ایران کا دوبئی میں امریکی سفارت خانے پرحملہ، 40 امریکی اہلکار ہلاک، 70 زخمی، پاسداران انقلاب کا دعویٰ

بدھ 4 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران نے دوبئی میں امریکی سفارتخانے پر حملہ کیا ہے۔ فجیرہ کی بندرگاہ پر بھی میزائل یا ڈرون حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ دبئی میں امریکی فوجی اجتماع پر حملہ کیا گیا ہے، حملہ اس وقت کیا گیا جب 160 فوجی ایک جگہ پر جمع تھے، جن میں سے 40 ہلاک اور 70 زخمی ہوئے۔

دوسری طرف امریکا اور اسرائیل نے ایران پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔ تازہ کارروائی میں ایران کے شہر قم میں مجلسِ خبرگان (اسمبلی آف ایکسپرٹس) کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قم جیسے مذہبی اور سیاسی لحاظ سے حساس شہر میں حملہ ایران کے لیے ایک علامتی اور اسٹریٹجک دھچکا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ہفتے کے روز سے شروع ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملوں میں  اب تک کم از کم 787 افراد شہید ہو چکے ہیں، جبکہ سینکڑوں زخمی ہیں۔


پاسداران انقلاب کا دبئی میں امریکی افواج کے اجتماع کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کے روز دبئی میں امریکی افواج کے ایک اجتماع کو ڈرون اور میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی نے پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کے بیان کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اس کارروائی میں اس کی بحری جنگی یونٹس نے حصہ لیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جس مقام کو نشانہ بنایا گیا وہاں 160 سے زائد امریکی میرینز موجود تھے۔ آئی آر جی سی کے مطابق یہ حملہ ڈرون اور میزائلوں کے ذریعے کیا گیا، جسے ’مشترکہ کارروائی‘ قرار دیا گیا ہے۔ تاہم  امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ایران کی خلیجی ممالک پر اندھا دھند بمباری غلط حکمتِ عملی، ترک وزیر خارجہ

ترکیہ کے وزیر خارنہ حاکان فیدان نے کہا ہے کہ خلیجی عرب ممالک پر ایران کی بلا امتیاز بمباری ایک ’انتہائی غلط حکمتِ عملی‘ ہے۔

ریاستی ٹی وی چینل ٹی آر ٹی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں حاکان فیدان نے کہا

’ایران کی جانب سے عمان، قطر، کویت، بحرین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن جیسے عرب ممالک پر بلا تفریق بمباری میری رائے میں ناقابلِ یقین حد تک غلط حکمتِ عملی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اس طرزِ عمل سے خطے میں خطرات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے اور خود ایران کے مفاد میں بھی یہ ایک بڑی غلطی ہے۔

ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اب سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے امریکی اتحادی ممالک کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام سے تنازع ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ خلیجی ریاستیں عالمی توانائی منڈی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

منگل کے روز خلیجی ممالک میں تیل اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ایرانی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

قطر کی سرکاری توانائی کمپنی نے 2 تنصیبات پر حملوں کے بعد بعض اہم مواد کی پیداوار عارضی طور پر روک دی ہے۔

اگرچہ مکمل نقصانات کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر توانائی کے مراکز مسلسل نشانہ بنتے رہے تو عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

ترکیہ کی جانب سے ایرانی حکمت عملی پر کھل کر تنقید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔

انقرہ کا مؤقف اشارہ دیتا ہے کہ خطے کے کئی ممالک ایران کی موجودہ حکمتِ عملی کو خطرناک سمجھ رہے ہیں، جو نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی معاشی استحکام کے لیے بھی چیلنج بن سکتی ہے۔

جنگ طول پکڑ گئی تو فائدہ ایران کو ہوگا،  ماہرین

سیاسی تجزیہ کار اور جدال ٹی وی کے میزبان علی علیزادہ کا کہنا ہے کہ اگر ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ طویل ہو گئی تو اس کا فائدہ ایران کو ہو سکتا ہے۔

الجزیرہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے علی علیزاده نے کہا کہ ایران کے پاس جنگ جاری رکھنے کے لیے ایسے وسائل موجود ہیں جو امریکا اور اسرائیل کے مقابلے میں زیادہ پائیدار ثابت ہو سکتے ہیں۔

علی علیزاده کے مطابق ایران کی دفاعی حکمتِ عملی مغربی طرز کے مہنگے فضائی دفاعی نظاموں کے برعکس کم لاگت اور مقامی سطح پر تیار کردہ ہتھیاروں پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا ’ایرانی دفاعی حکمتِ عملی گھریلو سطح پر تیار کیے گئے، انتہائی سستے میزائلوں اور ڈرونز پر مشتمل ہے، جو مغربی فضائی دفاعی نظاموں کے مقابلے میں بہت کم لاگت رکھتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو ایران کو معاشی اور عسکری اعتبار سے برتری حاصل ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ نسبتاً کم وسائل خرچ کر کے زیادہ دباؤ برقرار رکھ سکتا ہے۔

علی علیزاده نے گزشتہ سال جون میں ہونے والی اسرائیل امریکا کی 12 روزہ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر گزرتا دن اسرائیلی عوام کے لیے مشکلات میں اضافہ کرتا ہے۔

ان کا اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ طویل تنازع اسرائیلی شہریوں پر نفسیاتی، معاشی اور سکیورٹی کے حوالے سے زیادہ دباؤ ڈال سکتا ہے۔

تجزیہ کار نے ایک اہم سوال اٹھایا کہ اگر امریکا اور اسرائیل کے پاس فضائی حملوں کو روکنے والے اینٹی ایئر یا انٹرسیپٹر میزائل کم پڑ گئے تو کیا وہ اس کی قیمت ادا کرنے کو تیار ہوں گے؟

ان کے مطابق دفاعی نظام برقرار رکھنا مہنگا عمل ہے، اور مسلسل حملوں کی صورت میں ذخائر تیزی سے ختم ہو سکتے ہیں۔

علی علیزاده نے اس بڑھتی ہوئی رائے کی بھی تائید کی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیل کی جانب سے اس جنگ میں دھکیلا گیا، اور وہ ایرانی حکومت کی مزاحمتی صلاحیت کو پوری طرح سمجھنے میں ناکام رہے۔

انہوں نے کہا ’ایرانی ریاست انتہائی مضبوط، لچکدار اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ ایک مشترکہ جنگ ہے جو ٹرمپ پر مسلط کی گئی، اور اب وہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ خود کو ایک مشکل صورتحال میں لے آئے ہیں۔‘

تجزیہ کاروں کے مطابق اس تنازع میں صرف عسکری طاقت ہی نہیں بلکہ وقت بھی ایک اہم ہتھیار بن چکا ہے۔

اگر جنگ مختصر رہی تو امریکا اور اسرائیل اپنی تکنیکی برتری استعمال کر سکتے ہیں، لیکن اگر یہ طویل ہو گئی تو کم لاگت جنگی حکمتِ عملی اپنانے والا فریق زیادہ فائدے میں رہ سکتا ہے۔

آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ تنازع محدود رہے گا یا ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ کی صورت اختیار کرے گا۔

ٹرمپ کا مؤقف وزیر خارجہ سے مختلف، ایران پر حملے کی نئی وجہ سامنے آگئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے اپنے ہی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیان سے مختلف مؤقف اختیار کیا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکی افواج کو اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملوں کا حکم اس لیے دیا کیونکہ انہیں یقین تھا کہ تہران پہلے حملے کی تیاری کر رہا تھا۔

اس کے برعکس وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس جنگ کے آغاز کے لیے ایک مختلف حکمتِ عملی اور جواز پیش کیا تھا، جس سے امریکی قیادت کے اندر پالیسی اختلافات کی جھلک سامنے آئی ہے۔

آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان، عالمی منڈی میں ہلچل

ایران نے اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے، جو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔

اس اعلان کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں معاشی اور توانائی بحران کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔

عراق میں تیل کی پیداوار متاثر

عراق نے رومیلہ آئل فیلڈ میں تیل کی پیداوار سست یا عارضی طور پر روک دی ہے۔ اسی طرح مغربی قرانا 2 منصوبہ بھی متاثر ہوا ہے۔ یہ دونوں منصوبے عالمی تیل منڈی کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں، اور ان کی بندش سے عالمی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔

امریکی بحریہ کی تعیناتی کا عندیہ

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی حفاظت کے لیے اپنی بحریہ تعینات کرنے کے لیے تیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس اہم سمندری راستے کو بند نہیں ہونے دیں گے۔ اگر ضرورت پڑی تو امریکی بحریہ ٹینکروں کو بحفاظت گزارنے کے لیے مکمل کارروائی کرے گی۔

ماہرین کے مطابق اگر امریکی بحریہ براہِ راست آبنائے ہرمز میں متحرک ہوئی تو خطے میں تصادم مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور یہ صورتحال ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی، عالمی برادری تشویش میں مبتلا

مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی صورتحال نے عالمی طاقتوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ توانائی کی فراہمی، عالمی تجارت اور علاقائی سلامتی سب خطرے میں دکھائی دے رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران تنازع: کویت میں ڈرون حملے میں 6 امریکی فوجی ہلاک

ایران کی خلیجی ممالک پر اندھا دھند بمباری غلط حکمتِ عملی، ترک وزیر خارجہ

وزیراعظم شہباز شریف نے ہندوؤں کے مذہبی تیوہار ہولی پر اپنے پیغام میں کیا کہا؟

اسپین کے اپنے فوجی اڈے ایران کیخلاف استعمال نہ کرنے کے فیصلے پر ٹرمپ کی تجارتی تعلقات ختم کرنے کی دھمکی

جنگ طول پکڑ گئی تو ایران کیسے فائدہ میں رہے گا؟ ماہرین نے بتادیا

ویڈیو

“قسطوں پر لیے گئے موٹرسائیکلوں پر ایم ٹیگ لگا نہیں رہے، پولیس چالان کرتی جا رہی ہے”

سوری کافی نہیں، سچی معافی کا صحیح طریقہ سیکھیں

فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی ایران امریکا مذاکرات کی کوشش، ٹرمپ کا دنیا کو دھوکا، پاکستان کے افغانستان پر فضائی حملے

کالم / تجزیہ

سعودی عرب اور ذمہ دار علاقائی سیاست

یہ دنیا اب ٹرمپ کی دنیا ہے

کیا مسلم دنیا مغربی ڈس انفارمیشن کا شکار ہو رہی ہے؟