پاک افغان سرحد پر جھڑپوں میں شدت کے ساتھ ہی میدانِ جنگ میں عسکری صلاحیتوں کا واضح فرق بھی سامنے آ رہا ہے۔ برطانوی ادارے انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج کی تعداد تقریباً 6 لاکھ 60 ہزار اہلکاروں پر مشتمل ہے جو جدید فضائی، بحری اور جوہری صلاحیتوں سے لیس ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل
اس کے مقابلے میں افغان طالبان کے پاس اندازاً ایک لاکھ 72 ہزار جنگجو ہیں جن کی اکثریت زمینی دستوں پر مشتمل ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد چین کے تعاون سے اپنی عسکری استعداد کو مسلسل جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے جبکہ سنہ 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد افغان طالبان کی دفاعی صلاحیت میں بتدریج کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
فضائی طاقت اور اسٹریٹجک اثاثوں کے میدان میں فرق سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ پاکستان کے پاس تقریباً 465 لڑاکا طیارے، 260 سے زائد ہیلی کاپٹرز اور اندازاً 170 جوہری وارہیڈز موجود ہیں۔
اس کے برعکس افغانستان کے پاس فعال لڑاکا طیاروں کا کوئی مؤثر بیڑا موجود نہیں جبکہ محدود تعداد میں موجود پرانے طیاروں کی آپریشنل حالت بھی غیر یقینی بتائی جاتی ہے۔
زمینی محاذ پر بھی پاکستان کے پاس ہزاروں بکتر بند گاڑیاں اور توپخانے کے جدید نظام موجود ہیں جبکہ طالبان کے زیر استعمال عسکری ساز و سامان کی تعداد کم اور تفصیلات غیر واضح ہیں۔
مزید پڑھیں: کابل فال کے وقت افغان ایئر فورس طالبان کے خلاف امریکی ایئر کرافٹس کیوں استعمال نہیں کرپائی؟
ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار دونوں قوتوں کے درمیان واضح عدم توازن کی عکاسی کرتے ہیں۔














