فوجی عدالتوں میں سزاؤں کے خلاف اپیل کا حق، سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا

بدھ 4 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ میں فوجی اہلکاروں کو فوجی عدالتوں کی جانب سے دی جانے والی سزاؤں کے خلاف اپیل کے حق اور تحریری فیصلے فراہم کرنے سے متعلق اہم کیس کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان کو نوٹس جاری کردیا۔

کیس کی سماعت جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں 5 رکنی شریعت اپیلیٹ بینچ نے کی۔

اپیل کے طریقہ کار پر عدالت کے سوالات

دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ قانون کے مطابق اپیل آرمی چیف یا ان کے نامزد افسر سنتے ہیں جبکہ آرمی چیف خود فوج کے سربراہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بیٹے کے جرم کا فیصلہ باپ سے کروایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر

انہوں نے مزید کہا کہ اگر سزا کے خلاف ٹریبونل تشکیل نہیں دیا جاتا تو متاثرہ شخص سول فورم سے بھی رجوع کرسکتا ہے اور آئین کے آرٹیکل 212 کے تحت اپیل کا حق دینا ضروری ہے۔

ملزم کو الزامات سے آگاہی کا معاملہ

جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ بعض صورتوں میں ملزم کو الزامات کی مکمل تفصیل نہیں بتائی جاتی، ایسے میں وہ کس بنیاد پر اپیل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ جس بنیاد پر سزا دی گئی ہو وہ مواد فراہم کرنا لازمی ہے تاکہ ملزم کو اپنے جرم اور دفاع کی نوعیت کا علم ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت کو پہلی، دوسری یا تیسری اپیل سے مسئلہ نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اپیل میں دفاع کی بنیاد کیا ہوگی۔

سابقہ فیصلے پر عملدرآمد بھی زیر بحث

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ 7 رکنی بینچ پہلے اس معاملے پر فیصلہ دے چکا ہے اور انہوں نے اس فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی استفسار کیا کہ آیا اس فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں اور چیف آف آرمی اسٹاف کے بعد ملزم کے پاس مزید کہاں جانے کا فورم موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: آرمی کورٹس میں سویلینز کا ٹرائل، فل کورٹ بنانے کی ایک اور درخواست دائر

انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا آرمی اہلکار سروس آف پاکستان کے دائرہ کار میں آتے ہیں یا نہیں۔

حکومتی مؤقف اور عدالتی ہدایات

ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دگل نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس حوالے سے ہدایات حاصل کریں گے جبکہ حکومتی اپیل کو صرف ایک مشاہدے کی حد تک قرار دیا گیا۔

عدالت نے عدالتی معاون اسلم خاکی کو تحریری موقف جمع کروانے کی ہدایت بھی جاری کی۔

پس منظر

وفاقی شرعی عدالت نے ملزمان کو فیصلوں کی نقول فراہم کرنے کے لیے چھ ماہ میں قانونی ترامیم کا حکم دیا تھا جبکہ وفاقی حکومت اور وزارت دفاع نے 2008 میں اس معاملے پر سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کی تھیں۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران لبنان میں اپنی پراکسیز کو فوری روکے ورنہ سخت جواب دیں گے، صدر ٹرمپ کی وارننگ

میری زندگی کی 2 اہم ترین شخصیات میں ایک فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں، ان کی قیادت نہ ہوتی توآج ہم یہاں نہ ہوتے، جے ڈی وینس

صدر ٹرمپ کی مدبرانہ قیادت کے باعث امریکا ایران مذاکرات ممکن ہوئے، وزیراعظم شہباز شریف

لائیوپاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات کا سوئٹزرلینڈ میں آغاز

قاہرہ میں ریجنل-4 ممالک کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس ’اسلام آباد مفاہمی یادداشت‘ زیر بحث

ویڈیو

میری زندگی کی 2 اہم ترین شخصیات میں ایک فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں، ان کی قیادت نہ ہوتی توآج ہم یہاں نہ ہوتے، جے ڈی وینس

ایران امریکا مذاکرات: وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی اور ایرانی وفود سے ملاقاتیں

پنجاب حکومت کا بڑا منصوبہ، پنجاب فلم سٹی نے پروڈکشن کے نئے دروازے کھول دیے

کالم / تجزیہ

پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا

پاکستان: نام ہی کافی ہے

ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟