جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں 5 رکنی شریعت اپیلیٹ بینچ نے وفاق کی اس اپیل کی سماعت کی، جس میں سرکار کے سزائیں معاف کرنے کے اختیار کو غیر شرعی قرار دینے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔
بنچ میں جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان، عالم جج ڈاکٹر خالد مسعود اور ڈاکٹر قبلہ ایاز بھی شامل تھے۔
سماعت کے دوران بینچ نے سوالات اٹھائے کہ ایک شخص کیسے درخواست دے کر حکومت سے کہہ سکتا ہے کہ سزا ختم کر دی جائے؟ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اگر ایسا ممکن ہے تو پھر عدالتیں ختم کر دی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو خود فریق مقدمہ ہو وہ کیسے سزا ختم کر سکتا ہے اور اس طرح پورا معاشرہ تباہ ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: خاتون کو زبردستی شوہر کے ساتھ بھیجنے کا اختیار محدود ہے، سپریم کورٹ
عالم جج ڈاکٹر خالد مسعود نے وضاحت کی کہ اسلام میں سزائیں 2 طرح کی ہیں، ایک قرآن کی سزا اور ایک تعزیر کی سزا۔ تعزیر میں سزا قاضی حالات دیکھ کر طے کرتا ہے۔
جسٹس عرفان سعادت خان نے کہا کہ حکومت یا سرکار اسلامی دائرے میں رہتے ہوئے تعزیر کی سزا کو کیسے ختم کر سکتی ہے، اور قتل پر راضی ہو سکتا ہے لیکن ڈکیتی پر راضی نامہ نہیں ہو سکتا۔
جسٹس شاہد وحید نے ہدایت کی کہ کیس کو ہلکا نہ لیا جائے اور پوری تیاری کے ساتھ پیش ہوں۔
یہ بھی پڑھیے: مقدمے سے بریت ملازمت پر بحالی کا جواز نہیں، سپریم کورٹ میں پولیس اہلکار کی بحالی کی درخواست مسترد
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ یہ سن 1989 کے کیسز ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی کوشش ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کا مقصد صرف رہنمائی ہے، فیصلہ اس کے مطابق ہونا ضروری نہیں۔
سماعت کے دوران تمام صوبوں اور ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کو نوٹس جاری کیے گئے۔ بینچ نے کیس کی سماعت اپریل کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔
یاد رہے کہ اس کیس کی ابتدا سید اسلام الدین نے تعزیرات پاکستان کی شق 401، 402 اور کرمنل لاء ترمیم ایکٹ 1958 کو شریعت کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے کی تھی۔ شریعت کورٹ نے 1991 میں متعلقہ شقوں کو غیر شرعی قرار دیا تھا، جس کے خلاف وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔














