لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات میں اتوار کی صبح سے شام تک جو کچھ ہوا، وہ وکلا برادری کے لیے ایک افسوسناک اور حیران کن باب بن گیا۔
28 فروری کو پولنگ کے دوران شروع ہونے والا تنازع لاہور ہائیکورٹ کے احاطے میں شدید لڑائی جھگڑے، گالیوں، بیلٹ باکس پھینکنے اور یہاں تک کہ خواتین وکلا پر ہاتھ اٹھانے تک جا پہنچا۔ مگر آج دونوں گروپس کی اعلیٰ سطح کمیٹی کے اجلاس میں باہمی رضا مندی سے تمام معاملات حل کر لیے گئے۔
لڑائی جھگڑے کا اختتام اس بات پر ہوا کہ دونوں فریقوں نے ایک ہفتے کے اندر بائیو میٹرک سسٹم اور کمپیوٹر سرور کا فرانزک آڈٹ کرانے پر اتفاق کرلیا۔ اگر سرور میں خرابی ثابت ہوئی تو الیکشن دوبارہ ہوں گے، ورنہ موجودہ نتائج تسلیم کر لیے جائیں گے۔
لاہور ہائیکورٹ بار الیکشن تنازعہ pic.twitter.com/6TZCwWoUCV
— Shahrukh Khan Zimri (@SaabZimri) March 2, 2026
لاہور ہائیکورٹ میں کیا ہوا؟
لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کے لیے مجموعی طور پر صدر کے عہدے سمیت 4 نشستوں کے لیے 18 امیدوار مدمقابل تھے جب کہ 32 ہزار 488 بائیو میٹرک سسٹم کے تحت رجسٹرڈ ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کرنا تھا۔
انتخابات کے انعقاد سے قبل ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا، الیکشن مہم کے دوران بینرز، فلیکس، اسٹیکرز اور دیگر پرنٹ مواد پر مکمل پابندی عائد کردی گئی تھی۔
امیدواروں کو صرف بغیر تصویر وزٹنگ کارڈ انتخابی مہم میں استعمال کرنے کی اجازت تھی، جبکہ احاطہ عدالت اور بار روم میں کسی قسم کا اشتہاری مواد لگانے کی اجازت پر پابندی لگائی گئی تھی۔
الیکشن سے قبل چیئرمین الیکشن بورڈ لہراسب گوندل نے واضح کیا تھا کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور نتائج کے بعد فائرنگ کرنے والے امیدوار نااہل ہوں گے اور مقدمہ بھی درج ہوگا۔
ضابط اجلاق طے ہونے کے بعد 28 فروری کو صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک بائیو میٹرک سسٹم کے ذریعے ووٹنگ جاری تھی۔ دوپہر کے بعد انڈیپنڈنٹ گروپ کے حامیوں نے مبینہ دھاندلی کے الزامات لگائے۔ الیکشن بورڈ نے وقت سے پہلے نتائج کا اعلان کر دیا جس پر ماحول کشیدہ ہو گیا۔
احسن بھون گروپ کے صدراتی امیدوار نے یہ اعلان کیاکہ سوموار کو کیانی ہال میں جیت کا جشن منایا جائے گا، جب صدراتی امیدوار راجا عامر اپنے وکلا کے ہمراہ کیانی ہال پہنچے تو وہاں پر حامد خان گروپ کے وکلا پہلے سے موجود تھے۔
دونوں گروپس پروفیشنل گروپ بمقابلہ انڈیپنڈنٹ گروپ کے حامیوں کے درمیان پہلے نعرے بازی، پھر ہاتھا پائی شروع ہو گئی۔ بیلٹ باکس پھینکے گئے، کمپیوٹر اور ریکارڈ اٹھانے کی کوشش کی گئی۔ سب سے افسوسناک بات یہ تھی کہ خواتین وکلا کو بھی نہیں بخشا گیا۔
ایک خاتون وکیل نے پنکھے کا حصہ پھینکا تو جواب میں اس پر بھی ہاتھ اٹھایا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ کی عمارت میں مرد وکلا کے درمیان بھی جھگڑے ہوئے اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ یہ منظر دیکھ کر ہائیکورٹ کے اسٹاف اور دیگر وکلا بھی حیران رہ گئے۔ یہ لاہور ہائیکورٹ بار کے الیکشن میں پہلی بار ہوا ہے۔
ڈان نیوز کے سینئیر کورٹ رپورٹر رانا بلال کے مطابق لاہور ہائیکورٹ بار کے الیکشن میں یہ پہلی بار دیکھا گیا کہ تنازع اس حد تک بڑھ گیا کہ دونوں گروپوں نے ایک دوسرے پر تشدد کیا اور پھر خواتین کو بھی نہیں چھوڑا گیا، ان پر بھی ہاتھ اٹھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ بطور کورٹ رپورٹر ہم نے لاہور بار کے الیکشن میں ہلڑ بازی تو ہوتی دیکھی تھی مگر لاہور ہائیکورٹ کے الیکشن میں یہ پہلی بار ہوا۔ یہ ہم کورٹ رپورٹرز کے لیے حیران کن تھا کہ وکلا برادری ایسا کیوں کررہی ہے۔ اب معاملہ فرنزاک مشین پر آگیا ہے کہ اگر فرزاک مشین ٹھیک ہوئی تو الیکشن میں حامد خان گروپ کے امیدوار کو صدارت دے دی جائے گی۔
لڑائی جھگڑے کا اختتام کس بات پر ہوا
آج دونوں گروپس کی 8 رکنی اعلیٰ سطح کمیٹی کا طویل اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں باہمی رضا مندی سے فیصلہ ہوا کہ لڑائی جھگڑے کو اب ختم کیا جائے اور معاملہ فرانزک آڈٹ پر چھوڑ دیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ بار الیکشن کا تنازع، خاتون اور مرد وکلا میں ہاتھا پائی، ویڈیو وائرل
پنجاب بار کونسل کا صدر کے انتخاب پر معطلی کا فیصلہ برقرار رہے گا۔ ایک ہفتے کے اندر فرانزک آڈٹ کرایا جائے گا۔ اگر سرور میں کوئی خرابی ثابت ہوئی تو مکمل انتخابات دوبارہ ہوں گے، ورنہ بابر مرتضیٰ خان حامد خان گروپ کی صدارت تسلیم کر لی جائے گی۔
فرانزک کا طریقہ کار اور ادارہ کمیٹی خود طے کرے گی۔ کمیٹی کا اگلا اجلاس 3 مارچ کو ہوگا، نو منتخب سیکریٹری قاسم اعجاز سمرا کمیٹی کی معاونت کریں گے۔













