پاکستان کی مذہبی قیادت کا مسئلہ کیا ہے؟ پاکستان کا افغانستان کے ساتھ تنازع ہو تو ان کا جھکاؤ افغانستان کی طرف ہوتاہے، ان کی محبت افغانستان کے لیے جوش مارتی ہے اور پاکستان کے حصے میں ان کی جانب سے صرف میٹھے میٹھے تنبیہہ بھرے مشورے ہی آتے ہیں، وابستگی دکھائی نہیں دیتی۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ ان کا سوتیلا پن کب ختم ہوگا؟ یہ دین سے وابستگی ہے یا اپنے اپنے فہمِ دین کی عصبیت ہے؟
مولانا فضل الرحمن صاحب قابل احترام شخصیت ہیں، ان کا تازہ بیان یہ ہے کہ پاک افغان صورتحال پر سیکیورٹی کے حوالے سے پاکستان کی شکایت جائز ہے۔ کافی تاخیر سے آیا یہ بیان بڑا ہی خوشگوار ہے لیکن معاملہ یہ ہے کہ اس فقرے کے ساتھ ہی ’تاہم‘ صاحب بھی تشریف لے آتے ہیں اور فقرہ مکمل یوں ہوتا ہے کہ تاہم افغانستان کی خود مختاری اور داخلی مشکلات کا احترام ضروری ہے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ فسانہ تو اٖفغانستان کی خود مختاری کا کہا جا رہا ہے بیچ میں زیب حکایت کے لیے، برائے وزن بیت، پاکستان کی شکایت کو بھی جائز قرار دے دیا گیا تا کہ بادی النظر میں یہی لگے کہ بات بڑے توازن کے ساتھ کہی گئی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب تک پاکستان نے جواب نہیں دیا تھا، مولانا نے ایک دفعہ افغانستان سے نہیں کہا کہ پاکستاان کی خود مختاری اور مشکلات کا احترام ضروری ہے۔ حالانکہ ادھر کے حکمرانوں میں مولانا کا حلقہ اثر موجود ہے۔ یہ تنبیہہ صرف پاکستان کے حصے میں آتی ہے۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں مولانا کا مداح ہونے کے باوجود یہاں بد گمانی کا مظاہرہ کر رہا ہوں تو ذرا مولانا کے آفیشل فیس بک اکاؤنٹ سے شئیر ہونے والے اس بیان کا اگلا حصہ خود پڑھ لیجیےاور فیصلہ کر لیجیے ۔ مولانا فرماتے ہیں: ’یکطرفہ عسکری مہم جوئی مسئلے کا حل نہیں‘۔
ذرا اصطلاح پرغور فرمائیے: ’یکطرفہ عسکری مہم جوئی‘۔ ذرا رکیے، ایک بار پھر پڑھ لیجیے، یکطرفہ عسکری مہم جوئی۔ یعنی کٹہرے میں پاکستان کو کھڑا کردیا گیا۔ وہ عسکری مہم جوئی کررہا ہے اوریکطرفہ طور پر کررہا ہے۔ یعنی دوسرا فریق تو گلاب کاشت کررہا ہے، بس پاکستان ہی یکطرفہ مہم جوئی کیے جا رہا ہے جو مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید پیچیدگی کا باعث بنے گی۔ یعنی ہم ابھی سے کہے دیتے ہیں تاکہ سند رہے کہ اگر مزید پیچیدگی پیدا ہوئی تو اس کا ذمہ دار بھی پاکستان ہوگا۔
مولانا کے سامنے، میں تو طفل مکتب ہوں، ان کے علم و فضل کے آگے بھی میری کوئی حیثیت نہیں، لیکن میں سوچ میں پڑ گیا ہوں کہ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ ایک طرف مولانا تسلیم کر رہے ہیں کہ سیکیورٹی کے حوالے سے پاکستان کی شکایات جائز ہیں۔ ساتھ ہی وہ پاکستان کویکطرفہ مہم جوئی کا الزام دے کر خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے جو خرابی ہوگی اس کے ذمہ دار تم ہی ہو گے۔ پہلے پاکستان میں مسلسل دہشتگردی ہوتی ہے اور جب اس کا جواب دیا جاتا ہے تو پاکستان کی 50 چوکیوں پر ہر طرف سے حملہ ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان کے حصے میں مولانا کی جانب سے یہ طعنہ آتا ہے کہ ’یکطرفہ مہم جوئی‘۔ اتنا تکلف بھی گوارا نہیں کہ اسے دوطرفہ مہم جوئی ہی کہہ دیا جاتا ۔
یہ بات تو سمجھ سے باہر ہے کہ اگرپاکستان کی سیکیورٹی کی شکایات درست ہیں تو پاکستان کی کارروائی یکطرفہ مہمم جوئی کیسے ہوگئی؟
ذرا یہ بھی دیکھ لیجیے کہ پاکستان کی سیکیورٹی کی شکایات کیا ہیں؟ یہ کہ افغانستان میں دہشتگرد پناہ گاہیں بنا کر بیٹھے ہیں۔ یہ کہ افغانستان ان کی سرپرستی کررہا ہے۔ یہ کہ بھارت کی بھی انہیں سرپرستی حاصل ہے۔ یہ کہ عین پاک بھارت جنگ کے وقت افغان حکام کا دورہ ہندوستان بہت کچھ بتا رہا ہے۔ یہ کہ پاکستان کا معاشرہ دہشتگردی کے ہاتھوں گھائل ہوا پڑا ہے اورافغانستان اپنی سرزمین کوپاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔
اگر پاکستان کی یہ شکایات درست ہیں تو پھر پاکستان کی جوابی کارروائی ’یکطرفہ عسکری مہم جوئی‘ کیسے ہوگئی؟ اگر پاکستان کی شکایات درست ہیں تو گویا پاکستان اپنی خودمختاری کے احترام کا مطالبہ کررہا ہے، حیرت یہ ہے کہ برسوں سے پامال ہوتی پاکستان کی خودمختاری دکھائی نہیں دے رہی اور4 گھنٹوں کی جوابی کارروائی سے مولانا افغانستان کی خود مختاری کی بات کرنے لگ گئے۔
پاکستان کی شکایات اگر درست ہیں، تو پاکستان اورکیا کرتا؟ پاکستان نے مذاکرات کیے، پاکستان نے درخواستیں کیں کہ ایسا نہ کریں، پاکستان نے ثالثوں کے ساتھ بیٹھ کر بھی مذاکرات کیے۔ پاکستان کے پاس اورکیا رستہ تھا؟ مولانا ردیف قافیے ملا کر پاکستان کو جس ذمہ دارانہ رویے کی تلقین فرما رہے ہیں، وہ ذمہ دارانہ رویہ کیا ہو سکتا تھا؟
صاف نظرآ رہا ہے کہ اصل میں پاکستان کو تنبیہہ کرنا مقصود ہے، بس ذرا تکلف کے طور پر، رسمی انداز سے، مطلع میں ایک فقرہ لکھ دیا ہے کہ پاکستان کی شکایات درست ہیں۔ اس کے بعد شاعرجوکچھ کہتا ہے پاکستان کو کٹہرے میں کھڑا کرکے کہتا ہے۔
مولانا تقی عثمانی صاحب کی حیثیت اورمرتبہ بھی مسلمہ ہے۔ ان کا ایک آڈیو کلپ گردش میں ہے۔ وہ فرما رہے ہیں کہ بھارت اوراسرائیل افغانستان کی مدد کا معاہدہ کرچکے ہیں کیونکہ ان کی نظروں میں پاکستان کھٹکتا ہے اور وہ دشمن کے دشمن کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں۔
لیکن یہ سب کہنے کے بعد محترم تقی عثمانی فرماتے ہیں کہ اس تلخ حقیقت کے باوجود ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ فائدہ مند نہیں۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان نے کب کہا کہ جنگ فائدہ مند ہے؟ پاکستان نے کب جنگ شروع کی؟ جنگ تو بھارت اور اسرائیل کی سرپرستی میں پاکستان پر مسلط کی گئی ہے اورمولانا خود اس کا اعتراف کر رہے ہیں۔ اب سوال وہی ہے کہ اس کے بعد پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟ کیا پاکستان کو دہشتگردی سے گھائل ہوتے رہنا چاہیے اور جواب نہیں دینا چاہیے؟
اسی سیاق و سباق سے ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں بار بار یہ بتانے کی مساعی جمیلہ کیوں کی جاتی ہیں کہ قیام پاکستان کے باب میں ہمارے اسلاف حق پر تھے؟ کیا اب زبان حال سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اللہ کا شکر ہے ہم پاکستان بچانے کے گناہ میں بھی شامل نہیں تھے؟
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












