پاکستان کی مسلح افواج نے افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں آپریشن غضب للحق کے تحت بھرپور اور مؤثر جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ صبح 3:40 بجے تک کی مصدقہ اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ کابل، پکتیا اور قندھار میں طالبان کے دفاعی اہداف کو فضائی اور زمینی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔
افغان طالبان کی 27 پوسٹیں تباہ اور 9 پوسٹوں پر قبضہ کیا جا چکا ہے۔ علاوہ ازیں دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، دو ایمونیشن ڈپو، ایک لاجسٹک بیس، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز، دو سیکٹر ہیڈکوارٹرز اور 80 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور اے پی سیز بھی تباہ کیے گئے ہیں۔
کابل، قندھار اور پکتیا میں پاک فضائیہ کے حملے، افغان ترجمان نے تصدیق کردی
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی فوج نے کابل، قندھار اور پکتیا کے بعض علاقوں میں فضائی حملے کیے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے پاکستانی فوج کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ان حملوں میں خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
The cowardly Pakistani military has carried out airstrikes in certain areas of Kabul, Kandahar, and Paktia; fortunately, there have been no reported casualties.
— Zabihullah (..ذبـــــیح الله م ) (@Zabehulah_M33) February 26, 2026
ذبیح اللہ مجاہد کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کی مسلح افواج افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں آپریشن غضب للحق کے تحت بھرپور اور مؤثر جوابی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ صبح 3:40 بجے تک کی مصدقہ اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ کابل، پکتیا اور قندھار میں طالبان کے دفاعی اہداف کو فضائی اور زمینی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق افغان طالبان کی 27 پوسٹیں تباہ اور 9 پوسٹوں پر قبضہ کیا جا چکا ہے۔ علاوہ ازیں دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، دو ایمونیشن ڈپو، ایک لاجسٹک بیس، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز، دو سیکٹر ہیڈکوارٹرز اور 80 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور اے پی سیز بھی تباہ کیے گئے ہیں۔
دونوں جانب سے بیانات کے بعد خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کی گفتگو اور ٹوئٹ
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے پاکستان ٹی وی سے گفتگو میں کہا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال جارحیت کی گئی، جس کا جواب انتہائی مستعدی اور مضبوط انداز میں دیا گیا۔ پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور مہارت کا بہترین استعمال کرتے ہوئے مادرِ وطن کا دفاع یقینی بنایا۔
آپریشن غضب للحق، دو بجے (الصبح)، 27 فروری 2026
▫️ افغان طالبان رجیم کے 72 کارندے ہلاک، 120 سے زائد زخمی
▫️ افغان طالبان رجیم کی 16 پوسٹیں تباہ، 7 پوسٹوں پر قبضہ
▫️ افغان طالبان رجیم کا ایک ایمونیشن ڈپو، بٹالین ہیڈکوارٹر، سیکٹر ہیڈکوارٹر اور 36 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور اے پی… https://t.co/siAPe9RsSC— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) February 26, 2026
انہوں نے بتایا کہ جوابی کارروائی نے افغان طالبان کو پچھاڑ کر رکھ دیا اور وہ بے یقینی کی صورتحال میں مبتلا ہو گئے۔ جواب اتنا مربوط اور مضبوط تھا کہ افغان طالبان سوشل میڈیا پر فیک نیوز پھیلانے پر مجبور ہوئے، اور ایک بین الاقوامی نیوز چینل کو بھی اپنی ٹوئٹ ڈیلیٹ کرنی پڑی۔
وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ ان کارروائیوں میں ایک بڑا اسلحہ ڈپو، بٹالین ہیڈکوارٹر تباہ اور 36 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور آرمڈ پرسنز کیریئرز بھی تباہ ہو چکے ہیں۔ پاکستانی فضائیہ نے قندھار، کابل اور پکتیا میں طالبان کی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس میں قندھار میں دو اور کابل میں ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر تباہ ہوئے۔
عطا تارڑ نے اپنی ٹوئٹ میں 27 فروری 2026 کی صبح 2 بجے تک کے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کے 72 کارندے ہلاک اور 120 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، 16 پوسٹیں تباہ اور 7 پوسٹوں پر قبضہ کیا جا چکا ہے، جبکہ ایک ایمونیشن ڈپو، بٹالین ہیڈکوارٹر، سیکٹر ہیڈکوارٹر اور 36 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور اے پی سیز بھی تباہ کیے گئے ہیں۔
افغان طالبان رجیم کی جانب سے پاکستان افغانستان سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ کی کاروائیوں کا بھرپور و مؤثر جواب دیا جا رہا ہے اور جاتا رہے گا.
افغان طالبان رجیم اور بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے جھوٹا و بے بنیاد پرپیگینڈا کیا جارہا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں.
خوش فہمیوں پر…
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) February 26, 2026
وفاقی وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ افغان طالبان اور بعض بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس جھوٹا اور بے بنیاد پراپیگنڈا کر رہے ہیں، تاہم عملی میدان میں شکست کے بعد انہیں جھوٹ کے پیچھے چھپنے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ کارروائیوں میں 36 طالبان ہلاک اور وطن کے دفاع میں پاک فوج کے دو جوان شہید اور تین زخمی ہوئے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھاتا رہے گا اور کسی بھی دشمن کے ناپاک عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔
متعدد ہیڈکوارٹرز اور دفاعی تنصیبات تباہ، مشرف زیدی
وزیرِ اعظم پاکستان کے ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی نے پاک افغان سرحد پر جاری صورتحال سے متعلق تازہ ترین معلومات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں پاکستان کی فوری اور مؤثر جوابی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔
اپنے سوشل میڈیا بیان میں مشرف زیدی نے بتایا کہ جمعہ 27 فروری کو صبح 3 بج کر 45 منٹ تک کی صورتحال کے مطابق افغانستان میں مختلف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تازہ کارروائیوں میں مجموعی طور پر 133 افغان طالبان کے ہلاک اور 200 سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ کابل، پکتیا اور قندھار میں فوجی اہداف پر حملوں کے نتیجے میں مزید جانی نقصان کا تخمینہ بھی لگایا جا رہا ہے۔
Update on the situation at the Pakistan Afghanistan border as of 0345 hrs Friday February 27
Pakistani counter strikes against targets in Afghanistan continue.
A total of 133 Afghan Taliban are confirmed killed, more than 200 wounded. Many more casualties estimated in strikes…
— Mosharraf Zaidi 🇵🇰 (@mosharrafzaidi) February 26, 2026
ترجمان کے مطابق اب تک 27 افغان طالبان پوسٹس تباہ اور 9 پر قبضہ کیا جا چکا ہے۔ کارروائیوں کے دوران دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، دو ایمونیشن ڈپو، ایک لاجسٹک بیس، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز اور دو سیکٹر ہیڈکوارٹرز کو بھی تباہ کیا گیا ہے، جبکہ 80 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور آرمڈ پرسنل کیریئرز کو نشانہ بنایا گیا۔
مشرف زیدی نے واضح کیا کہ پاکستانی فورسز کی کسی پوسٹ پر قبضہ نہیں ہوا، نہ ہی کسی اہلکار کے قید یا شہادت کی اطلاع ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نقصان یا افغان فضائی حملوں سے متعلق گردش کرنے والے دعوے بے بنیاد ہیں اور بھارت کے ایجنٹس کی جانب سے پھیلایا گیا فیک پروپیگنڈا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج سرحدی سلامتی کے تحفظ اور ملک کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی جارحیت کا فوری اور مؤثر جواب دیا جاتا رہے گا۔
افغان طالبان کی جارحیت ناقابل برداشت، مسلح افواج نے منہ توڑ جواب دیا، محسن نقوی
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے افغان طالبان رجیم کی جانب سے شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے کھلی جارحیت کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا ہے، اور دفاع وطن کے لیے ہمہ وقت الرٹ ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے بیان میں کہا کہ افغان طالبان کی جانب سے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بزدل دشمن نے رات کی تاریکی میں وار کیا، تاہم پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کی جارحیت ناقابل برداشت ہے اور حملہ کر کے انہوں نے بھیانک غلطی کی ہے، جس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم اپنی سلامتی پر آنچ نہیں آنے دیں گے اور ہر قیمت پر ملک کا دفاع کریں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج دفاع وطن کے لیے مکمل طور پر تیار اور مستعد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور دشمن کی کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
آپریشن غضب للحق کے تحت طالبان کے متعدد ٹھکانے تباہ
قبل ازیں سیکیورٹی ذرائع نے آگاہ کیا تھا کہ پاک فوج کی سیکیورٹی فورسز افغان طالبان کی بلا اشتعال دراندازی کے جواب میں بھرپور کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں، جسے آپریشن غضب للحق کا نام دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کرم سیکٹر کے قریب طالبان کے کئی ٹھکانے تباہ کیے گئے اور 8 مزید افغان طالبان جنگجو جہنم واصل ہوئے۔
اب تک کی مصدقہ اطلاعات کے مطابق تقریباً 44 افغان طالبان ہلاک ہو چکے ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج نے واضح کیا ہے کہ وہ ملکی سلامتی اور سرحدی حدود کے تحفظ کے لیے کسی بھی بلا اشتعال جارحیت کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دینے کے لیے پرعزم ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے پاکستان۔افغانستان سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ اور جارحیت کے بعد پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری، بھرپور اور منہ توڑ جواب دیتے ہوئے متعدد طالبان ٹھکانے اور چیک پوسٹس تباہ کر دیں جب کہ کئی پوسٹوں پر پاکستان نے قبضہ کر لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے مختلف سرحدی سیکٹرز میں افغان فورسز کی فائرنگ کا منہ توڑ جواب دیا جا رہا ہے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق افغان جانب بھاری جانی نقصان ہوا ہے جبکہ کئی پوسٹس اور عسکری سازوسامان تباہ ہو چکا ہے۔
Breaking 🚨
Intense Clashes between Pakistan Army and Afghan Taliban have now spread from Nawa Pass on the Pak-Afghan border on Bajaur/Kunar between Pakistan and Afghanistan.
Seems like Tonight is the Night.
May Allah Help Pakistan. 🇵🇰 pic.twitter.com/ECUaSnUBcb
— Armed Forces Update (@ArmedUpdat1947) February 26, 2026
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے پاک افغان سرحد پر مختلف مقامات پر فائرنگ کی جس کے جواب میں پاکستانی فورسز پوری قوت کے ساتھ کارروائی کر رہی ہیں۔ جوابی حملوں میں طالبان کے ٹھکانے تباہ ہوئے اور خوارج پسپا ہو گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے چترال سیکٹر میں افغان طالبان کی ایک چیک پوسٹ کو انتہائی مہارت سے نشانہ بنا کر تباہ کیا۔ اسی طرح باجوڑ کے نواگئی سیکٹر، خیبر کے تیراہ، مہمند ضلع اور چترال کے ارندو سیکٹر میں بھی بھرپور کارروائی کی گئی۔
افغان طالبان پاکستانی جوابی کارروائی کے بعد فرار
افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کے جواب میں پاکستانی افواج نے مؤثر اور منہ توڑ کارروائی کی، جس کے بعد افغان طالبان دم دبا کر تورخم بارڈر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق طالبان نے ٹرکوں پر سامان لاد کر افغانستان کی جانب نکلنے کی کوشش کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی افواج مادر وطن کے دفاع کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار ہیں اور کسی بھی سرحدی جارحیت کا فوری اور مؤثر جواب دینے کے لیے ہمہ وقت چوکس ہیں۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے سرحدی حدود میں اپنی مضبوط موجودگی برقرار رکھتے ہوئے دشمن کے عزائم ناکام بنا دیے ہیں۔
طالبان کی شہری آبادی پر فائرنگ
پاک افغان سرحد پر جاری کشیدگی اور فائرنگ کے تناظر میں باجوڑ کے سرحدی علاقوں میں اس وقت صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی جب سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز کے بھرپور جواب کے بعد افغان طالبان کی جانب سے مبینہ طور پر سول آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ سرحد پار سے کی گئی فائرنگ کے نتیجے میں ایک نوجوان اور ایک چھوٹی لڑکی زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر کے طبی امداد فراہم کی گئی۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے جبکہ سیکیورٹی فورسز سرحدی علاقوں میں الرٹ ہیں اور صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان رہنما کا دھمکی آمیز بیان، خودکش حملہ آوروں کے گروہ کا دعویٰ
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق باجوڑ میں افغان طالبان کی دو پوسٹس مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں۔ فورسز ہر قسم کی جارحیت کے خلاف فوری اور سخت ردعمل دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور سرحدی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
افواج پاکستان ہر جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار، وزیر اعظم کا پیغام
وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان کی عوام اور مسلح افواج ملک کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ افواج پاکستان کسی بھی جارحانہ حرکت کو ناکام بنانے اور وطنِ عزیز کے دفاع میں ہر ممکن اقدام کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
وزیراعظم کے مطابق افواجِ پاکستان، چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں قومی جذبے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ وہ اعلیٰ تربیت، پیشہ ورانہ مہارت اور مؤثر دفاعی حکمتِ عملی سے لیس ہیں اور کسی بھی اندرونی یا بیرونی خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وطن کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ہر جارحیت کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ امن کو فروغ دیتا رہا ہے، لیکن ملکی سرحدوں اور قومی سلامتی کے حوالے سے کسی بھی خطرے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
دشمن کے عزائم کو ناکام بنائیں گے، صدرِ مملکت کا پیغام
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کی قوم اور مسلح افواج وطن کی سالمیت اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن، استحکام اور علاقائی سالمیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور دباؤ یا دھمکی سے مرعوب نہیں ہوگا۔
صدر نے کہا کہ افواج پاکستان کی جوابی صلاحیت ہمہ گیر، بروقت اور فیصلہ کن ہے اور دشمن کے ناپاک عزائم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی بھرپور استعداد رکھتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان تصادم نہیں چاہتا، لیکن اگر کسی نے ملک کے امن کو کمزوری سمجھا تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔

صدر زرداری نے افغان طالبان رجیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ سال سے یہ گروہ ٹی ٹی پی دہشتگردوں کے ذریعے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ پاکستان نے برادر ممالک کی معاونت سے اسے راہِ اعتدال پر لانے کی کوشش کی، مگر کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر خونریزی کا سلسلہ جاری رہا تو ذمہ دار عناصر کو رسائی سے باہر کوئی نہیں ہوگا۔
پاک افغان سرحدی جھڑپیں: دشمن کی شکست مقدر ہے، افواج فیصلہ کن جواب دے رہی ہیں، خواجہ آصف
پاک افغان سرحدی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے دو ٹوئٹس میں کہا ہے کہ پاکستان کی بہادر افواج ہندوستان کی پراکسی طالبان اور افغان جارحیت کا منہ توڑ جواب دے رہی ہیں اور دشمن کی شکست مقدر ہے، ان شاء اللہ۔
انہوں نے واضح کیا کہ افواج پاکستان ہر حال میں وطن کی حفاظت اور سرحدی سلامتی کے لیے سرگرم ہیں اور ہر جارحیت کا فوری اور مؤثر جواب دیا جا رہا ہے۔
نیٹو کی افواج کے انخلاء کے بعد یہ توقع کی جاتی تھی کہ افغانستان میں امن ھو گا اور طالبان افغانُ عوام کے مفادات اور علاقہ میں امن پہ توجہ مرکوز کریںُ گے۔مگر طالبان نے افغانستان کو ھندوستان کی کالونی بنا دیا۔ ساری دنیا کے دھشت گردوں کا افغانستان میں اکٹھا کر لیا اور دھشت گردی کو…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) February 26, 2026
وزیر دفاع نے اپنے پیغام میں کہا کہ نیٹو افواج کے انخلا کے بعد توقع تھی کہ افغانستان میں امن قائم ہوگا اور طالبان افغان عوام کے مفادات اور خطے میں استحکام پر توجہ دیں گے، تاہم ان کے بقول طالبان نے افغانستان کو بھارت کی کالونی بنا دیا اور دنیا بھر کے دہشتگرد عناصر کو وہاں جمع کر کے دہشتگردی برآمد کرنا شروع کر دی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا گیا اور خواتین کو وہ حقوق بھی نہیں دیے جا رہے جو اسلام عطا کرتا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے براہ راست اور دوست ممالک کے ذریعے حالات معمول پر رکھنے کی کوششیں کیں اور بھرپور سفارت کاری کی، مگر طالبان بھارت کی پراکسی بن گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پاکستان کو جارحیت کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو افواج پاکستان فیصلہ کن جواب دے رہی ہیں۔
ھماری بہادر افواج اسوقت ھندوستان کی پراکسی طالبان و افغان جارحیت کا منہ توڑ جواب دے رہی ھیں ۔ شکست دشمن کا مقدر ھے انشا ء اللہ
اچھا ھو کہُ پی ٹی آئ پختونخواہ اور وفاقی سطح پہ اسوقت وفاق اور دوسرے صوبوں کیساتھ شانہ بشانہ دفاع وطن میں روز روشن کیطرح شریک ھو۔— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) February 26, 2026
وزیر دفاع نے یاد دلایا کہ پاکستان نے گزشتہ 50 برسوں سے تقریباً 50 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی اور آج بھی لاکھوں افغان شہری پاکستان میں روزگار کما رہے ہیں، تاہم ان کے بقول اب صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج اپنے ہمسایوں سے بخوبی واقف ہے اور ملکی دفاع کے لیے ہر حد تک جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ایک اور ٹوئٹ میں وزیر دفاع نے کہا کہ بہتر ہوتا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور کارکن خیبر پختونخوا اور وفاقی سطح پر دیگر صوبوں کے ساتھ شانہ بشانہ دفاعِ وطن میں کردار ادا کرتے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے تحفظ اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
بلا اشتعال کارروائی کو فوری اور مؤثر جواب دیا گیا
وزارتِ اطلاعات و نشریات نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کی بلا اشتعال کارروائی کو فوری اور مؤثر جواب دیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق طالبان نے خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر بلا جواز فائرنگ کی جس کا پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔
Afghan Taliban regime unprovoked action along the Pakistan–Afghanistan border given an immediate, and effective response.
Afghan Taliban miscalculated and opened unprovoked fire on multiple locations across Pakistan Afghanistan border in KP which is being met with immediate, and…
— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) February 26, 2026
بیان میں کہا گیا کہ چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ سیکٹرز میں طالبان کو سخت نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق افغان جانب بھاری جانی نقصان ہوا ہے جبکہ متعدد پوسٹس اور سازوسامان تباہ ہو چکے ہیں۔ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
پاکستانی فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں باجوڑ میں نواگئی، خیبر میں تیراہ، مہمند اور چترال آرودو کے مقام پر طالبان پوسٹس مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں۔
پاکستان کے خلاف ہر دشمن کو جواب دیا جائے گا، بیرسٹر گوہر
تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ اللہ پاکستان کو ہمیشہ محفوظ رکھے۔ ہم جہاں بھی ممکن ہو اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن قائم رکھنے کی کوشش کریں گے، لیکن ان کی طرف سے پاکستان کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے سے ہرگز دریغ نہیں کریں گے۔
اللہ پاکستان کو ہمیشہ محفوظ رکھیں۔ ہم جہاں بھی ہو سکےاپنے پڑوسیوں سے امن قائم کریں گے لیکن انکی طرف سے پاکستان کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے سے ہرگز دریغ نہیں کریں گے۔ ہر دشمن کو انجام تک پہنچائبگے۔ پاکستان کے خلاف افغانستان کی اشتغال انگزی کا بھر پور جواب دیاجائیگا۔ پاکستان کی…
— Barrister Gohar Khan (@BarristerGohar) February 26, 2026
انہوں نے کہا کہ ہر دشمن کو انجام تک پہنچایا جائے گا اور پاکستان کے خلاف افغانستان کی اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز، ان شاء اللہ، قوم کی دعاؤں کے ساتھ اپنے ملک کا دفاع کریں گی اور ہماری دعائیں اور حمایت ہمیشہ ان کے ساتھ ہیں۔
پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں، تحریک انصاف
پاکستان تحریکِ انصاف نے افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں جاری دہشتگرد کارروائیوں اور افغان حکومت کی جارحیت کے جواب میں پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے۔
پارٹی نے تاکید کی ہے کہ وطن کے دفاع میں جان نچھاور کرنے والے فوجی اور شہری شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا، اور ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنا اولین ترجیح ہے۔ تحریکِ انصاف کے ترجمان شیخ وقاص اکرم نے یہ موقف ٹوئٹ میں جاری کیا۔
پاکستان نے ہر مشکل گھڑی میں افغانستان کا ساتھ دیا اور انسانی ہمدردی کے تحت بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کو پناہ دی۔ یہ کتنی افسوسناک بات ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکا…
— Sheikh Waqas Akram (@SheikhWaqqas) February 26, 2026
تحریک انصاف کے ترجمان شیخ وقاص اکرم نے ٹوئٹ میں کہا کہ پاکستان نے ہر مشکل گھڑی میں افغانستان کا ساتھ دیا اور انسانی ہمدردی کے تحت بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کو پناہ دی، لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے، جہاں دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نازک صورتِ حال میں تحریکِ انصاف اپنے بہادر جوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ تعالی پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ پارٹی نے رمضان کے بابرکت مہینے میں بھی دہشت گرد کارروائیوں کے نتیجے میں شہید ہونے والے فوجی جوانوں اور شہریوں کے صبر و تحمل کو سراہا۔
یاد رہے کہ طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ٹوئٹ میں اعلان کیا تھا کہ پاکستانی فوج کے مخصوص حلقے کی بار بار سرکشی اور تمرد کے جواب میں ڈیورنڈ لائن کے ساتھ واقع فوجی مراکز اور تنصیبات کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ رَمَىٰ ۚ
ردًّا على حالات التمرد والاعتداءات المتكررة من قبل الدوائر العسكرية الباكستانية، بدأت عمليات هجومية واسعة على مراكز الجيش الباكستاني ومنشآته العسكرية على امتداد خط ديورند.
اللهم انصر المجاهدين في كل مكان!
— Zabihullah (..ذبـــــیح الله م ) (@Zabehulah_M33) February 26, 2026
ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق یہ کارروائی ان پاکستانی فوجی یونٹس کے خلاف کی گئی ہے جو طالبان کی حدود میں حرکت کرتے ہیں یا حکومتی مفادات کے خلاف سرگرم ہیں۔ تاہم پاکستانی حکام نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ افغان طالبان کی بلا جواز فائرنگ کے جواب میں قومی سلامتی اور سرحدی حدود کے تحفظ کے لیے قانونی اور مؤثر کارروائی کی گئی ہے۔













