نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں کو نام نہاد ریاستی ملکیت میں تبدیل کرنے کے حالیہ اسرائیلی اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔
جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم کی ایگزیکٹو کمیٹی کے غیرمعمولی وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کو بتدریج ضم کرنے کی پالیسی خطے میں امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: او آئی سی اجلاس: سعودی عرب کا پھر آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ، ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
انہوں نے اسرائیلی اقدامات کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ او آئی سی کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے عملاً انضمام کے تمام اقدامات کی واپسی یقینی بنانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
اسحاق ڈار نے غزہ میں جنگ بندی پر سختی سے عملدرآمد، فوری انسانی امداد کی فراہمی اور غزہ کی بلاتاخیر تعمیرِ نو پر بھی زور دیا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایک باقاعدہ اور وقت مقررہ سیاسی عمل کے ذریعے 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست قائم کی جائے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
مزید پڑھیں: اسحاق ڈار کی او آئی سی سیکریٹری جنرل سے ملاقات، غزہ میں جنگ بندی اور فلسطینیوں کی امداد پر زور
وزیر خارجہ نے فلسطینی کاز کے لیے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، بورڈ آف پیس اور 8 عرب اسلامی ممالک کے گروپ میں اپنی رکنیت کے ذریعے فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کرتا رہا ہے۔
انہوں نے او آئی سی پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے بھی اپنی کوششیں تیز کرے اور تنازع جموں و کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے مؤثر سفارتی اقدامات کرے۔














