کیا ایران جوہری ہتھیار بنا رہا ہے، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے بتادیا

منگل 3 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کے دعووں کے باوجود ایران میں جوہری ہتھیار بنانے کے کسی مربوط پروگرام کے شواہد نہیں ملے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایرانی میزائل حملہ، وسطی اسرائیل میں 7 افراد زخمی

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ ایجنسی نے ایران میں نظامی اور منظم پروگرام کے عناصر جو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے ہوں کی شناخت نہیں کی ہے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ تہران نے یورینیم کو 60 فیصد پاکیزگی تک افزودہ کیا ہے جو شہری توانائی کی ضروریات سے بہت زیادہ ہے۔

گروسی کے مطابق یہ سطح صرف وہ ممالک حاصل کرتے ہیں جن کے پاس پہلے سے جوہری ہتھیار ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیے: اسرائیل و امریکا کے ایران پر حملوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ کو سیاحت میں 60 ارب ڈالر تک نقصان کا خدشہ

انہوں نے واضح کیا کہ معائنہ کار یہ نتیجہ نہیں نکال سکتے کہ ایران بم بنانے کا ارادہ رکھتا ہے تاہم یورینیم کی اس مقدار کے ذخیرے نے سنگین سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

گروسی نے کہا کہ یہ افزودگی وہی وجہ تھی جس کی بنا پر ہمیں تشویش تھی اور یہ واضح مقصد کے بغیر اس سطح پر مواد جمع کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ایران میں زلزے کے جھٹکے، فارس لرز اٹھا

انہوں نے مزید کہا کہ سنٹرفیوژ مسلسل چل رہی تھیں اور اس مواد کی مقدار بڑھتی جا رہی تھی اور تھیوری کے لحاظ سے یہ 10 سے زائد جوہری وار ہیڈز بنانے کے لیے کافی ہوتا لیکن وہ ان پاس ہیں نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp