پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے ملک کی فضائی حدود جزوی طور پر بند کیے جانے سے متعلق سوشل میڈیا اور بعض میڈیا رپورٹس کو غلط اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے وضاحت جاری کردی ہیں۔
پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں گردش کرنے والی خبروں میں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ پاکستان کی فضائی حدود کمرشل پروازوں کے لیے جزوی طور پر بند کر دی گئی ہے، تاہم یہ تاثر حقیقت کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر کے ایئرپورٹس سے مشرق وسطیٰ جانے والی سینکڑوں پروازیں منسوخ
اعلامیے کے مطابق متعلقہ نوٹم A0134/26، جو A0130/26 کا حوالہ دیتا ہے، فضائی حدود کی بندش نہیں بلکہ ایک معمول کی آپریشنل اطلاع ہے۔ اس کے تحت کراچی اور لاہور فلائٹ انفارمیشن ریجنز کے اندر مخصوص ائیر ٹریفک سروسز روٹس کے بعض حصے عارضی طور پر روزانہ 900 سے 1500 پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم تک 3 مارچ سے 31 مارچ 2026 تک آپریشنل وجوہات کی بنا پر دستیاب نہیں ہوں گے۔
اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی فضائی حدود مکمل طور پر کھلی، محفوظ اور تمام سول ایوی ایشن بشمول کمرشل پروازوں کے لیے دستیاب ہے اور ایئر ٹریفک سروسز معمول کے مطابق جاری ہیں۔ متاثرہ روٹس کے متبادل راستے بھی معمول کے مطابق استعمال کیے جارہے ہیں جبکہ آمد، روانگی اور اوور فلائٹس پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ کشیدگی، ڈھاکا اور چٹاگانگ ایئرپورٹس پر 182 بین الاقوامی پروازیں منسوخ
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ایئر ٹریفک کنٹرولرز اور ایئرپورٹس کی تمام ٹیمیں مکمل طور پر فعال ہیں اور فضائی ٹریفک کو معمول کے مطابق منظم کیا جا رہا ہے۔
پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی نے میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کی ہے کہ مصدقہ معلومات ہی شیئر کی جائیں اور سنسنی خیز یا گمراہ کن سرخیوں سے گریز کیا جائے تاکہ مسافروں میں غیر ضروری تشویش پیدا نہ ہو۔
اتھارٹی کے مطابق درست اور تازہ ترین معلومات کے لیے شہریوں کو ادارے کے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز یا ترجمان سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔













