دفاعی تنصیبات پر کامیاب ایرانی حملوں نے امریکی سیکیورٹی پر نئی بحث چھیڑ دی

اتوار 1 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے بحرین میں قائم امریکی بحریہ کے اڈے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں خطے میں امریکی فضائی دفاعی نظام کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

حملے میں جانی نقصان کی اطلاع تو نہیں ملی، تاہم ویڈیوز میں میزائل اور ڈرون امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر کے قریب گرتے دکھائی دیے، جس سے دفاعی حصار کی ممکنہ کمزوریوں پر بحث چھڑ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جوابی ایرانی کارروائی میں 3 امریکی فوجی ہلاک، واشنگٹن نے تصدیق کردی

برطانوی میڈیا کے مطابق امریکی حکام کو ممکنہ حملے کی پیشگی خبر تھی اور اہلکاروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نے بحرین کو اس لیے ہدف بنایا کیونکہ ماضی میں یہاں فضائی دفاعی نظام نسبتاً محدود سمجھا جاتا رہا ہے۔

ویڈیوز میں ایرانی ’شاہد‘ ڈرون کو دفاعی نظام عبور کرتے دیکھا گیا، حالانکہ یہ نسبتاً سست رفتار ڈرون ہے جسے دیگر جنگی محاذوں پر عام ہتھیاروں سے بھی مار گرایا جا چکا ہے۔

امریکا نے حالیہ ہفتوں میں خطے میں اضافی پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل شکن نظام تعینات کیے ہیں، جب کہ خلیج اور مشرقی بحیرہ روم میں ارلی برک کلاس ڈسٹرائرز بھی موجود ہیں جو بیلسٹک میزائل اور ڈرون مار گرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سنہ 2024 سے 2026 کے دوران امریکا تقریباً 400 ڈرونز اور میزائل روکنے کا دعویٰ کر چکا ہے۔ اس کے باوجود ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ایران کے پاس تقریباً 2 ہزار مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور ہزاروں ڈرون موجود ہیں، جو کسی بھی دفاعی نظام پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران بظاہر محدود دائرے میں جوابی کارروائی کر رہا ہے اور وسیع جنگ سے گریز چاہتا ہے۔ تاہم اگر حملوں کی شدت اور رفتار میں اضافہ ہوا تو امریکا کے مہنگے اور محدود تعداد میں دستیاب دفاعی نظام پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:انتقام کو اپنا جائز حق اور فرض سمجھتے ہیں، ایرانی صدر کا ردعمل

ماہرین اس امر پر بھی زور دیتے ہیں کہ صرف فضائی برتری کسی تنازع کا حتمی حل نہیں ہوتی۔ یوکرین کی مثال دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ سینکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائلوں پر مشتمل پیچیدہ حملوں کے خلاف مکمل دفاع انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

خطے میں جاری کشیدگی نے واضح کر دیا ہے کہ جدید ترین دفاعی نظام بھی مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتے، خصوصاً ایسی جنگ میں جو ہزاروں میل دور لڑی جا رہی ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

چین کا سیاسی نظام عوامی فلاح پر مرکوز، جدیدیت کے فوائد عوام تک پہنچیں گے، مشاہد حسین سید

وائرڈ ہیڈفون: وائرلیس دور میں پرانی تکنیک کی واپسی

بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کے اشاریے بہتر ہو رہے ہیں، وزیر قانون

گوگل ڈاکس، شیٹس اور سلائیڈز میں جیمینی کے ذریعے خودکار مواد کی تیاری ممکن

مکیش امبانی امریکا میں 300 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

ویڈیو

5جی اسپیکٹرم کی نیلامی: کیا انٹرنیٹ کے مسائل ختم ہوجائیں گے؟

حکومت نوجوانوں کے لیے کیا کررہی ہے؟ پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کی فوکل پرسن روبینہ اعوان کا خصوصی انٹرویو

پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے بعد پرانی موٹر سائیکلوں کو الیکٹرک بنانے کا رجحان بڑھ گیا

کالم / تجزیہ

ایران سے افغان مہاجرین کی واپسی افغان طالبان کے لیے نئی مصیبت

ایران کی موزیک دفاعی پالیسی کیا ہے، اس نے کیا کرشمہ کر دکھایا؟

بوئے خوں آتی ہے امریکا کے افسانے سے