حکومتِ پنجاب نے صوبے میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے اجتماعات، جلوسوں اور مظاہروں پر پابندی عائد کردی ہے۔
یہ فیصلہ دہشتگردی کے ممکنہ خطرات اور امن عامہ کو لاحق خدشات کے پیش نظر کیا گیا۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے فوری طور پر نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے، جس کے مطابق چار یا اس سے زیادہ افراد کے عوامی اجتماعات ممنوع ہوں گے اور عوامی مقامات پر بغیر اجازت اجتماع منعقد کرنا جرم تصور کیا جائے گا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار دورانِ ڈیوٹی اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔
نوٹیفیکیشن کے تحت شادی بیاہ، جنازے، تدفین، سرکاری و نیم سرکاری دفاتر کے اجلاس اور عدالتیں پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ اس کے علاوہ عوامی مقامات پر اسلحہ کی نمائش اور استعمال پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔
انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق حساس اجتماعات دہشتگردی کا ہدف بن سکتے ہیں، اور شرپسند عناصر علما کرام کو نشانہ بنا کر فرقہ وارانہ بدامنی پیدا کر سکتے ہیں۔ پیشگی اقدامات کے تحت امن و امان برقرار رکھنے اور عوامی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
دفعہ 144 کے تحت یہ پابندیاں سات روز کے لیے نافذ کی گئی ہیں اور ضلعی انتظامیہ و پولیس کو سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔













