ان کے بقول اب صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج اپنے ہمسایوں سے بخوبی واقف ہے اور ملکی دفاع کے لیے ہر حد تک جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ایک اور ٹوئٹ میں وزیر دفاع نے کہا کہ بہتر ہوتا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور کارکن خیبر پختونخوا اور وفاقی سطح پر دیگر صوبوں کے ساتھ شانہ بشانہ دفاعِ وطن میں کردار ادا کرتے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے تحفظ اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

بلا اشتعال کارروائی کو فوری اور مؤثر جواب دیا گیا

وزارتِ اطلاعات و نشریات نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کی بلا اشتعال کارروائی کو فوری اور مؤثر جواب دیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق طالبان نے خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر بلا جواز فائرنگ کی جس کا پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ سیکٹرز میں طالبان کو سخت نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق افغان جانب بھاری جانی نقصان ہوا ہے جبکہ متعدد پوسٹس اور سازوسامان تباہ ہو چکے ہیں۔ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

پاکستانی فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں باجوڑ میں نواگئی، خیبر میں تیراہ، مہمند اور  چترال آرودو کے مقام پر طالبان پوسٹس مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں۔

پاکستان کے خلاف ہر دشمن کو جواب دیا جائے گا، بیرسٹر گوہر

تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ اللہ پاکستان کو ہمیشہ محفوظ رکھے۔ ہم جہاں بھی ممکن ہو اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن قائم رکھنے کی کوشش کریں گے، لیکن ان کی طرف سے پاکستان کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے سے ہرگز دریغ نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہر دشمن کو انجام تک پہنچایا جائے گا اور پاکستان کے خلاف افغانستان کی اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز، ان شاء اللہ، قوم کی دعاؤں کے ساتھ اپنے ملک کا دفاع کریں گی اور ہماری دعائیں اور حمایت ہمیشہ ان کے ساتھ ہیں۔

 پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں، تحریک انصاف

پاکستان تحریکِ انصاف نے افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں جاری دہشتگرد کارروائیوں اور افغان حکومت کی جارحیت کے جواب میں پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے۔

پارٹی نے تاکید کی ہے کہ وطن کے دفاع میں جان نچھاور کرنے والے فوجی اور شہری شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا، اور ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنا اولین ترجیح ہے۔ تحریکِ انصاف کے ترجمان شیخ وقاص اکرم نے یہ موقف ٹوئٹ میں جاری کیا۔

تحریک انصاف کے ترجمان شیخ وقاص اکرم نے ٹوئٹ میں کہا کہ پاکستان نے ہر مشکل گھڑی میں افغانستان کا ساتھ دیا اور انسانی ہمدردی کے تحت بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کو پناہ دی، لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔

ان کے مطابق افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے، جہاں دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نازک صورتِ حال میں تحریکِ انصاف اپنے بہادر جوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ تعالی پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ پارٹی نے رمضان کے بابرکت مہینے میں بھی دہشت گرد کارروائیوں کے نتیجے میں شہید ہونے والے فوجی جوانوں اور شہریوں کے صبر و تحمل کو سراہا۔

یاد رہے کہ طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ٹوئٹ میں اعلان کیا تھا کہ پاکستانی فوج کے مخصوص حلقے کی بار بار سرکشی اور تمرد کے جواب میں ڈیورنڈ لائن کے ساتھ واقع فوجی مراکز اور تنصیبات کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق یہ کارروائی ان پاکستانی فوجی یونٹس کے خلاف کی گئی ہے جو طالبان کی حدود میں حرکت کرتے ہیں یا حکومتی مفادات کے خلاف سرگرم ہیں۔ تاہم پاکستانی حکام نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ افغان طالبان کی بلا جواز فائرنگ کے جواب میں قومی سلامتی اور سرحدی حدود کے تحفظ کے لیے قانونی اور مؤثر کارروائی کی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

افغان طالبان کی جارحیت ناقابل برداشت، مسلح افواج نے منہ توڑ جواب دیا، محسن نقوی

کابل، قندھار اور پکتیا میں پاک فضائیہ کے حملے، افغان ترجمان نے تصدیق کردی

پاک فوج کے بہادر جوانوں کے ساتھ کھڑے ہیں، پی ٹی آئی

پاک افغان سرحدی جھڑپیں: دشمن کی شکست مقدر ہے، افواج فیصلہ کن جواب دے رہی ہیں، خواجہ آصف

افواج پاکستان ہر جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں، صدر مملکت اور وزیر اعظم کے پیغامات

ویڈیو

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

پاکستان کیخلاف مودی، افغان اور نیتن یاہو کی ممکنہ سازش، قصور سانحہ، عمران ریاض بمقابلہ شاہد آفریدی

شعیب اختر بمقابلہ محسن نقوی، پنڈی ایکسپریس کا یوٹرن

کالم / تجزیہ

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟

روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان