عالمی سطح پر تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں کے پیشِ نظر پاکستان میں ایندھن کی بچت کے لیے مختلف اقدامات پر غور شروع کر دیا گیا ہے، جن میں سرکاری اور نجی اداروں میں عارضی طور پر ورک فرام ہوم کی تجویز کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: مودی نے روسی تیل نہ خریدنے کی یقین دہانی کرائی: صدر ٹرمپ کا انکشاف
حکومت نے ایک قومی ایکشن پلان پر غور شروع کیا ہے جس کا مقصد ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی کھپت کو کم کرنا اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنانا ہے۔ اس سلسلے میں ایک کابینہ کمیٹی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز کو آئندہ اجلاس میں شرکت کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ ممکنہ اقدامات پر عملدرآمد کے لیے صوبائی سطح پر بھی تیاری کی جا سکے۔
یہ اقدامات اس پس منظر میں زیرِ غور آئے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ کے باعث عالمی تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، دنیا بھر میں تیل لے جانے والے جہازوں کا ایک بڑا حصہ اس راستے میں تاخیر کا شکار ہے جس سے فریٹ اخراجات اور ترسیلی مسائل بڑھ سکتے ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس وقت پاکستان کے پاس قریباً 4 ہفتوں کا پیٹرول اور ڈیزل ذخیرہ موجود ہے، تاہم حکومت غیر ضروری استعمال کو کم کرنے اور ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے پیشگی اقدامات کرنا چاہتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ورک فرام ہوم کے علاوہ دیگر اقدامات جیسے سرکاری دفاتر کے اوقات میں تبدیلی، غیر ضروری سفر کی حوصلہ شکنی اور متبادل توانائی ذرائع کی تلاش بھی زیرِ غور ہیں۔
مزید پڑھیں: خلیجی وزرائے خارجہ کی بنگلہ دیشی تارکین وطن کی سلامتی کی یقین دہانی
وی نیوز نے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری سے رابطہ کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا سرکاری ملازمین کے لیے ورک فرام ہوم کی تجویز زیر غور ہے جس پر انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے، یہ میڈیا پر افواہ چل رہی ہے۔














