خاتون کو زبردستی شوہر کے ساتھ بھیجنے کا اختیار محدود ہے، سپریم کورٹ

پیر 2 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے حقوق زوجیت کی ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران یہ واضح کیا کہ عدالت کے پاس خاتون کو زبردستی شوہر کے پاس بھیجنے کا اختیار محدود ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں 5 رکنی شریعت اپیلیٹ بنچ نے کیس کی سماعت کی اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ سماعت کے دوران بنچ نے متعدد اہم سوالات اٹھائے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا عدالت خاتون کو شوہر کے پاس جانے پر مجبور کر سکتی ہے اور اگر خاتون عدالتی فیصلہ نہ مانے تو کیا اسے گرفتار کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کی سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سے ملاقات

جسٹس عرفان سعادت نے اس معاملے میں وضاحت طلب کی کہ عدالت حقوق زوجیت کی ادائیگی پر خاتون کو کس حد تک مجبور کر سکتی ہے۔ جبکہ جسٹس شاہد وحید نے جائیداد ضبطگی اور گرفتاری کی شریعی حیثیت پر سوالات اٹھائے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ نکاح ایک معاہدہ ہے اور دونوں فریقین عملدرآمد کے پابند ہیں۔ اگر خاتون شوہر کے پاس نہیں جانا چاہتی تو وہ خلع حاصل کر سکتی ہے۔ اسی طرح، اگر شوہر عدالتی حکم کے باوجود خرچ کی ادائیگی نہ کرے تو اسے گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قانون شوہر اور بیوی دونوں کے لیے برابر ہے۔

یہ بھی پڑھیے: سپریم کورٹ نے 1992 کے زبانی معاہدے پر زمین کی منتقلی کا حکم کالعدم قرار دیدیا

بنچ نے مزید کہا کہ اگر خاتون ضد میں کہے کہ شوہر کے ساتھ جانا بھی نہیں اور خلع بھی نہیں لینی تو عدالت کو اس صورتحال کا تعین کرنا ہوگا، اور اگر شوہر بھی ضد کرے کہ نہ ساتھ رکھوں گا نہ طلاق دوں گا تو اس کا حل عدالتی کارروائی کے تحت نکالا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت اپریل کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، محفوظ اسکول لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کیوں اہم ہیں؟

اسلام آباد پر چڑھائی کی کوشش کی گئی تو نقصان کی ذمے داری احتجاج کرنے والوں پر ہوگی، طارق فضل چوہدری

برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کے والد انتقال کرگئے، وزیراعظم شہباز شریف کا اظہار افسوس

انتشار کی سیاست کو پذیرائی نہ ملی تو مذہبی جذبات کا سہارا، سیاسی کمزوری کو عقیدت کا رنگ دینے سے حقائق نہیں بدلتے

صدر مملکت نے انڈونیشین بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ڈاکٹر محمد علی کو نشان امتیاز ملٹری عطا کردیا

ویڈیو

پاکستان میں ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا میلہ، دنیا بھر سے ممتاز آئی ٹی ماہرین کی شرکت

کیا 27 ستمبر کا احتجاج پی ٹی آئی کے لیے خطرہ ہے، صحافیوں کو بلوچستان کیوں بلایا گیا؟

اداکاری جمال شاہ کی وجہ سے چھوڑی، میرے پاس تشدد کے ثبوت موجود ہیں، فریال گوہر

کالم / تجزیہ

جین زی ماضی کی طرف کیوں جھانک رہی ہے؟

ایک سانس کی قیمت

’ساڈا دل توڑ کے توں ویں پچھتاویں گا‘