سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے مرد کے مقابلے میں عورت کی گواہی سے متلعق کیس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے خواتین کی گواہی کو مرد کے مقابلے میں دگنا تصور کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت خان نے ریمارکس دیے کہ خواتین کی گواہی کے حوالے سے قرآن مجید کی سورت بقرہ میں رہنمائی موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اصلاحی نظرثانی کے نام پر سپریم کورٹ کے فیصلے دوبارہ نہیں کھولے جا سکتے، آئینی عدالت
جس میں واضح کیا گیا ہے کہ کن صورتوں میں خواتین کی گواہی قابلِ قبول ہوتی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس کی درخواست گزار خواتین انتقال کر چکی ہیں۔
جس پر جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ عدالت اس کیس کو جاری رکھنا چاہتی ہے تاکہ اس اہم معاملے پر واضح فیصلہ ہو سکے۔
مزید پڑھیں: فوجی عدالتوں میں سزاؤں کے خلاف اپیل کا حق، سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا
سماعت کے دوران عدالت نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی فائنانس سیکریٹری سائرہ راجپوت کو طلب کر لیا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے خواتین صحافیوں کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ خواتین کی گواہی سے متعلق ہے، اس لیے یہ سوال اہم ہے کہ خاتون کی گواہی آدھی ہو گی یا مکمل۔
عدالت نے سائرہ راجپوت اور خواتین صحافیوں کو کیس میں معاون مقرر کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ہدایت کی۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے 1992 کے زبانی معاہدے پر زمین کی منتقلی کا حکم کالعدم قرار دیدیا
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ اگلی سماعت کے موقع پر معاونین کو عدالت میں پیش ہونا ہوگا۔
بعد ازاں عدالت نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔














