سعودی عرب نے خبردار کیا ہے کہ وہ ایرانی جارحیت کے خلاف جواب دینے کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔
یہ انتباہ منگل کی شب ہونے والے کابینہ اجلاس میں دیا گیا جس کی صدارت ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان نے ویڈیو لنک کے ذریعے کی۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ سعودی عرب ان برادر ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی رکھتا ہے جن کی سرزمین ایرانی جارحیت کا نشانہ بنی۔
امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ
یہ بیان دارالحکومت ریاض اور مشرقی صوبے کو نشانہ بنانے والے ’کھلے اور بزدلانہ‘ حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب ریاض میں واقع امریکی سفارتخانے پر براہِ راست ڈرون حملہ کیا گیا۔
#Statement | The Kingdom of Saudi Arabia condemns and denounces in strongest terms the blatant Iranian aggression and the flagrant violation of the sovereignty of the UAE, Bahrain, Qatar, Kuwait, and Jordan. The Kingdom affirms its full solidarity with and unwavering support for… pic.twitter.com/hA2cVqvfmx
— Foreign Ministry 🇸🇦 (@KSAmofaEN) February 28, 2026
وزارتِ دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے تصدیق کی کہ سعودی فضائی دفاعی نظام نے متعدد خطرات کو ناکام بنایا، تاہم سفارتخانے کے احاطے میں محدود پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی اور معمولی مالی نقصان ہوا۔
ترجمان کے مطابق سعودی افواج نے منگل کی علی الصبح ریاض اور الخرج کو نشانہ بنانے والے مزید 8 ڈرونز کو بھی فضا ہی میں تباہ کر دیا۔
عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار
سعودی وزارتِ خارجہ نے امریکی سفارتخانے پر حملے کو 1949 کے جینیوا کنونشن اور 1961 کے ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ایران کے اس کھلے طرزِ عمل کی تکرار خطے کو مزید کشیدگی کی طرف دھکیل دے گی، جبکہ ریاض نے اس امر پر زور دیا کہ وہ اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔
عالمی برادری کی مذمت اور یکجہتی
سعودی کابینہ نے عالمی سطح پر ملنے والی حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کے رہنماؤں نے تہران کے اندھا دھند جارحانہ رویے کی مذمت کی ہے۔
امریکا اور خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک نے اردن کے ساتھ مشترکہ مؤقف اپناتے ہوئے ان حملوں کو ’خطرناک اشتعال انگیزی‘ قرار دیتے ہوئے اجتماعی حقِ دفاع کا اعادہ کیا۔
برطانیہ، فرانس اور بھارت کے رہنماؤں نے بھی سعودی عرب سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے مملکت کے ساتھ مضبوط حمایت کا اعلان کیا جبکہ برطانوی حکومت نے تصدیق کی کہ اس کی افواج علاقائی استحکام برقرار رکھنے کے لیے دفاعی اقدامات میں مصروف ہیں۔
پھنسے ہوئے مسافروں کے لیے انتظامات
کابینہ اجلاس میں علاقائی فضائی حدود کی بندش کے باعث سعودی ہوائی اڈوں پر پھنسے خلیجی شہریوں کے لیے مہمان نوازی اور سہولتوں کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ولی عہد نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے برادر ممالک کی ہر ممکن مدد جاری رکھے گا۔













