امریکی خلائی ادارے کے سابق خلا باز رون گارن نے خلا میں طویل قیام کے بعد زمین کے بارے میں ایک اہم مشاہدہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانیت دراصل ایک بڑی غلط فہمی میں زندگی گزاررہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا خلائی پروگرام میں تاریخی قدم، چین کے خلائی اسٹیشن پر پاکستانی خلا باز کی شمولیت
رون گارن نے تقریباً 178 دن خلا میں گزارے اور اس دوران زمین کے تقریباً 3000 چکر مکمل کیے۔ انہوں نے بتایا کہ خلا سے زمین کو دیکھنے کے بعد انسان کی سوچ میں ایک بڑا تبدیلی آتی ہے جسے اوور ویو ایفیکٹ کہا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس تجربے کے بعد انسان کو احساس ہوتا ہے کہ معیشت سے زیادہ اہم چیز ماحول اور زمین کا نظام ہے۔
BREAKING NEWS🚨: Astronaut Claims Humanity Is living a 'Big Lie' After 178 days in Space. pic.twitter.com/RUpxmz6eMi
— Night Sky Today (@NightSkyToday) March 4, 2026
خلا باز کا کہنا تھا کہ زمین کو خلا سے دیکھنے پر واضح ہوتا ہے کہ انسان دراصل ایک ہی سیارے کے مسافر ہیں اور سب ایک ہی نظام سے جڑے ہوئے ہیں، مگر دنیا کے موجودہ نظام میں منافع کو زمین اور ماحول پر ترجیح دی جاتی ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب دی آربیٹل پرسپیکٹو اور مختلف لیکچرز میں اس تصور کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا کے خلا باز اب خلا میں اسمارٹ فون استعمال کریں گے
رون گارن کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر بھی دلچسپ بحث شروع ہو گئی۔ کچھ صارفین نے اس خیال کو انسانیت کے لیے اہم پیغام قرار دیا جبکہ بعض نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ خلا میں طویل قیام کے بعد خلا بازوں کو سب سے زیادہ تازہ پھل اور مشروبات یاد آتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق خلا باز کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ انسانیت کو خود کو ایک مشترکہ عالمی برادری کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ ان کے خیال میں دنیا کے بہت سے مسائل دراصل اس سوچ کا نتیجہ ہیں کہ انسان خود کو ایک مشترکہ سیاروی قوم کے طور پر نہیں دیکھتا۔
یہ بھی پڑھیں: چینی خلابازوں کی واپسی مؤخر، خلائی ملبے کے ممکنہ ٹکراؤ کا شبہ
رون گارن کا کہنا ہے کہ جب انسان خلا سے نظر آنے والی حقیقت کو سمجھ لے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ زمین ایک نازک اور محدود نظام ہے جہاں تمام انسان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور اس سیارے کا تحفظ ہی دراصل انسانیت کے مستقبل کی ضمانت ہے۔














