پیںٹاگون نے امریکی کانگریس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس بات کے کوئی شواہد موجود نہیں تھے کہ ایران امریکا پر پہلے حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے حکام نے کانگریس کو آگاہ کیا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کی گئی کارروائیوں سے قبل ایران کی جانب سے امریکا پر ابتدائی حملے کے آثار نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت، پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے
امریکا اور اسرائیل کی مذکورہ مشترکہ کارروائیوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوگئے تھے۔
Iran had no plans to strike U.S. forces unprovoked, CNN reported, contradicting the White House's rationale for attacking Iran. https://t.co/9rHgCioJXC
— Newsweek (@Newsweek) March 2, 2026
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بند کمرہ بریفنگ کے دوران پینٹاگون حکام نے کانگریس کے عملے کو بتایا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل اور اس سے وابستہ پراکسی فورسز امریکی مفادات کے لیے فوری خطرہ تصور کیے جا رہے تھے۔
تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انٹیلیجنس اطلاعات میں ایسا کوئی اشارہ موجود نہیں تھا کہ تہران پہلے امریکی افواج پر حملہ کرنے والا تھا۔
مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں بڑھتے تنازعات کے درمیان آبنائے ہرمز عالمی توجہ کا مرکز کیوں؟
رائٹرز نے اس معاملے سے واقف 2 افراد کے حوالے سے کہا کہ یہ بریفنگ سابقہ بیانات پر سوال اٹھاتی ہے، جن میں ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ تہران ممکنہ طور پر امریکی افواج پر ’پری ایمپٹو‘ یعنی پیشگی حملہ کر سکتا ہے۔
اس رپورٹ کے بعد ایران سے متعلق امریکی مؤقف اور انٹیلیجنس دعوؤں پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔













