اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کے دعووں کے باوجود ایران میں جوہری ہتھیار بنانے کے کسی مربوط پروگرام کے شواہد نہیں ملے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی میزائل حملہ، وسطی اسرائیل میں 7 افراد زخمی
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ ایجنسی نے ایران میں نظامی اور منظم پروگرام کے عناصر جو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے ہوں کی شناخت نہیں کی ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ تہران نے یورینیم کو 60 فیصد پاکیزگی تک افزودہ کیا ہے جو شہری توانائی کی ضروریات سے بہت زیادہ ہے۔
گروسی کے مطابق یہ سطح صرف وہ ممالک حاصل کرتے ہیں جن کے پاس پہلے سے جوہری ہتھیار ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیے: اسرائیل و امریکا کے ایران پر حملوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ کو سیاحت میں 60 ارب ڈالر تک نقصان کا خدشہ
انہوں نے واضح کیا کہ معائنہ کار یہ نتیجہ نہیں نکال سکتے کہ ایران بم بنانے کا ارادہ رکھتا ہے تاہم یورینیم کی اس مقدار کے ذخیرے نے سنگین سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
گروسی نے کہا کہ یہ افزودگی وہی وجہ تھی جس کی بنا پر ہمیں تشویش تھی اور یہ واضح مقصد کے بغیر اس سطح پر مواد جمع کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: ایران میں زلزے کے جھٹکے، فارس لرز اٹھا
انہوں نے مزید کہا کہ سنٹرفیوژ مسلسل چل رہی تھیں اور اس مواد کی مقدار بڑھتی جا رہی تھی اور تھیوری کے لحاظ سے یہ 10 سے زائد جوہری وار ہیڈز بنانے کے لیے کافی ہوتا لیکن وہ ان پاس ہیں نہیں۔













