طالبان لیڈر کا نیا فرمان: سزائے موت کا دائرہ وسیع، خواتین پر مزید پابندیاں عائد کردی گئیں

جمعہ 27 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان میں طالبان رجیم کی طرف سے ایک نیا فرمان جاری کیا گیا ہے جس کے بارے میں اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اس سے ملک میں بنیادی حقوق اور آزادیوں کو مزید کچلا جائے گا، خصوصاً خواتین کے حقوق کو شدید نقصان پہنچے گا۔

خواتین اور بچیوں پر پابندیاں مزید سخت

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے جمعرات کو کہا کہ طالبان کی جانب سے جاری کردہ نیا حکم نامہ افغانستان کی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں سے متصادم ہے۔

طالبان نے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد خواتین کی نقل و حرکت محدود کر دی، بچیوں کی پرائمری سے آگے تعلیم پر پابندی عائد کی اور متعدد ایسے قوانین نافذ کیے جن کے تحت اظہارِ رائے اور روزگار کے مواقع بھی محدود کر دیے گئے۔

سزائے موت اور جسمانی سزاؤں میں اضافہ

وولکر ترک نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے جنیوا میں ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کی جانب سے گزشتہ ماہ دستخط شدہ فرمان میں کئی ایسے جرائم اور سزاؤں کا ذکر کیا گیا ہے جو بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہیں۔

ان کے مطابق اس فرمان میں متعدد جرائم پر جسمانی سزا کی اجازت دی گئی ہے، حتیٰ کہ گھریلو معاملات میں بھی، جس سے خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد کو جواز مل سکتا ہے۔

مزید برآں اس حکم نامے میں ایسے جرائم کی تعداد بڑھا دی گئی ہے جن پر سزائے موت دی جا سکتی ہے۔

اظہارِ رائے پر پابندیاں

فرمان کے تحت طالبان قیادت اور اس کی پالیسیوں پر تنقید کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے، جو آزادیٔ اظہار اور اجتماع کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ تاہم اس فرمان کی مکمل تفصیلات تاحال طالبان کی وزارتِ انصاف یا سپریم کورٹ کی جانب سے سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئیں، اور خبر رساں ادارے اس کی مکمل نقل حاصل نہیں کر سکے۔

’صنفی امتیاز پر مبنی نظام‘ کی تشبیہ

وولکر ترک نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فرمان کو واپس لیں، سزائے موت پر فوری پابندی (مورٹوریم) عائد کریں اور جسمانی سزاؤں کا خاتمہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام خواتین اور بچیوں کے لیے ایسے حالات پیدا کر رہا ہے جو صنفی امتیاز پر مبنی نظام (Gender Apartheid) سے مشابہ ہیں۔

طالبان حکومت کا مؤقف ہے کہ خواتین کے حقوق افغانستان کا داخلی معاملہ ہیں اور انہیں مقامی سطح پر ہی حل کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کا عمل تیز، 32 ہزار 588 افغان ڈی پورٹ

2025: 7,667 افراد ہجرت کے خطرناک راستوں پر چلتے ہوئے موت کے گھاٹ اتر گئے، اقوام متحدہ

مسلح افواج ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، فیلڈ مارشل اور سروسز چیفس

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

کم عمر بچوں کا انٹرنیٹ کا غلط استعمال روکنے کے لیے حکومت کیا کررہی ہے؟

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟

روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان