خیبر پختونخوا حکومت کے احکامات کے بعد پولیس نے صوبے میں مقیم غیر قانونی غیر ملکی باشندوں کے خلاف خصوصی کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے اور اب تک ایک ہزار سے زائد غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔
خیبر پختونخوا میں غیر قانونی مقیم افراد خصوصاً افغان باشندوں کے خلاف کارروائی حالیہ پاک افغان سرحدی جھڑپوں کے بعد شروع ہوئی ہے، حکام کے مطابق اس سے قبل دیگر صوبوں کی نسبت پشاور اور خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع میں افغان باشندوں کیخلاف نسبتاً کم سختی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: افغان باشندے غیر قانونی راستوں سے یورپ جانے کے لیے پاکستان کا استعمال کیسے کرتے ہیں؟
خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ پاک افغان سرحدی کشیدگی کے پیش نظر کیپٹل سٹی پولیس پشاور نے شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات شروع کردیے ہیں۔
خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق شہر بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور ڈویژنل ایس پیز کی سربراہی میں کارروائیوں کے دوران 1044 غیر قانونی مقیم افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد افغان باشندے ہیں جو بغیر کسی قانونی حیثیت یا دستاویز کے پاکستان میں مقیم تھے۔
پولیس حکام کے مطابق گزشتہ 2 سالوں میں افغان باشندوں کو واپسی کے احکامات کے بعد پشاور میں یہ سب سے زیادہ گرفتاریاں ہیں جو 2 روز میں عمل میں آئی ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں مقیم کتنے غیر قانونی افغان باشندے واپس لوٹ چکے ہیں؟
پولیس حکام کے مطابق غیر قانونی افغان باشندوں اور دیگر غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی صوبائی حکومت کی ہدایت پر شروع کی گئی ہے، جس کے لیے متعلقہ تھانوں کی سطح پر ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو روزانہ کی بنیاد پر کارروائی کر رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کارروائی صرف غیر قانونی مقیم باشندوں کے خلاف جاری ہے، حالیہ سرحدی جھڑپوں کے بعد پشاور پولیس نے شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر کڑی نگرانی شروع کر کے سکیورٹی سخت کر دی ہے۔
بارڈر بندش سے افغان باشندوں کی واپسی متاثر
پولیس کی جانب سے غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے لیکن حالیہ پاک افغان سرحدی جھڑپوں کے بعد بارڈر بندش سے افغان باشندوں کی واپسی بھی متاثر ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار افغان باشندوں کی جلد واپسی نہ ہونے سے انہیں تھانوں اور پھر جیل میں رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

پشاور میں تعینات ایک افسر نے بتایا کہ گرفتاریاں بڑے پیمانے پر ہوئی ہیں جبکہ ان افغانوں کی ملک بدری سرحدی بندش کی وجہ سے نہیں ہو رہی ہے جس کی وجہ سے انہیں جیلوں میں مشکل ہو گیا ہے، جہاں پہلے ہی گنجائش کم ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گرفتار افغان باشندوں کو عدالت کی جانب مہلت دی جا رہی ہے کہ بارڈر کھلنے تک ضمانت پر رہ سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان نے افغان طالبان کو سبق سکھا دیا، خیبرپختونخوا کے عوام پاک فوج کے حق میں بول پڑے
انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس اور متعلقہ حکام کے پاس مکمل ڈیٹا موجود ہے اور کارروائی اسی کی بنیاد پر ہو رہی ہے۔ ’غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کو اب کوئی مہلت نہیں دی جا رہی انہیں واپس جانا ہو گا۔‘
مذکورہ پولیس آفیسر نے بتایا کہ ابھی تک خیبر پختونخوا اور خصوصاً پشاور میں سختی کم تھی جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں افغان واپسی سے بچنے کے لیے پشاور منتقل ہوئے تھے لیکن اب یہاں بھی سختی شروع ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان مخالف بیان پر افغان شہری گرفتار، ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ
پولیس آفیسر نے بتایا کہ پولیس حکومتی ہدایات پر عمل کر رہی ہے اور ان غیر قانونی مقیم افراد کے لیے مزید رہائش کی کوئی گنجائش نہیں۔
پشاور کے نوجوان صحافی احتشام خان کے مطابق پولیس نے بڑی پیمانے پر کریک ڈاؤن کا آغاز کیا ہے، جو گزشتہ چند سالوں میں افغان کے خلاف پشاور میں بڑی کارروائی ہے۔
’ایک ہزار سے زائد گرفتار ہوئے، تھانوں اور جیل میں جگہ کم پڑ گئی ہے، عدالتیں انسانی ہمدردی کی بنا پر عارضی ضمانتیں دے رہی ہیں۔‘
مزید پڑھیں: پاکستان میں دہشتگردی کے 70 فیصد سے زائد واقعات میں افغان ملوث، سہیل آفریدی تاحال لاعلم
انہوں نے بتایا کہ افغان باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن حالیہ سرحدی جھڑپوں کے بعد صوبائی حکومت کی ہدایت پر شروع کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سرحد بندش کے باعث افغان باشندوں کی واپسی بھی متاثر ہوئی ہے اور رضاکارانہ واپس جانیوالے بھی ضلع خیبر میں پھنس گئے ہیں۔
پولیس اور افغان کمشنریٹ کے مطابق پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کی رہائش کی مدت ختم ہو گئی ہے اور صرف ان افراد کو رہائش کی اجازت ہے جن کے پاس ویزا ہے جبکہ پی او آر اور افغان کارڈ ہولڈرز کو بھی واپسی کے احکامات ملے ہیں۔
مزید پڑھیں: چاغی میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے 179 افغان شہری گرفتار
انہوں نے بتایا کہ رضاکارانہ واپسی کا عمل بھی حالیہ سرحدی بندش سے متاثر ہوا ہے اور بڑی تعداد میں افغان ضلع خیبر میں بارڈر کھلنے کے منتظر ہیں۔ ’افغان باشندے سامان ٹرکوں میں ڈال کر ضلع خیبر میں پھنس گئے ہیں۔‘
افغان کمشنریٹ حکام کے مطابق سرحدی جھڑپوں کے بعد پاک طور خم بارڈر بند ہے اور واپسی جانیوالے افغان باشندوں کومچنی چیک پوسٹ ضلع خیبر سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے بتایا کہ افغان طالبان حکومت کی من مانی سے ان کے اپنے افغان شہری متاثر ہو رہے ہیں، جو رمضان میں مشکلات سے دوچار ہیں۔
اب تک کتنے افغان شہری واپس چلے گئے؟
اقوام متحدہ کے ادارہ افغان مہاجرین کے مطابق پاکستان سے افغان باشندوں کی واپسی جاری ہے اور سال 2025 میں ایک ملین سے زائد افغان باشندے پاکستان سے اپنے ملک افغانستان چلے گئے۔
یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ سخت سردی میں واپسی کا عمل جاری رہا اور رواں سال 2026 میں تک پاکستان اور ایران سے مجموعی طور پر اب تک 1,50,000 افغان باشندے واپس گئے۔
مزید پڑھیں: اپنی ہو یا پرائی مٹی چھوڑنا مشکل: دہائیوں بعد پاکستان بدری پر افغان باشندے روپڑے، میزبان بھی دل گرفتہ
پاکستانی حکام کے مطابق اب تک ایک بڑی تعداد میں افغان پاکستان میں مقیم ہیں، ان کے مطابق 2 ملین سے زائد افغان باشندے جو پی او آر، افغان شہری کارڈ رکھتے تھے اب بھی پاکستان میں مقیم ہیں جن کی زیادہ تعداد پشاور میں رہائش پذیر ہیں۔
ان کے مطابق اب غیر قانونی مقیم افراد کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔











