اسلامی جمہوریہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری کے جواب میں چھٹے مرحلے کے جوابی حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایرانی افواج نے خطے میں اسرائیل اور امریکی فوجی اڈوں پر ‘وسیع پیمانے پر میزائل اور ڈرون’ حملے کیے ہیں۔ اس دوران ‘27 امریکی فوجی اڈے’، اسرائیل کے ‘ٹیل نوف ایئر بیس’، ‘تل ابیب میں اسرائیلی فوج کے کمانڈ ہیڈکوارٹر ہاکریا’، اور اسی شہر میں ایک بڑا دفاعی صنعتی کمپلیکس بھی نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران پر حملہ غیرضروری اور خطرناک، کانگریس اپنے اختیار سے ٹرمپ کو روکے، کملا ہیرس
مزید کہا گیا کہ ایرانی افواج ‘متواتر اور سخت جوابی کارروائیوں کے ذریعے دشمن کو مزید نادم کرنے والا ایک مختلف اور سخت انتقامی قدم’ اٹھائیں گی۔
دوحہ اور دبئی میں مزید دھماکے
قطر کے باشندوں نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ دارالحکومت دوحہ میں کم از کم 11 دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
رائٹرز نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق دبئی میں بھی کئی شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پیدا ہوا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی
اس سے کچھ دیر قبل ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی تاریخ میں سب سے زیادہ تباہ کن حملے کو جلد شروع کیا جائے گا، جس کے تحت مقبوضہ علاقوں اور امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی چند لمحوں میں شروع ہو جائے گی اور اس کا مقصد خطے میں موجود امریکی اڈوں اور مقبوضہ علاقوں میں دشمن کے اہداف کو شدید نقصان پہنچانا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی اور اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہونے والے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی زندگی پر ایک نظر
اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’عظیم رہنما‘ قرار دیا ہے اور ذمہ داروں سے انتقام لینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق آئی آر جی سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’ہم نے ایک عظیم رہنما کو کھو دیا ہے اور ہم ان کے غم میں سوگوار ہیں۔‘
The most devastating offensive operation in the history of the Islamic Republic of Iran's armed forces is set to begin shortly, targeting the occupied territories and the US bases.
Follow: https://t.co/mLGcUTS2ei pic.twitter.com/JWv6Mb1lO5
— Press TV 🔻 (@PressTV) March 1, 2026
بیان میں مزید کہا گیا کہ خامنہ ای کی ’انسانیت کے بدترین دہشتگردوں اور جلادوں کے ہاتھوں شہادت اس عظیم رہنما کی حقانیت اور ان کی مخلصانہ خدمات کی قبولیت کی علامت ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے: مشرق وسطیٰ کشیدگی: ایران کی امریکا کے خلاف جوابی کارروائی، ابو ظبی میں پاکستانی شہری جاں بحق
آئی آر جی سی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ’ایرانی قوم کا ہاتھِ انتقام انہیں ہرگز نہیں چھوڑے گا۔‘ بیان میں مزید کہا گیا کہ پاسدارانِ انقلاب داخلی اور خارجی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور ملک کے دفاع، قومی سلامتی اور انقلاب کے تحفظ کے لیے اپنا کردار جاری رکھیں گے۔
آئی آر جی سی کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک بھر میں سوگ کا اعلان کیا جا چکا ہے اور خطے کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔














