ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر زمینی حملہ کیا تو تہران اس کا بھرپور مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے کسی جنگ بندی کی درخواست نہیں کی اور نہ ہی امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا کوئی ارادہ ہے۔
Reporter: "Are you afraid of a U.S. invasion in your country"?
Araghchi: "No, we are waiting for them."
Reporter: "You are waiting for the U.S. military to invade, the ground troops?"
Araghchi: "Yes"
Did you saw that confidence on Americans? pic.twitter.com/PXMqcvmGUP
— Tarek (@TarekuZN) March 5, 2026
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران امریکی زمینی حملے سے خوفزدہ نہیں بلکہ اس کا انتظار کر رہا ہے اور اسے یقین ہے کہ ایسی کارروائی امریکا کے لیے بڑا نقصان ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جاری حملوں کے باوجود ایران نے جنگ بندی کی درخواست نہیں کی اور ماضی میں بھی اسرائیل نے ہی لڑائی کے بعد جنگ بندی کی درخواست کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی پابندیوں کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دینے کا وقت آ گیا ہے، عراقچی
ایرانی وزیر خارجہ نے الزام لگایا کہ ایران کے شہر میناب میں ایک اسکول پر حملے میں 171 بچے جاں بحق ہوئے جس کے ذمہ دار امریکہ یا اسرائیل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جاری جنگ کے دوران امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا کوئی مثبت تجربہ نہیں رہا، اس لیے ایران دوبارہ بات چیت کے لیے تیار نہیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران میں نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا فیصلہ آئینی طریقہ کار کے تحت ماہرین کی مجلس کرے گی اور اس معاملے میں کسی بیرونی مداخلت کی گنجائش نہیں۔














