واشنگٹن ڈی سی میں واقع تھنک ٹینک سنٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) کی رپورٹ کے مطابق، ایران پر امریکی جنگ کے ابتدائی 100 گھنٹوں میں لاگت تقریباً 3.7 ارب ڈالر رہی، یعنی روزانہ 891.4 ملین ڈالر۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی فضائی مہم میں مہنگے ہتھیاروں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی وجہ سے لاگت زیادہ آئی، تاہم وقت کے ساتھ امریکا کم قیمت والے ہتھیار استعمال کر کے اخراجات کم کر سکتا ہے۔
مزید فنڈز کی ضرورت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیکس کے اشاروں کے مطابق جنگ ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے پاسداران نے مغربی ایران میں امریکی F-15 طیارہ تباہ کر دیا
سی ایس آئی ایس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دفاعی محکمے کو اس جنگ کے لیے موجودہ بجٹ سے زیادہ فنڈز کی ضرورت ہوگی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے:
’یہ جنگ غیر متوقع اخراجات پیدا کرے گی… اور بجٹ میں کمی کے باوجود اس تنازعے کو داخلی طور پر چلانا سیاسی اور عملی طور پر مشکل ہوگا‘۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی فضائی حملے مہنگے ہتھیاروں کی وجہ سے زیادہ خرچ کرتے ہیں، لیکن جیسے ہی امریکا کم قیمت ہتھیاروں کی طرف منتقل ہوگا، اخراجات میں کمی آئے گی۔
تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس جنگ کے دوران بجٹ میں غیر متوقع اخراجات کافی اہم ہوں گے اور دفاعی محکمے کو اضافی مالی وسائل کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔













