خطے کی سیاست میں کسی بھی بڑے واقعے کے فوراً بعد جو بیانیہ تشکیل پاتا ہے، وہ اکثر اصل واقعے سے زیادہ اثرانداز ہوتا ہے۔ ایران پر امریکی کارروائی کے تناظر میں سعودی عرب کو لابنگ کرنے والا فریق بنا کر پیش کرنا بھی اسی نوعیت کا بیانیہ ہے۔ تاہم جب مستند تاریخوں، ریاستی بیانات اور خطے کی سفارتی جزئیات کو ترتیب سے دیکھا جائے تو یہ دعویٰ منطقی جانچ پر کمزور پڑتا ہے۔
27 جنوری 2026 کو خبر رساں ادارے روئٹرز نے رپورٹ کیا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک گفتگو میں واضح طور پر کہا کہ ریاض اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو تہران کے خلاف کسی عسکری کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودیہ میں مقیم پاکستانیوں کے لیے پاکستانی سفارتخانےکی اہم ہدایات جاری
اس خبر میں سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کا حوالہ دیا گیا۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی درج تھا کہ ایرانی صدر نے جنگ کی روک تھام کے لیے کسی بھی عمل کا خیرمقدم کیا۔ یہ محض رسمی سفارتی جملے نہیں تھے، بلکہ کشیدگی کم کرنے کے براہِ راست اشارے تھے، اور وہ بھی ایسے وقت میں جب خطے میں فضا پہلے ہی حساس تھی۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر کوئی ریاست واقعی کسی جنگی کارروائی کی پشت پناہی کر رہی ہو تو کیا وہ باضابطہ طور پر اپنی فضائی حدود کے استعمال سے انکار کرتی ہے؟
بین الاقوامی سیاست میں الفاظ بھی ریکارڈ بنتے ہیں اور ریاستی بیانات قانونی و سفارتی ذمہ داری رکھتے ہیں۔ سعودی موقف ریکارڈ پر ہے کہ سعودی عرب کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ اس کے مقابلے میں “ہفتوں کی لابنگ” کا دعویٰ گمنام ذرائع کے حوالے سے پیش کیا گیا۔ دونوں بیانیوں کا ثبوتی وزن یکساں نہیں ہو سکتا۔
مزید برآں، یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک طویل اور براہِ راست تنازع کا حصہ ہے۔ اگر کسی کارروائی کے پیچھے اسرائیلی اسٹریٹجک سوچ اور سلامتی کا زاویہ غالب ہو تو اسے علاقائی طور پر تقسیم کر کے مشترکہ لابنگ کی صورت میں پیش کرنا تجزیاتی سادگی تو ہو سکتی ہے، مگر مکمل تصویر نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی یومِ تاسیس: تاریخی بنیاد، معاصر سمت
امریکہ جیسے ملک کا عسکری فیصلہ اس کے اپنے داخلی، اسٹریٹجک اور اتحادی عوامل کے مجموعے سے بنتا ہے۔ اسے کسی ایک علاقائی ریاست کی خواہش پر محمول کرنا خود امریکی فیصلہ سازی کو بھی غیر سنجیدہ بنا دیتا ہے۔
سعودی عرب کی پالیسی کا تاریخی جائزہ بھی اس الزام کے برعکس اشارہ دیتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں ریاض نے نہ صرف ایران کے ساتھ سفارتی بحالی کی راہ اپنائی بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف فورمز پر کردار ادا کیا۔
یمن سے لے کر خلیج تک، سعودی حکمت عملی کا مرکزی نکتہ یہ رہا کہ براہِ راست تصادم کے بجائے سیاسی حل تلاش کیا جائے۔ یہ محض بیانیہ نہیں؛ معاشی و اسٹریٹجک منطق بھی یہی تقاضا کرتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگیں سب سے پہلے انہی ممالک کو نقصان پہنچاتی ہیں جو جغرافیائی طور پر قریب ہوں۔ توانائی کی ترسیل، سرمایہ کاری، داخلی سلامتی اور سماجی استحکام، سب کچھ داؤ پر لگ جاتا ہے۔ اس تناظر میں سعودی مفاد، جنگ نہیں، استحکام ہے۔
یہاں ایک اصولی نکتہ بھی اہم ہے: مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں کبھی محدود نہیں رہتیں۔ وہ سرحدوں سے باہر پھیلتی ہیں، توانائی کی منڈیوں کو متاثر کرتی ہیں، اور عالمی معیشت پر اثر ڈالتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: علاقائی و عالمی تنازعات میں سعودی عرب کا سفارتی کردار، 1989 سے 2026 تک اہم ثالثی اقدامات
سعودی عرب، جو خطے کی سب سے بڑی معیشتوں میں سے ایک ہے اور عالمی توانائی منڈی کا مرکزی کھلاڑی ہے، اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ بڑے پیمانے کی جنگ اس کے اپنے ترقیاتی ایجنڈے کے لیے نقصان دہ ہوگی۔ لہٰذا یہ منطقی بات ہوگی کہ ریاض کشیدگی کم کرنے کو ترجیح دے۔
پاکستان کے زاویے سے دیکھیں تو تصویر مزید واضح ہو جاتی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات دفاعی اور سفارتی اعتماد پر مبنی ضرور ہیں، مگر دونوں ممالک کی مشترکہ دلچسپی خطے کے استحکام میں ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ مسلم دنیا کے تنازعات کا حل بات چیت سے نکلنا چاہیے، نہ کہ براہِ راست عسکری محاذ آرائی سے۔
اگر سعودی عرب باضابطہ طور پر ایران کے خلاف اپنی سرزمین کے استعمال سے انکار کر رہا ہے تو پاکستان کے لیے بھی یہی منطقی موقف بنتا ہے کہ خطے کو جنگ سے بچایا جائے۔
لہٰذا معاملے کو جذبات سے ہٹ کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف 27 جنوری 2026 کی روئٹرز رپورٹ اور ایس پی اے کا واضح بیان موجود ہے کہ سعودی فضائی حدود استعمال نہیں ہوں گی۔ دوسری طرف گمنام ذرائع پر مبنی گمراہ کن دعویٰ ہے کہ لابنگ کی گئی۔ منطقی تجزیہ یہی کہتا ہے کہ ریکارڈ شدہ ریاستی موقف کو ترجیح دی جائے، نہ کہ قیاس پر مبنی بیانیے کو۔
یہ بھی پڑھیں: امیر مدینہ منورہ کا سعودی وژن 2030 کے اہداف کے حصول کے لیے منصوبے جاری رکھنے پر زور
مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ گواہ ہے کہ جنگوں نے کسی کو مستقل فائدہ نہیں دیا۔ عراق کی جنگ نے خطے کو مستحکم نہیں کیا، نہ ہی شام کا بحران اور نہ ہی یمن کی طویل کشمکش نے۔ ہر بار قیمت خطے کے عوام نے ادا کی۔ اسی پس منظر میں اگر کوئی ریاست جنگ سے اجتناب اور فضائی حدود کے عدم استعمال کا اعلان کرے تو اسے کم از کم اسی سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے جس سنسنی سے الزامات کو پھیلایا جاتا ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ سعودی عرب کی پالیسی کا مرکزی دھارا استحکام، سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی رہا ہے۔ اگر کسی کارروائی کے پیچھے اسرائیلی یا امریکی اسٹریٹجک حساب کتاب ہو تو اسے سادہ طور پر سعودی لابنگ کے فریم میں قید کرنا تاریخی طور پر درست ہے اور نہ ہی منطقی طور پر مضبوط۔ خطے کو بیانیاتی جنگ سے زیادہ ذمہ دارانہ تجزیے کی ضرورت ہے، کیونکہ اصل جنگیں سرخیوں میں نہیں، زمین پر لڑی جاتی ہیں، اور ان کی قیمت سب کو چکانی پڑتی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













