یہ دنیا اب ٹرمپ کی دنیا ہے

منگل 3 مارچ 2026
author image

عمار مسعود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یہ دنیا اب ٹرمپ کی دنیا ہے۔ یہاں حق و باطل کی تخصیص ختم ہو چکی ہے۔ یہاں درست اور غلط کا فرق مٹ چکا ہے۔ یہاں ظالم اور مظلوم کی تفریق مٹ چکی ہے۔ یہاں سچ اور جھوٹ کو ماپنے کا اب کوئی پیمانہ نہیں رہا۔ یہاں مجرم اور ملزم میں فاصلہ مٹ چکا ہے۔ یہاں حالات بدل چکے ہیں۔ یہاں دنیا بدل چکی ہے۔

اب سچ وہی ہے جو ٹرمپ کہتا ہے۔ اب حق وہی ہے جو ٹرمپ کی زبان سے سنائی دیتا ہے۔ اب حق کا فیصلہ بھی ٹرمپ کرتا ہے۔ اب باطل کی مہر بھی ٹرمپ کے پاس ہے۔

اب ٹرمپ فیصلہ کرتا ہے کہ ایران میں بچیوں کے اسکولوں پر حملہ کرنے کے بعد 150 سے زائد بچیوں کو شہید کرنے والے ’مظلوم‘ ہیں، اور شہید ہونے والی سینکڑوں بچیاں ’ظالم‘ ہیں۔

اب ٹرمپ فیصلہ کرتا ہے کہ کس ملک کی قیادت کو کب مجرموں کی طرح گرفتار کرنا ہے؟ کس ملک پر کب چڑھائی کرنی ہے؟ کس ملک میں کب رجیم چینج کا نعرہ لگانا ہے؟ کسی کی قیادت کو بنکروں میں  دفن کرنا ہے؟ کس ملک پر کارپٹ بمباری کرنی ہے؟ کس ملک پر ٹیرف لگا کر  اسے معاشی طور پر ختم کرنا ہے؟

اب دنیا میں جمہوریت کے قاعدے ختم ہو چکے ہیں۔ اب دنیا میں انسانی حقوق کے نعرے دم توڑ چکے ہیں۔ اب دنیا میں اقوام متحدہ زمین بوس ہو چکی ہے۔ اب سرحدوں کا احترام مٹی میں مل چکا ہے۔ اب بین الاقوامی قوانین ردی کے ڈھیر میں جا چکے ہیں۔ اب نظریات بوسیدہ ہو چکے ہیں۔ اب ازم ناکام ہو چکے ہیں۔ اب غربت کے خاتمے کے نعرے بدمزہ کرتے ہیں۔ اب ملکوں کے حقوق کے بیان بے سبب لگتے ہیں۔ اب سچ کی شکل بدل چکی ہے۔ اب جھوٹ نیا روپ دھار چکا ہے۔

اب ٹرمپ فیصلہ کرتا ہے کہ کس ملک کی تحقیر کرنی ہے؟ کس ملک کی توقیر میں اضافہ کرنا ہے؟ کس کا پرچم بلند کرنا ہے؟ کس کا جھنڈا سرنگوں کرنا ہے؟ کس ملک پر لطیفے بنانے ہیں؟ کس ملک کے ٹھٹھے لگانے ہیں؟ کس ملک کی دستار خاک میں ملانی ہے؟ کس کو دھمکی دینی ہے؟ کس کو تڑی لگانی ہے؟ کس کی عزت پامال کرنی ہے؟ کس کے عوام کو احمق کہنا ہے؟ کس کے باشندوں کو تخریب کار بنانا ہے؟ کس پر ٹیرف لگانا ہے؟ کس پر پابندیاں نافذ کرنی ہیں؟ کس کو زیرِ عتاب لانا ہے؟

اب دنیا میں حرف کی طاقت ختم ہو گئی ہے۔ اب وعدوں کا پاس ختم ہو گیا ہے۔ کسی کے کہے کی لاج رکھنے کا وقت گزر چکا ہے۔ کسی قوم کی حرمت کا زمانہ لد چکا ہے۔ اب ملکوں کے درمیان معاہدوں کی توقیر ختم ہو چکی ہے۔ اب سرحدوں کا پاس ختم ہو چکا ہے۔ اب دریاؤں، سمندروں اور گزرگاہوں کی آبی سرحدوں کی تخصیص ختم ہو چکی ہے۔ اب زمانہ بدل چکا ہے۔ اب دور بدل چکا ہے۔ اب ایک نیا عہد جنم لے چکا ہے۔ اب دنیا ایک نئے قانون کے تابع آ چکی ہے۔

اب خبر کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ اب حق بات کی کوئی وقعت نہیں۔ اب چینلوں کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ بین الاقوامی صحافتی ادارے سرنگوں ہو چکے ہیں۔ اب فیک نیوز کی درستگی کی کسی کو جرات نہیں۔ اب اخبار، ٹی وی اور سوشل میڈیا سب کے سب ہیک ہو چکے ہیں۔ اب صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں بے عزت کیا جا رہا ہے۔  اب علما اور مذہبی رہنماؤں کو  امریکی بربریت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ اب سرد جنگ ختم ہو چکی ہے۔ اب روس کی جانب سے کوئی احتجاج نہیں ہو رہا۔ اب چین خاموش ہو چکا ہے۔ اب یورپی یونین بے بس ہو چکی ہے۔ برطانیہ حکم عدولی کی جرات نہیں کر سکتا۔ میکسیکو ڈرا دبکا بیٹھا ہے۔ مسلم امہ مصلحت سے کام لے رہی ہے۔ اب جی سیون کے اجلاس کو زمانہ بیت چکا ہے۔ اب اقوام متحدہ کی قراردادیں مذاق بن چکی ہیں۔ اب بین الاقوامی قوانین لطیفہ ہو گئے ہیں۔ اب دنیا دھونس، دھمکی اور دہشت کے عہد سے گزر رہی ہے۔

اب اس روئے زمین کی اربوں کی آبادی ایک شخص کے زیرِ دام آ چکی ہے۔ اب وہ موت کے پروانے بھی جاری کرتا ہے اور ملکوں کو زندہ رہنے کے حیلے بھی بتاتا ہے۔ اب نہتے شہریوں پر بمباری کو بہادری بھی کہا جاتا ہے۔ اب اسرائیل جیسی دہشتگرد ریاست کا ساتھ دینے کو دانشمندی بھی کہا جاتا ہے۔ اب معصوم ایرانی بچیوں کے کفن پر جشن بھی منایا جا سکتا ہے۔ اب نہتے شہریوں پر بموں کی بارش کو رحمت بھی بتایا جا سکتا ہے۔ اب خونِ ناحق کے بہنے کو انسانیت کی خدمت بھی کہا جا سکتا ہے۔ اب جبر کے دور کو سعادت بھی کہا جا سکتا ہے۔

اب ایران کے نہتے شہریوں کو، اب وینزویلا کی قیادت کو، اب فلسطین کے مظلوموں کو ظالم بنایا جا سکتا ہے۔ وہ دور آ چکا ہے جب امریکا کے مظالم کو، اسرائیل کے جبر کو، صہیونی طاقتوں کو ’رحمت‘ بھی بتایا جا سکتا ہے۔ اب وقت بدل چکا ہے۔ اب لفظوں کے نئے مفہوم در آ چکے ہیں۔ اب ظالم کو مظلوم کہا جا رہا ہے اور مظلوم کے ظلم کے قصے سنائے جا رہے ہیں۔ اب جابر کی رحم دلی کے قصیدے ہو رہے ہیں اور مجبور کی سخت جانی پر لطیفے گھڑے جا رہے ہیں۔

اب ٹرمپ، اسرائیل اور انڈیا ایک ہو چکے ہیں۔ انسانیت کے مجرموں کا اتحاد ہو چکا ہے۔ مظلوموں کے قاتلوں کا گروہ بن چکا ہے۔ اب دنیا کو مسلسل جبر کا سامنا ہے کیونکہ  اب ظالموں کا اکٹھ ہو چکا ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ ہر دور کا ایک فرعون ہوتا ہے۔ ہر عہد میں ایک نمرود ہوتا ہے۔ ہر زمانے میں ایک شداد کی خود ساختہ ’جنت‘ ہوتی ہے۔ ہر عہد میں کوئی ظالم، جابر دنیا کے سب معاملات کا مالک بن بیٹھتا ہے۔ اپنے تئیں ساری دنیا کے فیصلے خود کرتا ہے۔ ساری دنیا کو اپنے حکم کا تابع کرتا ہے۔ لیکن تاریخ کا  یہ بھی درس یہ ہے کہ ہر دور میں ایک منصور جنم لیتا ہے۔ ہر دور کا فرعون کبھی غرق آب ہوتا ہے۔

آج اس دنیا کے فیصلے ٹرمپ کر رہا ہے۔ آج اس دنیا کا خدا ٹرمپ بنا بیٹھا ہے مگر اوپر بیٹھا خدا یہ دیکھ رہا ہے۔ اور وہ خدائے برتر ٹرمپ جیسے ظالموں کو ڈھیل تو دیتا ہے، معافی نہیں دیتا۔  یاد رکھیے کہ اس خدا کا فیصلہ حتمی اور اٹل ہوتا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران تنازع: کویت میں ڈرون حملے میں 6 امریکی فوجی ہلاک

ایران کی خلیجی ممالک پر اندھا دھند بمباری غلط حکمتِ عملی، ترک وزیر خارجہ

وزیراعظم شہباز شریف نے ہندوؤں کے مذہبی تیوہار ہولی پر اپنے پیغام میں کیا کہا؟

اسپین کے اپنے فوجی اڈے ایران کیخلاف استعمال نہ کرنے کے فیصلے پر ٹرمپ کی تجارتی تعلقات ختم کرنے کی دھمکی

جنگ طول پکڑ گئی تو ایران کیسے فائدہ میں رہے گا؟ ماہرین نے بتادیا

ویڈیو

“قسطوں پر لیے گئے موٹرسائیکلوں پر ایم ٹیگ لگا نہیں رہے، پولیس چالان کرتی جا رہی ہے”

سوری کافی نہیں، سچی معافی کا صحیح طریقہ سیکھیں

فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی ایران امریکا مذاکرات کی کوشش، ٹرمپ کا دنیا کو دھوکا، پاکستان کے افغانستان پر فضائی حملے

کالم / تجزیہ

سعودی عرب اور ذمہ دار علاقائی سیاست

کیا مسلم دنیا مغربی ڈس انفارمیشن کا شکار ہو رہی ہے؟

کیا مغربی میڈیا بھی حالت جنگ میں ہے؟