اسلام آباد میں ایم ٹیگ کو لازمی قرار دیے جانے کے بعد شہریوں کو مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ اقدام ٹریفک نظام کو بہتر بنانے اور گاڑیوں کا ریکارڈ ڈیجیٹل کرنے کے لیے کیا گیا ہے، تاہم عملی طور پر متعدد افراد انتظامی پیچیدگیوں کی شکایت کررہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں پر نصب ایم ٹیگ کے چوری ہونے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، جس کے بعد دوبارہ اجرا کے لیے طویل اور پیچیدہ عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ کئی افراد نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسپیڈو میٹر یا فرنٹ حصے پر ایم ٹیگ کی تنصیب سے نئی بائیک کی ظاہری حالت متاثر ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیں: ایم ٹیگ چوری ہوجائے تو شہری کیا کریں؟ اہم ہدایات جاری
خاص طور پر وہ شہری جو موٹر سائیکل اقساط پر خرید رہے ہیں، انہیں ملکیت کے کاغذات اور فنانسنگ کمپنی کی منظوری کے باعث اضافی مشکلات پیش آ رہی ہیں، کیونکہ بائیک ان کے نام نہیں۔ یوں وہ ایم ٹیگ نہیں لگوا پا رہے، جبکہ پولیس کی جانب سے ان کو چالان کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب سروس سینٹرز پر رش، طویل قطاریں اور آن لائن سسٹم کی سست روی بھی عوامی پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔ بعض شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایم ٹیگ نہ ہونے کی صورت میں جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ طریقہ کار کو آسان بنائے، چوری سے محفوظ ٹیکنالوجی متعارف کرائے اور اقساط پر لی گئی بائیکس کے لیے خصوصی سہولت فراہم کرے تاکہ اس اقدام کے مثبت نتائج حقیقی معنوں میں سامنے آ سکیں۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر ایم ٹیگ نصب کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
محکمہ ایکسائز کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایک ہزار 107 گاڑیوں اور 4 ہزار 660 موٹر سائیکلوں پر ایم ٹیگ نصب کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 2 لاکھ 41 ہزار 957 گاڑیاں ایم ٹیگ سسٹم میں شامل ہو چکی ہیں جبکہ موٹر سائیکلوں پر ایم ٹیگ کی مجموعی تعداد 25 ہزار 847 تک پہنچ گئی ہے۔
محکمہ ایکسائز کے مطابق 26 نمبر، پھلگراں، ایف نائن پارک اور فیض آباد کے مراکز 24 گھنٹے مکمل طور پر فعال ہیں، جبکہ راوت ٹی کراس، جی 14 چیک پوسٹ اور نائنتھ ایونیو آئی نائن پر 12 گھنٹے سروس فراہم کی جا رہی ہے۔ اسی طرح گلبرگ گرین، ملپور، مارگلہ ایونیو، گندم گودام، دامن کوہ اور مری روڈ نزد ٹیولپ پوائنٹس پر بھی 12 گھنٹے خدمات انجام دی جا رہی ہیں۔
محکمہ ایکسائز کے مطابق اوقات کار میں نمایاں اضافے سے شہریوں کے رش میں واضح کمی آئی ہے اور رمضان المبارک کے دوران شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا اولین ترجیح ہے۔
مزید پڑھیں: ایم ٹیگ سروس یا آزمائش، موٹرسائیکل سوار پریشان
ان کے مطابق ایم ٹیگ سینٹرز پر اضافی عملہ بھی تعینات کیا گیا ہے تاکہ عوام کو بروقت خدمات فراہم کی جا سکیں۔
حکام کے مطابق ایم ٹیگ لگوانے کے لیے ملکیتی ریکارڈ، اصل شناختی کارڈ اور تصدیق شدہ موبائل نمبر پیش کرنا ضروری ہے۔
ڈی جی ایکسائز نے واضح کیا ہے کہ بغیر ایم ٹیگ والی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو سڑک پر چلنے کی اجازت نہیں ہوگی، لہٰذا شہری کسی بھی قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے مکمل دستاویزات کے ساتھ قریبی ایم ٹیگ مرکز سے رجوع کریں۔













