ایران میں بطور سفارتکار خدمات انجام دینے والی سابق سفارتکار نائلہ چوہان نے کہا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پوری ایرانی قوم کے لیے ایک سانحہ ہے، اب ایران جنگ کو طوالت دینا چاہتا ہے جبکہ امریکا اور اسرائیل جلد اس کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 1979 میں اِنقلابِ ایران کے بعد ایران کے حکومتی اداروں کا ایک باقاعدہ نظام موجود ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی زندگی ہی میں اپنے وارث کا منصوبہ بنا لیا تھا۔ وہ 37 سال ایران میں اعلیٰ ترین منصب پر فائز رہے۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران میں زمینی فوج بھیجنے کا عندیہ
نائلہ چوہان کے مطابق اِمام خمینی کے انتقال کے بعد وہاں پر لوگ تذبذب کا شکار تھے کہ آگے کیا ہوگا تو ایسے میں امام خامنہ ای آگے بڑھے، اُنہوں نے رہبر اور ولایت فقیہہ کے ادارے قائم کیے اور پاسدارانِ انقلاب اور مجلس شوریٰ کے ادارے بھی قائم کئے۔ تو آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت ایک شخص کی شہادت نہیں بلکہ ایک ایسے بانی کی شہادت ہے جس نے ایران کے سارے نظام کو ترتیب دیا۔
انہوں نے کہاکہ ایرانی لوگ سختیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
امریکا، اسرائیل اور ایران جنگ کتنی طوالت اختیار کر سکتی ہے؟
ایک سوال کے جواب میں نائلہ چوہان نے کہاکہ اسرائیل کی اسٹریٹجک ڈیپتھ نہیں ہے جبکہ امریکا باہر سے آیا ہوا ہے۔ یہ دونوں زیادہ دیر جنگ نہیں کر سکتے۔ لمبی جنگ کے لیے فٹ آن گراؤنڈز ہونا ضروری ہے جو وہ نہیں کر سکتے، اس لیے امریکا اور اسرائیل ہِٹ اینڈ رن کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں لیکن ایران کی کوشش ہوگی کہ یہ جنگ طوالت اختیار کرے جیسا کہ اُنہوں نے کہا بھی اور ویسے بھی ایران کو عراق کے ساتھ 10 سالہ طویل جنگ کا تجربہ بھی حاصل ہے۔
امریکا کی غلط فہمی ہے کہ ایک شخص کے جانے سے کایا پلٹ جائے گی
انہوں نے کہاکہ ایرانی جانتے تھے کہ امریکا آیت اللہ خامنہ ای کی جان کے درپے ہے کیونکہ امریکا ہمیشہ افراد کے خلاف جاتا ہے جیسا کہ اس نے وینزویلا میں صدر مادورو کے خلاف کیا۔ یہاں بھی وہ وینزویلا ماڈل لاگو کرنا چاہتا تھا جو کہ ہو نہیں سکتا تھا، کیونکہ ایرانی انقلاب اور دیگر ممالک میں بہت فرق ہے۔
انہوں نے کہاکہ آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی زندگی میں اپنا وراثت کا نظام ترتیب دے دیا تھا کیونکہ اُنہیں پتا تھا کہ امریکی ان کی جان کے دشمن ہیں۔ تو امریکا یا مغربی طاقتوں کی خوش فہمی کہ ایک شخص کے جانے سے کایا پلٹ جائے گی تو ایسا نہیں ہوگا۔
پاکستان کے لیے مُشکل صورتحال ہے
نائلہ چوہان نے کہاکہ پاکستان اِس وقت افغانستان کے ساتھ جنگ میں ہے، ایران کا بارڈر کمزور ہوا تو پاکستان کے لیے مُشکلات زیادہ ہو جائیں گی کیونکہ ہمارا مشرقی ہمسایہ پہلے ہی ہمارا دُشمن ہے۔
کیا امریکا ایران میں رجیم چینج کر پائے گا؟
اس سوال کے جواب میں سفارتکار نائلہ چوہان نے کہاکہ امریکا نے رجیم چینج کی بہت کوششیں کی ہیں لیکن ایرانی قوم کی ایک عادت ہے کہ وہ سب سے پہلے ایرانی ہیں اور بیرونی ممالک کی ڈکٹیشن پر عمل نہیں کرتے۔
مزید پڑھیں: ایران کے خلاف فوجی آپریشن غیرمعمولی تیزی سے مکمل ہوا، اب معاہدہ ممکن نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
انہوں نے کہاکہ 2007 میں جب نتن یاہو وزیراعظم بنا تو اُس کا منصوبہ تھا کہ اُس نے چھ سات مُلکوں کو گرانا ہے۔ امریکا ’میک اسرائیل گریٹ ونس اگین‘ کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔













