جنگ طول پکڑ گئی تو ایران کیسے فائدہ میں رہے گا؟ ماہرین نے بتادیا

بدھ 4 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سیاسی تجزیہ کار اور جدال ٹی وی کے میزبان علی علیزادہ کا کہنا ہے کہ اگر ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ طویل ہو گئی تو اس کا فائدہ ایران کو ہو سکتا ہے۔

الجزیرہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے علی علیزاده نے کہا کہ ایران کے پاس جنگ جاری رکھنے کے لیے ایسے وسائل موجود ہیں جو امریکا اور اسرائیل کے مقابلے میں زیادہ پائیدار ثابت ہو سکتے ہیں۔

’سستے اور مقامی ہتھیار‘، ایرانی دفاعی حکمتِ عملی کی بنیاد

علی علیزاده کے مطابق ایران کی دفاعی حکمتِ عملی مغربی طرز کے مہنگے فضائی دفاعی نظاموں کے برعکس کم لاگت اور مقامی سطح پر تیار کردہ ہتھیاروں پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا ’ایرانی دفاعی حکمتِ عملی گھریلو سطح پر تیار کیے گئے، انتہائی سستے میزائلوں اور ڈرونز پر مشتمل ہے، جو مغربی فضائی دفاعی نظاموں کے مقابلے میں بہت کم لاگت رکھتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو ایران کو معاشی اور عسکری اعتبار سے برتری حاصل ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ نسبتاً کم وسائل خرچ کر کے زیادہ دباؤ برقرار رکھ سکتا ہے۔

12 روزہ جنگ کی مثال اور بڑھتی مشکلات

علی علیزاده نے گزشتہ سال جون میں ہونے والی اسرائیل امریکا کی 12 روزہ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر گزرتا دن اسرائیلی عوام کے لیے مشکلات میں اضافہ کرتا ہے۔

ان کا اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ طویل تنازع اسرائیلی شہریوں پر نفسیاتی، معاشی اور سکیورٹی کے حوالے سے زیادہ دباؤ ڈال سکتا ہے۔

اگر انٹرسیپٹر میزائل ختم ہو گئے تو؟

تجزیہ کار نے ایک اہم سوال اٹھایا کہ اگر امریکا اور اسرائیل کے پاس فضائی حملوں کو روکنے والے اینٹی ایئر یا انٹرسیپٹر میزائل کم پڑ گئے تو کیا وہ اس کی قیمت ادا کرنے کو تیار ہوں گے؟

ان کے مطابق دفاعی نظام برقرار رکھنا مہنگا عمل ہے، اور مسلسل حملوں کی صورت میں ذخائر تیزی سے ختم ہو سکتے ہیں۔

’ٹرمپ کو جنگ میں گھسیٹا گیا‘

علی علیزاده نے اس بڑھتی ہوئی رائے کی بھی تائید کی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیل کی جانب سے اس جنگ میں دھکیلا گیا، اور وہ ایرانی حکومت کی مزاحمتی صلاحیت کو پوری طرح سمجھنے میں ناکام رہے۔

انہوں نے کہا ’ایرانی ریاست انتہائی مضبوط، لچکدار اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ ایک مشترکہ جنگ ہے جو ٹرمپ پر مسلط کی گئی، اور اب وہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ خود کو ایک مشکل صورتحال میں لے آئے ہیں۔‘

کیا جنگ کا دورانیہ فیصلہ کن عنصر بنے گا؟

تجزیہ کاروں کے مطابق اس تنازع میں صرف عسکری طاقت ہی نہیں بلکہ وقت بھی ایک اہم ہتھیار بن چکا ہے۔

اگر جنگ مختصر رہی تو امریکا اور اسرائیل اپنی تکنیکی برتری استعمال کر سکتے ہیں، لیکن اگر یہ طویل ہو گئی تو کم لاگت جنگی حکمتِ عملی اپنانے والا فریق زیادہ فائدے میں رہ سکتا ہے۔

آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ تنازع محدود رہے گا یا ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ کی صورت اختیار کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سوشل میڈیاپر روزانہ ریپ کی دھمکیاں ملتی ہیں، بھارتی اداکارہ عائشہ خان کا انکشاف

ایران حملے سے قبل مودی کا دورہ اسرائیل، عالمی میڈیا اور اپوزیشن کی شدید تنقید

رمضان میں اسلام آباد کی فول پروف سیکیورٹی، آئی جی کی خصوصی ہدایات

برطانیہ کا 4 ممالک کے طلبا کے لیے اسٹڈی ویزے بند کرنے کا اعلان، وجہ کیا بنی؟

سابق کپتان سرفراز احمد کو پاکستان کرکٹ ٹیم کا ٹیسٹ کوچ بنانے کا فیصلہ، حتمی اعلان جلد متوقع

ویڈیو

“قسطوں پر لیے گئے موٹرسائیکلوں پر ایم ٹیگ لگا نہیں رہے، پولیس چالان کرتی جا رہی ہے”

سوری کافی نہیں، سچی معافی کا صحیح طریقہ سیکھیں

فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی ایران امریکا مذاکرات کی کوشش، ٹرمپ کا دنیا کو دھوکا، پاکستان کے افغانستان پر فضائی حملے

کالم / تجزیہ

سعودی عرب اور ذمہ دار علاقائی سیاست

یہ دنیا اب ٹرمپ کی دنیا ہے

کیا مسلم دنیا مغربی ڈس انفارمیشن کا شکار ہو رہی ہے؟