ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے میڈیا میں گردش کرنے والی ان خبروں کو سختی سے مسترد کردیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ تہران نے حالیہ دنوں میں امریکا کو کوئی پیغام بھیجا ہے۔
دارالحکومت تہران سے جاری بیان میں ایرانی اہلکار نے واضح کیا ’ ایران کی جانب سے امریکا کو کوئی پیغام نہیں بھیجا گیا اور نہ ہی ایران امریکی فریق کی جانب سے بھیجے گئے پیغامات کا جواب دے گا۔‘
یہ بیان جمعرات کو ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ کو دیا گیا۔
’ایران طویل جنگ کے لیے تیار ہے‘
ایرانی اہلکار نے اپنے بیان میں اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی طویل جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملکی دفاع اور سلامتی کے حوالے سے تمام ضروری اقدامات پہلے ہی کیے جاچکے ہیں۔
ایرانی عہدیدار کا یہ بیان اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں امریکی ویب سائٹ Axios نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے حالیہ دنوں میں امریکا کو ایک پیغام بھیجا ہے، تاہم اسے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
ایران نے اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے دوٹوک انداز میں مسترد کردیا ہے۔
موجودہ علاقائی اور عالمی کشیدگی کے تناظر میں اس بیان کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے واضح مؤقف اختیار کرنا سفارتی سطح پر جاری قیاس آرائیوں کا جواب ہے۔













