ایران کبھی سرینڈر نہیں کرے گا، ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا صدر ٹرمپ کو دوٹوک جواب

جمعہ 6 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدہ حالات مزید تشویش ناک ہو گئے ہیں اور آج اس جنگ کا آٹھواں روز ہے۔ اسرائیل اور امریکا کی مشترکہ کارروائی میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خانہ ای کو شہید کیا گیا جبکہ جنگ کا دائرہ کار خطے کے دیگر خلیجی ممالک تک بھی پھیل گیا ہے۔

ان حملوں میں 1300 کے قریب ایرانی جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ دوسری طرف جوابی کارروائیوں میں ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، ان حملوں میں ہلاک ہونے والے اسرائیلیوں کی تعداد ایک درجن سے زائد بتائی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر خلیجی ممالک میں بھی کم پیمانے پر ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں جہاں ایران امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کر رہا ہے۔

ایران کو آج بہت سخت حملوں کا سامنا کرنا پڑےگا، ٹرمپ کی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ ایران کو آج بہت سخت حملوں کا سامنا کرنا پڑےگا۔

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے اپنے مشرقِ وسطیٰ کے پڑوسی ممالک سے معذرت کی ہے اور ہتھیار ڈال دیے ہیں، اور یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ وہ اب ان پر مزید حملے نہیں کرے گا۔

ان کے مطابق یہ وعدہ صرف امریکا اور اسرائیل کے مسلسل حملوں کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہاکہ ایران کے خراب رویے کی وجہ سے مکمل تباہی اور یقینی موت کے پیش نظر مزید علاقوں اور لوگوں کو بھی نشانہ بنانے پر غور ہو رہا ہے۔

ایران کے خلاف جنگ کو ایک سروس کے طور پر فراہم کررہے ہیں، امریکی صدر

بعد ازاں فلوریڈا میں لاطینی امریکی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری عسکری کارروائیوں کو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے خدمت قرار دیا۔

فلوریڈا میں لاطینی امریکی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ گزشتہ 3 دنوں میں ایرانی بحریہ کے 42 جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ امریکی حملوں میں ایران کے فضائی اور مواصلاتی نظام کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہاکہ جنگ میں جانی نقصان ممکن ہے، تاہم کوشش یہی ہے کہ انسانی جانوں کو کم سے کم نقصان پہنچے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے خلاف امریکی جنگ ایک سروس ہے جو ہماری طرف سے پوری دنیا کو فراہم کی جارہی ہے۔

اس موقع پر صدر ٹرمپ نے لاطینی امریکا کے حوالے سے بھی بات کی اور بتایا کہ منشیات فروش گروپوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے ایک نیا فوجی اتحاد تشکیل دیا جا رہا ہے۔

لبنان: اسرائیلی فضائی حملے میں 6 افراد جاں بحق، حزب اللہ ٹھکانے بھی نشانے پر

مشرقی لبنان کے ایک قصبے پر اسرائیلی فضائی حملے میں 4 بچوں سمیت 6 افراد جاں بحق ہو گئے۔

لبنانی وزارت صحت کے مطابق جاں بحق افراد ایک ہی خاندان کے رکن تھے۔

اسرائیلی فوج نے لبنان کے ساحلی شہر طائر میں بھی حزب اللہ کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

فوج کے ترجمان نے کہاکہ یہ کارروائی ان مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی جہاں حزب اللہ کی عسکری سرگرمیاں جاری ہیں، اور یہ گروہ علاقے میں اپنی کارروائیوں کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

عراقی کرد گروپ کا ایران میں ممکنہ زمینی کارروائی کا اعلان

عراقی نژاد کرد گروپ خباط تنظیم کے سیکریٹری جنرل بابا شیخ حسینی نے الجزیرہ کو بتایا کہ عراق میں موجود ایرانی کرد جنگجو ایران میں زمینی کارروائی کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی کوئی حملہ جاری نہیں ہے، مگر حالات سازگار ہونے پر کارروائی کے امکان بہت مضبوط ہیں۔

حسینی نے تصدیق کی کہ امریکا نے مختلف ذرائع سے ان سے رابطہ کیا ہے اور تعاون کے امکانات پر بات چیت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زمینی آپریشن کے لیے جدید ہتھیار، دھماکا خیز مواد اور ساز و سامان درکار ہوگا کیونکہ موجودہ ساز و سامان پرانا ہے۔

ایران پڑوسی ممالک پر حملہ نہیں کرے گا، ایرانی صدر

ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن ممالک ایران کو سرنڈر کرنے پر مجبور کرنے کی خواہش اپنے ساتھ قبر تک لے جائیں گے۔

 مسعود پزشکیان نے کہاکہ ایرانی عبوری قیادت کی کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ پڑوسی ممالک پر مزید حملے نہیں کیے جائیں گے، جب تک کہ ایران پر حملہ انہی ممالک سے نہ کیا جائے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق صدر پزشکیان نے گزشتہ دنوں ہونے والے حملوں کے لیے پڑوسی ممالک سے معافی بھی مانگی ہے اور کہا کہ مستقبل میں ایران صرف اپنے دفاع کے لیے کارروائی کرے گا۔

عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس طلب

عرب لیگ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل حسام زکی نے کہا ہے کہ عرب لیگ کے وزرائے خارجہ اتوار کو ہنگامی اجلاس کریں گے تاکہ کئی عرب ممالک کی حدود پر ایرانی حملوں پر غور کیا جا سکے۔

حسام زکی کے مطابق یہ اجلاس ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہوگا اور اس کی درخواست کویت، سعودی عرب، قطر، عمان، اردن اور مصر نے دی ہے۔ اجلاس میں ایران کی حالیہ کارروائیوں کے اثرات اور ان کے تدارک کے اقدامات پر بات چیت متوقع ہے۔

اسرائیل کی 80 جیٹ طیاروں سے ایران پر بمباری

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ رات بھر ایران میں فضائی کارروائی کی گئی جس میں 80 سے زائد جنگی طیارے حصہ لے رہے تھے اور انہوں نے 230 ہتھیار مختلف فوجی مقامات پر گرائے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق ان اہداف میں ایرانی پاسداران انقلاب کی فوجی یونیورسٹی، لانچنگ کے انفراسٹرکچر والا اسٹوریج سائٹ اور بیلسٹک میزائل کی تیاری و ذخیرہ کرنے کی زیر زمین جگہ شامل تھی۔

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیردفاع سے اہم ملاقات

سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع اور شاہی خاندان کے رکن شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز سے اہم ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور خطے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران ایران کی جانب سے مملکت سعودی عرب کے خلاف حالیہ حملوں کے معاملے پر خصوصی گفتگو ہوئی، جسے دونوں ممالک کے درمیان موجود مشترکہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تناظر میں زیر بحث لایا گیا۔

فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ اس نوعیت کی کارروائیاں خطے کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں اور اس کشیدگی کو فوری طور پر کم کرنے کی ضرورت ہے۔

حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپ

 خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حزب اللہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس کے جنگجوؤں نے شام کی سمت سے آنے والے اسرائیلی فوج کے 4ہیلی کاپٹروں کی دراندازی کو دیکھا جس کے بعد جھڑپیں ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیے: ایران کے اسرائیل پر ایک بار پھر میزائل حملے، حزب اللہ کا ایران کی حمایت کا اعلان

بیان کے مطابق جیسے ہی اسرائیلی فوج کی موجودگی ظاہر ہوئی تو دونوں جانب سے شدید جھڑپ شروع ہو گئی جس دوران اسرائیلی فوج نے شدید فضائی حملے کیے اور بعد ازاں اپنے اہلکاروں کو واپس نکالنا شروع کر دیا۔ حزب اللہ کے ایک اور بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوج کے انخلا کے دوران اس کے جنگجوؤں نے راکٹ بھی فائر کیے۔

ادھر لبنانی میڈیا کے مطابق جمعہ کے روز قصبہ نبی شیت کو کم از کم 13 اسرائیلی فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ لبنان کی وزارت صحت نے ان حملوں میں کم از کم 9 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔

سعودی عرب کے اہم تیل کے ذخیرے پر ڈرون اور میزائل حملے ناکام

سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے ایک بار پھر ملک کے اہم تیل کے ذخیرے پر ہونے والے ڈرون اور میزائل حملوں کو ناکام بنا دیا۔ وزارتِ دفاع کے مطابق ہفتہ کی صبح آرامکو کے کی جانب آنے والے 16 ڈرونز کو راستے میں ہی مار گرایا گیا۔

مزید پڑھیں:سفارت کاری صرف معاہدوں تک محدود نہ رہے: پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کا نیا باب

وزارتِ دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ ڈرونز 4 مختلف لہروں میں شیبہ فیلڈ کی طرف بڑھ رہے تھے جنہیں ربع الخالی کے علاقے میں تباہ کر دیا گیا۔

ترجمان کے مطابق الگ واقعات میں الخرج میں واقع پرنس سلطان ایئر بیس کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل اور ایک کروز میزائل بھی فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا۔ اس کے علاوہ ریاض شہر کے مشرق میں آنے والے ایک ڈرون کو بھی مار گرایا گیا۔

ایران کی جانب سے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل حملوں کا سلسلہ جاری

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے مزید بیلسٹک میزائل اسرائیل کی طرف داغے گئے ہیں جن کا رخ گریٹر تل ابیب اور وسطی اسرائیل کے وسیع علاقوں کی جانب تھا۔ اس سے قبل جنوبی اسرائیل سمیت دیگر علاقوں کی طرف بھی میزائل داغے جانے کی نشاندہی کی گئی تھی۔

اسرائیلی فوج کے مطابق رات بارہ بجے کے بعد اب تک ایران کی جانب سے کم از کم پانچ بیلسٹک میزائل اسرائیل کی طرف فائر کیے گئے، جس کے باعث لاکھوں اسرائیلی شہری رات بھر پناہ گاہوں میں جانے پر مجبور ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے: اسرائیل اور امریکا ایران کو ٹکڑے کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ایرانی رہنما علی لاریجانی کا بیان

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں پہلے ہفتے کے دوران ایران کی جانب سے ایک ہزار میزائل داغے جانے کا خدشہ تھا، تاہم اب تک تقریباً 200 میزائل ہی فائر کیے گئے ہیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق یہ صورتحال ایران کی میزائل صلاحیت میں کمزوری کی نشاندہی کرتی ہے۔

امریکی صدر کی دفاعی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کی بڑی دفاعی کمپنیوں نے جدید ہتھیاروں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق انہوں نے امریکا کی سب سے بڑی دفاعی مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے سربراہان کے ساتھ ایک اہم اجلاس کیا جس میں اسلحے کی پیداوار اور اس کے شیڈول پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں کمپنیوں نے ‘ایکسکوئزٹ کلاس’ ہتھیاروں کی پیداوار کو چار گنا بڑھانے پر رضامندی ظاہر کی ہے تاکہ کم سے کم وقت میں بڑی مقدار میں اسلحہ تیار کیا جا سکے۔

امریکی صدر نے کہا کہ پیداوار میں توسیع کا عمل دراصل اجلاس سے تین ماہ قبل ہی شروع کر دیا گیا تھا اور متعدد فیکٹریوں میں ان ہتھیاروں کی تیاری پہلے ہی جاری ہے۔

ایران اور روس کی اعلیٰ سطحی بات چیت

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جس میں علاقائی سیکیورٹی، موجودہ جنگی صورت حال اور ممکنہ سفارتی اقدامات پر تبادلہ خیال ہوا۔ یہ بات چیت تنازع کے تیزی سے پھیلنے کے دوران ہوئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اپنی بین الاقوامی حمایت کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

دوسری طرف امریکا کا سب سے بڑا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ بحر احمر کے لیے بحیرہ روم سے روانہ ہو چکا ہے۔ جس کا مقصد جنگی سرگرمیوں میں تیزی لانا اور عسکری قوت کو مضبوط کرنا ہے۔

قطر: فلائٹ روٹس جزوی طور پر بحال

قطر کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے ’ایمرجنسی ایئر روٹس‘ کے ذریعے فضائی ٹریفک مرحلہ وار بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد ہوائی سفر کو محدود صلاحیت کے ساتھ بحال کرنا ہے، جو کہ خطے میں جاری لڑائی کی وجہ سے پہلے سخت متاثر ہوا تھا۔

عراق کے اربیل میں ہوٹل پر ڈرون حملہ

عراق کے کردستان علاقے کے شہر اربیل کے مشہور ہوٹل ’ ارجان بائے روتانا ‘ پر ڈرون حملہ ہوا، جس کے بارے میں ذرائع نے بتایا کہ ایران سے منسلک عسکری گروہوں نے اسے انجام دیا۔ بغداد میں امریکی سفارت خانے نے بھی خبردار کیا ہے کہ عراق کے شمالی علاقوں میں غیر ملکیوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں بڑھ سکتی ہیں۔

اسرائیل پر ایرانی حملہ

اسرائیل کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل کی طرف میزائل داغے گئے ہیں، جنہیں اسرائیلی فضائی دفاعی نظام نے روکنے کی کوشش کی۔ اس کشیدگی کے سبب اسرائیل نے اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ایران کے نیوکلیئر شہر نطنز کے قریب دھماکے

ایرانی سرکاری میڈیا نے بتایا ہے کہ نطنز شہر کے قریب شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جہاں ایران کا بڑا جوہری مرکز واقع ہے۔ ماضی میں بھی اسی مقام کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، اور اب دوبارہ حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

تجزیہ گروپ ’ایئروارز‘ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے حملوں کی رفتار پچھلے کسی بھی فضائی مہم سے کہیں زیادہ ہے، جس میں روزانہ زیادہ مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ حملے ایران کے دفاعی ڈھانچے، فوجی اڈوں اور اہم تنصیبات پر کیے جا رہے ہیں۔

تہران میں سپریم لیڈر کے خفیہ بنکر پر فضائی حملہ

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نئی شدت اختیار کر گئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے تہران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کے نیچے موجود خفیہ بنکر کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں اسرائیلی سفارتخانے کو بم حملے سے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ دونوں کارروائیاں خطے میں جاری تناؤ اور عالمی طاقتوں کے مداخلت کے بیچ سامنے آئی ہیں۔

اسرائیلی ڈیفنس فورس (IDF) کے مطابق تقریباً 50 لڑاکا طیاروں نے تہران میں کمپاؤنڈ کے نیچے بنکر کو نشانہ بنایا، جو مبینہ طور پر سپریم لیڈر اور دیگر سینئر حکام کے لیے ایمرجنسی کمانڈ سنٹر کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔

فوجی حکام نے کہا کہ بنکر کو خفیہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر تباہ کیا گیا، جس سے ایران کی کمانڈ و کنٹرول صلاحیت متاثر ہوئی۔ اسرائیل نے اس کارروائی کو ’روار آف ہیریئر‘ آپریشن کا حصہ قرار دیا۔

بحرین میں ایرانی دعویٰ

ادھر ایران نے بحرین کے منامہ میں اسرائیلی سفارتخانے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ کویت اور سعودی عرب میں بھی ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد سیکیورٹی الرٹس جاری کیے گئے۔

اماراتی ریاست فجیرہ میں ایرانی ڈرون حملے کے بعد لگنے والی آگ تین دن بعد بجھائی گئی۔ سعودی حکام نے ایرانی ڈرونز کو مار گرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ ایران نے سعودی عرب کے اعلان کردہ فضائی و بحری حدود کے احترام پر شکریہ ادا کیا۔

ایران کے شہر قم کے متعدد علاقوں میں امریکا و اسرائیل کے حملے

امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد جنگ جمعے کو 7ویں روز میں داخل ہو گئی ہے اور اسرائیل اور امریکا کی جانب سے آج بھی دارالخلافے تہران اور مذہبی شہر قم سمیت کئی شہروں پر حملے کیے گئے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اب تک اس کے 1,332 افراد شہید ہو چکے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ایران کے مقدس شہر قم کےبھی متعدد علاقوں کو حالیہ امریکی و اسرائیلی فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے جہاں دھماکوں اور دھویں کے بادل دیکھے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کے خلاف جنگ: امریکا کو پہلے100 گھنٹوں میں کتنے ارب ڈالرز کا نقصان ہوا؟

قم میں فضائی حملوں میں بیلسٹک میزائل لانچرز اور دیگر اہداف کو بھی نشانہ بنایا گیا جس سے شہر کے مختلف حصوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں اور فضا میں دھواں دیکھا گیا۔

یہ اطلاعات ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ایک بڑے سلسلے کے درمیان سامنے آئی ہیں جس کے باعث تہران، اصفہان اور دیگر شہروں میں بھی جنگی کارروائیاں جاری ہیں۔

اسرائیلی فوج نے ایران میں ایک اور نئی فضائی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے دارالحکومت تہران اور وسطی شہر اصفہان میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیلی فوج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ اس نے ایران میں حکومتی ڈھانچے اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے لیے وسیع فضائی حملوں کا آغاز کیا ہے۔

بیان کے مطابق یہ حملے تہران کے علاوہ ایران کے مرکزی شہر اصفہان میں بھی کیے گئے۔

اسرائیلی فوج نے اس کارروائی کو 15واں فضائی حملہ قرار دیا ہے تاہم حملوں کی نوعیت، ہدف بنائے گئے مقامات یا ممکنہ نقصانات کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

شہریوں کو قم خالی کرنے کی ہدایت

قبل ازیں اسرائیلی فوج نے ایران کے شہر قم کے صنعتی علاقے کے رہائشیوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔

اسرائیلی فوج نے اپنے فارسی زبان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس اکاؤنٹ پر ایک بیان اور نقشہ جاری کیا جس میں شوکوهیه صنعتی علاقے کے ایک مخصوص حصے کو سرخ لائنوں کے ذریعے نشان زد کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج آئندہ چند گھنٹوں میں اس علاقے میں کارروائی کرنے والی ہے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری پیغام میں مقامی افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نقشے میں دکھائے گئے مخصوص علاقے کو فوری طور پر خالی کر دیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ علاقے میں رہنا شہریوں کی جان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

شیراز میں 20 افراد شہید

شیراز میں بھی امریکی اسرائیلی حملے کے نتیجے میں 20 افراد ہلاک ہوئے اور رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ رات بھر کی کارروائی میں 6 ایرانی بیلسٹک میزائل لانچرز تباہ کر دیے گئے اور 3 ایرانی جدید دفاعی نظام بھی مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے۔

ایران نے ڈرون ہیرون مار گرایا

مزید برآں، ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز نے اصفہان میں اسرائیلی ڈرون  ہیورون کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ لورستان میں امریکی ڈرون ایم کیو 9 اور تہران کے نواح میں ہرمیس ڈرون کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن کی پسپائی کا دعویٰ

ایران کے پاسداران انقلاب کی بحری فورس (آئی آر جی سی نیوی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحیرہ عمان میں امریکی طیارہ بردار جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ کو جدید ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے جس کے بعد امریکی جہاز خلیج عمان سے فاصلے پر جا چکا ہے۔

دریں اثنا ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن نے ایران پر حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد میدان جنگ چھوڑ دیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق ڈاکٹر قالیباف نے کہا کہ ابراہم لنکن ایرانی حملوں کے بعد پیچھے ہٹ گیا اور جس بحری بیڑے کو امریکی اتحادیوں کا دفاع کرنا تھا وہ اپنی حفاظت کرنے میں ناکام رہا۔

انہوں نے امریکی اتحادیوں کو بھی خبردار کیا کہ اپنی سلامتی کو ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے دعوؤں کی نذر نہ کریں۔

صدرٹرمپ کا ’میک ایران گریٹ اگین‘ کا نعرہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے غیر مشروط پر ہتھیار ڈالنے کے علاوہ کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ سوائے غیر مشروط پر ہتھیار ڈالنے کے ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ پھر  ایک بہترین اور قابل قبول قیادت کے انتخاب کے بعد امریکا اور اس کے اتحادی ایران کو تباہی کے دہانے سے واپس لانے کے لیے بھرپور کام کریں گے۔

ٹرمپ کے مطابق ایران کو معاشی طور پر پہلے سے زیادہ بڑا، بہتر اور مضبوط بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کا مستقبل شاندار ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے ’میک امریکا گریٹ اگین‘ کے بعد ایک نیا سلوگن دیتے ہوئے کہا کہ ’میک ایران گریٹ اگین‘۔

عراق: ایرانی فورسز کی کردوں کے خلاف کارروائی، کیمپ تباہ

ایران نے عراق میں ایرانی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے کیمپ کو نشانہ بنادیا

عرب میڈیا کے مطابق عراق کے کردستان علاقے میں کرد مزاحمتی گروپوں کے خلاف میزائل حملوں کے بعد کے مطابق ایران نے ایرانی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک کیمپ کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا۔

رپورٹ کے مطابق حملے کے بعد کیمپ سے دھویں کے بادل بلند ہوتے دیکھے گئے تاہم ابتدائی اطلاعات میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

یہ حملہ ایران کی جانب سے عراق کے کردستان علاقے میں کرد مسلح گروپوں پر جاری حالیہ فضائی کارروائیوں کا حصہ ہے جس کا مقصد ایرانی سرحد کے نزدیک مخالف گروپوں کی کارروائیوں کو محدود کرنا بتایا جا رہا ہے۔

سعودی عرب نے میزائل و ڈرون حملے ناکام بنادیے

سعودی عرب کی فضائی دفاعی فورسز نے جمعے کی صبح مملکت کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنانے والے 4 میزائل اور 5 ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

سعودی وزارت دفاع نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر الگ الگ بیانات جاری کیے۔

وزارتِ دفاع کے مطابق رات گئے جاری ہونے والے پہلے بیان میں بتایا گیا کہ 3 بیلسٹک میزائل الخرج گورنری میں واقع پرنس سلطان ایئر بیس کی جانب داغے گئے تھے جنہیں فضائی دفاعی نظام نے بروقت تباہ کر دیا۔

بعد ازاں وزارتِ دفاع نے مزید بتایا کہ ایک ڈرون مشرقی صوبے میں اور دوسرا الخرج میں مار گرایا گیا۔

صبح کے وقت جاری بیان میں کہا گیا کہ الخرج میں ایک کروز میزائل کو بھی تباہ کیا گیا جبکہ مشرقی ریاض کے علاقے میں مزید تین ڈرون گرا دیے گئے۔

یہ حملے اس واقعے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آئے جب الخرج کو نشانہ بنانے والے 3 کروز میزائل ناکام بنا دیے گئے تھے اور مشرقی صوبے میں راس تنورا آئل ریفائنری کے اوپر ایک ڈرون حملہ بھی روک لیا گیا تھا۔ الخرج ایک اہم صنعتی علاقہ ہے جو دارالحکومت ریاض سے تقریباً 80 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔

ایران میں شہادتیں 1332 تک پہنچ گئیں، سرکاری سرگرمیاں بتدریج بحال کرنے کا اعلان

ایران نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں جاری کشیدگی کے باوجود سرکاری و انتظامی سرگرمیوں کو مرحلہ وار بحال کیا جائے گا۔

حکام کے مطابق تہران صوبے میں قائم تمام وزارتیں، ادارے اور انتظامی محکمے اتوار 8 مارچ سے اپنے صرف 20 فیصد ملازمین کے ساتھ دفاتر میں کام شروع کریں گے۔

اعلامیے کے مطابق تہران صوبے میں تمام خواتین ملازمین گھروں سے کام کریں گی جبکہ بعض بینک معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔

اس کے علاوہ خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے آپریشنل یونٹس، بلدیاتی ادارے، طبی مراکز اور فوج، قانون نافذ کرنے والے و سیکیورٹی ادارے اس ہدایت سے مستثنیٰ ہوں گے۔

حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ تہران میں تمام انتظامی عہدوں پر فائز افسران کو دفاتر میں حاضری دینا لازمی ہوگا اور انہیں ریموٹ ورک کی اجازت نہیں ہوگی۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک پر امریکا اور اسرائیل کے حملے جاری ہیں۔

ایران میں ہلاکتوں کی تعداد 1332 تک پہنچ گئی

ایرانی ہلال احمر کے مطابق ہفتے کے روز سے جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران میں کم از کم 1332 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کے بعد مختلف شہروں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

پاکستان میں برطانوی ہائی کمیشن کی اپنے شہریوں کے لیے سفری ہدایت

پاکستان میں برطانوی ہائی کمیشن نے اپنے شہریوں کے لیے نئی سفری ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تناؤ اور ایران کی صورتحال کے باعث علاقائی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں جس کے نتیجے میں سفر بھی متاثر ہو رہا ہے۔

ہائی کمیشن کے مطابق مشرق وسطیٰ میں فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے پروازوں میں بھی خلل پڑ رہا ہے، اس لیے مسافروں کو سفر سے قبل اپنی ایئر لائن سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہروں کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے جس کے پیش نظر برطانیہ نے پاکستان میں اپنے عملے کو غیر ضروری نقل و حرکت محدود رکھنے کی ہدایت دی ہے۔

اعلامیے میں برطانوی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے ممکنہ خطرات سے باخبر رہیں اور مظاہروں، احتجاجی ریلیوں اور مذہبی اجتماعات کے قریب جاتے وقت خصوصی احتیاط برتیں۔

ایران نے ہزاروں امریکی فوجیوں کو ہلاک یا گرفتار کرنے کی تیاری مکمل کرلی، لاریجانی

 ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ ایرانی افواج کسی بھی امریکی زمینی حملے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے زمینی کارروائی کی تو ایرانی فورسز ’بدعنوان امریکی حکام کو رسوا کر دیں گی‘ اور ہزاروں امریکی فوجیوں کو ہلاک یا گرفتار کرنے کے لیے تیار ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ہفتے سے اب تک ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں کم از کم 1230 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق تہران کے جنوب مغرب میں واقع شہر پرند میں 2 اسکول بھی میزائل حملوں کی زد میں آ گئے۔

دوسری جانب ایران نے بھی جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین سمیت خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا۔ اسی دوران اسرائیل کے شہر تل ابیب پر جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ڈرونز اور میزائلوں کے مشترکہ حملے کیے گئے۔


مہمان ایرانی جہاز پر بحر ہند میں امریکی حملہ، مودی امریکا ڈیل یا بھارتی بحریہ نااہل؟

اکتوبر 2025 کے آخر میں نریندر مودی نے نیلے بحریہ کے یونیفارم اور چشمہ پہن کر ملک کے سمندری دستوں سے خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بھارت کے بحری حدود اور بحر ہند کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کیا۔

مودی نے کہا کہ بھارتی بحریہ بحر ہند کی محافظ ہے

اس دوران حاضرین نے ’ بھارت ماتا زندہ باد ‘ کے نعرے بلند آواز سے لگائے۔

بھارت سے تعلق رکھنے والے صحافی یشراج شرما کا کہنا ہے کہ مودی کے اس دعوے کے صرف 5 ماہ بعد بھارت کی ساکھ کو چیلنج کیا گیا۔ بدھ کو ایرانی جنگی جہاز IRIS Dena کو امریکی سب میرین نے سری لنکا کے جنوب سے صرف 81 کلومیٹر دور ٹارپیڈو سے نشانہ بنایا، جب جہاز بھارت کی جانب سے میزبان کی گئی نیول مشقوں  مِلان سے واپس جا رہا تھا۔

مشقوں کے دوران بھارتی صدر دروپدی مرمو نے ایرانی جہاز کے بحری اہلکاروں کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں تھیں۔

یشراج شرما نے الجزیرہ ٹی وی کو بتایا کہ ایرانی جہاز پر حملے کے بعد بھارتی بحریہ نے ایک دن سے زیادہ وقت لینے کے بعد رسمی ردعمل دیا۔ امریکی حکام نے واضح کیا کہ یہ حملہ ٹرمپ انتظامیہ کی ایران کے خلاف جنگ کو بڑھانے کی تیاری اور عزم کا مظہر تھا۔

ایران کے جہاز پر امریکی حملے نے بھارت کے ’بحر ہند کے محافظ‘ کے دعوے پر سوالیہ نشان لگا دیا، کیونکہ بھارت اپنی سرزمین کے باہر ایک مہمان جہاز کی حفاظت کرنے میں ناکام نظر آیا۔

اب بحر ہند کی محافظ نااہل ہے یا پھر نریندر مودی نے امریکا سے کوئی ڈیل کی ہوئی ہے۔ اور اسی ڈیل کے تحت ایرانی مہمان سمندری جہاز پر حملہ ہوا، اور ابھی تک نریندر مودی نے اس حملے کی مذمت نہیں کی، حالانکہ امریکا نے سینہ تان کر اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف بھارت کی سمندری ساکھ پر اثر ڈال سکتا ہے بلکہ علاقائی دفاعی اور سیاسی توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

ایران کے خلاف جنگ: امریکا کو پہلے 100 گھنٹوں میں کتنے ارب ڈالرز کا نقصان ہوا؟

واشنگٹن ڈی سی میں واقع تھنک ٹینک سنٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) کی رپورٹ کے مطابق، ایران پر امریکی جنگ کے ابتدائی 100 گھنٹوں میں لاگت تقریباً 3.7 ارب ڈالر رہی، یعنی روزانہ 891.4 ملین ڈالر۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی فضائی مہم میں مہنگے ہتھیاروں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی وجہ سے لاگت زیادہ آئی، تاہم وقت کے ساتھ امریکا کم قیمت والے ہتھیار استعمال کر کے اخراجات کم کر سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیکس کے اشاروں کے مطابق جنگ ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔

سی ایس آئی ایس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دفاعی محکمے کو اس جنگ کے لیے موجودہ بجٹ سے زیادہ فنڈز کی ضرورت ہوگی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے:

’یہ جنگ غیر متوقع اخراجات پیدا کرے گی… اور بجٹ میں کمی کے باوجود اس تنازعے کو داخلی طور پر چلانا سیاسی اور عملی طور پر مشکل ہوگا‘۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی فضائی حملے مہنگے ہتھیاروں کی وجہ سے زیادہ خرچ کرتے ہیں، لیکن جیسے ہی امریکا کم قیمت ہتھیاروں کی طرف منتقل ہوگا، اخراجات میں کمی آئے گی۔

تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس جنگ کے دوران بجٹ میں غیر متوقع اخراجات کافی اہم ہوں گے اور دفاعی محکمے کو اضافی مالی وسائل کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

اتحاد ایئرویز کی محدود پروازیں ابوظہبی سے دوبارہ شروع

متحدہ عرب امارات کی قومی فضائی کمپنی اتحاد ایئر ویز نے اعلان کیا ہے کہ وہ آج سے ابوظہبی سے چند اہم عالمی مقامات کے لیے محدود کمرشل پروازیں دوبارہ شروع کر رہی ہے۔

ایئرلائن کے مطابق یہ پروازیں ابو ظہبی سے منتخب بین الاقوامی منزلوں کے لیے چلائی جائیں گی۔

اتحاد ایئرویز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری بیان میں مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ صرف اسی صورت میں ایئرپورٹ جائیں جب ان کے پاس دوبارہ شروع ہونے والی پرواز کی تصدیق شدہ بکنگ موجود ہو۔ یا انہیں براہِ راست اتحاد ایئرویز کی جانب سے رابطہ کیا گیا ہو۔

ایئرلائن کا کہنا ہے کہ محدود فلائٹ شیڈول کے تحت مرحلہ وار پروازوں کی بحالی کی جا رہی ہے تاکہ مسافروں کو بتدریج سہولت فراہم کی جا سکے۔

ایران کا بحرین کے دارالحکومت منامہ میں اسرائیلی سفارت خانے  پر حملہ

ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بحرین کے دارالحکومت منامہ میں رات کے وقت ہونے والے حملوں کا ہدف شہر کا معروف فنانشل ہاربر ٹاورز کمرشل کمپلیکس تھا۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق اس کمپلیکس کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ اسی مقام پر منامہ میں اسرائیلی سفارت خانہ واقع ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فنانشل ہاربر ٹاورز کے قریب ایک ایرانی ڈرون کو فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ڈرون کو کمپلیکس کے اطراف میں نشانہ بنا کر گرایا گیا، جس کے بعد علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی۔

واقعے کے بعد منامہ میں سکیورٹی ادارے الرٹ ہو گئے ہیں۔ فنانشل ہاربر ٹاورز شہر کا ایک اہم تجارتی مرکز ہے اور یہاں متعدد بین الاقوامی دفاتر اور کاروباری ادارے موجود ہیں۔

تاحال بحرین یا اسرائیل کی جانب سے اس واقعے پر کوئی تفصیلی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اس واقعے کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ایرانی سفارت کار منحرف ہوجائیں، پاسدارن انقلاب فورسز ہتھیار ڈال دیں: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی فوج، پولیس اور پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے اہلکاروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور ملک کی موجودہ مذہبی قیادت سے علیحدگی اختیار کر لیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ جو اہلکار ایسا کریں گے انہیں مکمل استثنیٰ اور تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

وائٹ ہاؤس میں 5 مارچ کو خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایرانی سکیورٹی فورسز پر زور دیا کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑے ہوں اور اس حکومت کے خاتمے میں کردار ادا کریں جو 1989 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے اقتدار میں ہے۔ انہوں نے کہا ’میں ایک بار پھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب، فوج اور پولیس کے تمام اہلکاروں سے کہتا ہوں کہ ہتھیار ڈال دیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنا ملک واپس لیں۔‘

ٹرمپ نے کہا کہ ہتھیار ڈالنے والوں کو مکمل تحفظ دیا جائے گا۔

’ہم آپ کو مکمل استثنیٰ دیں گے۔ اگر آپ ہمارے ساتھ آتے ہیں تو آپ تاریخ کے درست رخ پر ہوں گے۔‘

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو نتائج سنگین ہو سکتے ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ وہ کسی کی موت نہیں دیکھنا چاہتے۔

امریکی صدر نے دنیا بھر میں تعینات ایرانی سفارتکاروں سے بھی اپیل کی کہ وہ سیاسی پناہ حاصل کریں اور ایران کے مستقبل کی تشکیل میں امریکا کے ساتھ تعاون کریں۔ ٹرمپ نے کہا ’ہم دنیا بھر میں ایرانی سفارتکاروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پناہ کی درخواست دیں اور ایک نئے اور بہتر ایران کی تشکیل میں ہماری مدد کریں۔‘

بعد ازاں امریکی ٹی وی چینل این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت امریکا ایران میں زمینی فوج بھیجنے کے امکان پر غور نہیں کر رہا۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ حالیہ لڑائی میں ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق ایران کا فضائی دفاعی نظام تقریباً ختم ہو چکا ہے، ایران کی فضائیہ اب عملی طور پر موجود نہیں رہی، ایرانی طیارے اور مواصلاتی نظام تباہ ہو چکے ہیں۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے تقریباً 60 فیصد میزائل اور 64 فیصد لانچرز تباہ کر دیے گئے ہیں جبکہ ایرانی بحریہ کے 24 جہاز بھی تباہ ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ  ان کی بحریہ بھی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

امریکی صدر نے تہران پر الزام لگایا کہ ایران ماضی میں قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی خلیجی ممالک کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو نشانہ بنانا چاہتے تھے، لیکن ہم نے آ کر ان کے منصوبے ختم کر دیے۔

ٹرمپ نے اس سے قبل خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا ایران کی آئندہ قیادت کے انتخاب میں کردار ادا کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے ابتدائی مرحلے میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے۔ ٹرمپ نے ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا ممکنہ نیا رہنما بننے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’کمزور امیدوار‘ قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ورک فرام ہوم، سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں کمی، خیبرپختونخوا نے بھی اہم فیصلے کرلیے

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

ایران کا میزائل پروگرام تباہ کرنا ہمارا مقصد ہے، امریکی وزیر خارجہ

خیبرپختونخوا میں گلیشیائی جھیل پھٹنے کا خطرہ، پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

مشرق وسطیٰ جنگ: خلیج فارس میں رکے جہاز پر کئی پاکستانی پھنس گئے، کراچی کا رہائشی بھی شامل

ویڈیو

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان